بنگلہ دیش اور دبئی نے اپنی آزادی اور مملکت کا پچاس سالہ جشن منایا۔ دونوں ممالک میں خوشحالی 10فی صد بڑھی ہے۔ دبئی میں تیل نہیں ہے۔ ابوظہبی میں تیل ہے۔ مگر دبئی کے حکمرانوں نے ترقی کے اتنے دروازے کھولے ہیں کہ ہر دس منٹ بعد ایک جہاز اترتا ہے۔ وہ خود کو اسلامیہ سلطنت بھی نہیں کہتے۔ دنیا میں رائج جائز اور ناجائز نصیحتوں کو نہ مانتے ہوئے میڈیا سٹی، میڈیکل یونیورسٹیاں اور ساحل سمندر پہ ہر طرح کی آزادی سیاحوں کے لئے میسر ہے۔ بنگلہ دیش میں آج کل اسلامی کا لفظ ملک کے نام سے ہٹانے کا قانون زیر غور ہے۔ عورتوں کو فیکٹریوں میں مراعات کے باعث، زیادہ تر فیکٹریوں نے عورتیں کو ملازم رکھا ہوا ہے۔ فلم انڈسٹری بھی عروج پر ہے اور میڈیا بھی آزاد ہے۔ بنگلہ دیش میں طوفان بہت آتے ہیں۔ جھونپڑیوں کی جگہ خالی زمین رہ جاتی ہے۔ لوگ ان آفتوں کے عادی ہیں۔ وہ اگلے دن خود ہی ایک اور جھونپڑی کھڑی کر لیتے ہیں۔ پہلے صرف پٹ سن کی پیداوار تھی، جس پر مغربی پاکستان کی معیشت چلتی تھی۔ اب دس فی صد ریڈی میڈ کپڑوں کی برآمد کرنے کے باوجود، ان میں یہ غرور نہیں ہے کہ ہم نے ایٹم بم بنایا ہے۔ ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ قرضوں نے ہمیں دیوالیہ پن تک پہنچا دیا ہے۔ مگر ہم ہر روز کوئی نہ کوئی تماشہ کرنےکے لیے میڈیا پہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تو بلا سود ایک کروڑ روپے بھی نوجوانوں کو کاروبار چلانے کے لئے دے سکتے ہیں۔ گھروں کے لئے 50لاکھ دے سکتے ہیں۔ خود ہی حکومت سوال کرتی ہے۔ آخر نوجوان آگے کیوں نہیں آرہے۔ سبب یہ ہے کہ بینکوں کے اسٹاف نے تیرے، میرے کی بنیاد پر قرض کی شرط رکھی ہے۔ لوگ آتے ہیں۔ طریق کار دیکھ کر واپس لوٹ جاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اس طریقے کے قرض سے تو چھابڑی لگانا بہتر ہے۔ خوشحالی بینک ہو کہ بد حالی بینک۔ لچھن ایک جیسے ہیں۔ چین بھلا ہم سے ناراض کیوں ہے۔ سی پیک کے پیسے سڑکوں پر کم لگے اور اسٹاف کے نام پر زیادہ کھائے گئے ہیں۔ بہت سے کمانے والے یورپ جا چکے ہیں۔ ان کی تلاش بھی نہیں، خاموشی طاری ہے۔
جب بنگلہ دیش آزاد ملک بنا تو اس وقت بہاریوں نے ان کو حاکم ماننے سے انکار کیا، اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ حکومت نے پاکستان کو کہا کہ وہ تم کو زندہ باد کہتے ہیں، یہ ہمارے شہری نہیں۔ انہیں لے جائو۔ پاکستان کی حکومت نے ہر کام کی طرح لیت و لعل سے کام لیا۔ پچاس برس سےوہ بستی بہاری بستی ہے۔ وہ نہ زمین کے ہیں اور نہ آسمان کے۔ بلکہ جو بنگالی اور بہاری کراچی آگئے تھے۔ ان کی بھی الگ بستی بنا دی گئی ہے وہ حقوق بھی نہیں مانگتے، کونے میں پڑے ہیں۔ اسی طرح تیس لاکھ افغانیوں کو تیس برس سے پال رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اگر کسی بچے کی شادی کریں تو کابل جاکر دلہن لاتے ہیں۔ اس وقت کابل بلکہ افغانستان دولت اسلامیہ بن چکا ہے۔ وہاں واپس جانے کو کوئی تیار نہیں۔ ملک کے بیشتر ٹرانسپورٹ اداروں پر افغانیوں کا قبضہ ہے۔ حکومت کراچی میں الیکشن کر کے دیکھ لے، کتنے افغانی کامیاب ہونگے اور یہ لسانیات کا چکر چلانے والے سودے بازی ہی میں لگے رہیں گے۔ بقول حامد کرزئی، انہوں نے طالبان کو دعوت دی کہ میدان صاف ہے۔ آگے بڑھو اور قبضہ کرو۔ بس پھر کیا ہوا۔ یہ نقشہ 14؍اگست سے دیکھ رہے ہیں۔ نہ کابینہ بنتی ہے۔ نہ بجٹ، نہ قانون، نہ کرنسی وہ خود ساختہ لیڈر اب حامد کرزئی کو منہ بھی نہیں لگا رہے کہ وہ قابض ہو جائے اور انکے کانفرنسوں میں جانے کے عیش ختم ہو جائیں۔ ساری دنیا، افغانستان کو افغانستان ہی کہہ رہی ہے۔ بس ان کا جھنڈا اور کالی سفید پگڑیاں، ملک کی گواہی دے رہی ہیں مگر ملک افغانستان کا نام سلامت ہے۔
دولت اسلامیہ کے کرتوت بھی آجکل منظر عام پر نہیں ہیں۔ البتہ 60خواتین دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کو گئیں۔ یہ سب برطانوی تھیں۔ جرمنی اور ڈنمارک سے 11 خواتین 37 برطانیہ سے اور دیگر ممالک سے، ترینہ شکیل نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اپیل کی کہ وہ جس جہاد کے لئے گئی تھیں۔ وہ فتنہ خیزی نکلا اور اب وہ اس کے خلاف ہیں۔ اپنے ملکوں کو واپس جانا چاہتی ہیں۔
ایک اور نقشہ جو پاکستان میں کھل رہا ہے بلدیاتی الیکشن میں پیسے تقسیم کرنے والے جو کشمیر میں بھی اپنی زلفوں کے ساتھ نظر آئے تھے۔ ان کا جادو اب نہیں چلا۔ مار کٹائی اور پٹھانوں کا غصہ تو مشہور ہے۔ اس کے باوجود کہ گیارہ پریزائیڈنگ آفیسرز اغوا ہو چکے تھے۔ پھر بھی نتائج ریاست مدینہ کے تصور کے مطابق نظر نہیں آئے۔ البتہ مولانا کی پارٹی کے لوگوں نے جیتنے کے بعد، دیگر اوچھی پارٹیوں کی طرح نہ ہوا میں گولیاں چلائیں اور نہ پٹاخے چھوڑے۔ مولانا صاحب بہت سیانے ہیں۔ وہ طالبان کی طرح بد نظمی کا شکار نہیں ہونگے۔ اب تو مذہب کے ٹھیکیدار بھی حکومتی کمیٹیوں میں شامل ہیں۔ شاید مولانا سوچیں ’’میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلمان ہو گیا‘‘۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

