خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعود خان کا کالم : کوٹ ڈیجی کے محلات اور چنیوٹ کا عمر حیات محل

کوٹ ڈیجی کے شاندار لیکن خستہ حال قلعے کے صفن صفا برج سے میں نے چاروں طرف نظریں گھمائیں۔ ہر طرف ایسی شاندار حویلیوں پر نظر پڑی جو خاک کے ساتھ خاک ہو رہی تھیں۔ کبھی یہ سب حویلیاں آباد بھی تھیں اور ان کی آب و تاب ایسی تھی کہ ان پر آنکھ نہیں ٹھہرتی تھی۔ یہ ریاست خیرپور کے تالپور میروں کے محل تھے۔ تالپوروں کے ایک سو بہتر سالہ اقتدار کی نشانیاں، شاہی محل عرف شیش محل، سفید محل عرف سفید اوطاق، ٹکر بنگلو اور دیگر میر صاحبان کی رہائش گاہیں۔ ان میں سے صرف ٹکر بنگلو ہی اس قابل ہے کہ استعمال ہو سکے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ محل اب بھی ریاست خیر پور کے آخری فرمانروا میر علی مراد تالپور اور ان کے اہل خانہ کے زیر استعمال ہے۔
کبھی یہ ایک خوشحال اور کسی حد تک خود مختار ریاست تھی۔ 1783ء میں ہلانی کی جنگ سندھ کے قدیم حکمران کلہوڑہ خاندان اور سندھی بولنے والے بلوچ قبیلے تالپور کے مابین ہوئی تھی۔ اس جنگ میں کلہوڑوں کو فیصلہ کن شکست ہوئی اور سندھ کا اقتدار تالپوروں کے پاس آ گیا۔ جنگ کے خاتمے پر سندھ کا اقتدار میاں عبدالنبی کلہوڑو سے میر فتح علی خان تالپور کے پاس آ گیا۔ تالپوروں کا مرکزی دارالحکومت تو حیدر آباد تھا، اور تالپوروں کا پہلا رئیس میر فتح علی خان تالپور قرار پایا؛ تاہم میر فتح علی تالپور نے خیر پور، میر پور خاص اور ٹنڈو محمد خان پر تین مختلف تالپور حکمران مقرر کر دیے۔ خیر پور اس کے بھتیجے میر سہراب خان تالپور کے حصے میں آیا۔ تھارا خان تالپور کو جو علاقہ ملا وہ بعد ازاں میر پور خاص کے نام سے آباد شہر کے زیر انتظام رہا۔ میر پور خاص تھارا خان تالپور کے بیٹے علی مراد تالپور نے آباد کیا جبکہ میر محمد خان تالپور کے حصے میں ٹنڈو محمد خان کا علاقہ آیا۔ تالپوروں نے سندھ پر 1783 سے 1843 تک چالیس سال حکومت کی۔ 1843 میں میانی کی جنگ میں تالپوروں کو انگریزوں کے خلاف جنگ میں شکست ہوئی۔ میانی کے معرکہ میں انگریز فوج کی کمانڈ چارلس نیپئر جبکہ تالپور لشکر کی قیادت میر ناصر خان تالپور کر رہا تھا۔ سندھیوں کی فوج کا کمانڈر جنرل ہوش محمد شیدی عرف ہوشو شیدی تھا۔ ہوش محمد شیدی، میر جان محمد، طلحہ خان نظامانی، عبداللہ خان، علی بنگش، میر مبارک خان بہرانی، میر غلام شاہ، گوہر خان حالی زئی اور نصیر خان شہید ہونے والے سردار تھے جبکہ میدان جنگ سے فرار ہونے والے سرداروں کی فہرست اس کے مقابلے میں کہیں لمبی ہے۔ جنگ میانی میں شکست کے بعد سندھی لشکر دوبارہ میر شیر محمد خان تالپور کی سربراہی میں ڈابو میں اکٹھا ہوا؛ تاہم اس جنگ میں شکست نے سندھ کی قسمت پر مہر لگا دی اور سندھ انگریزوں کے زیر نگین آ گیا۔
ریاست خیر پور کے حکمران ان دونوں جنگوں سے بالکل لا تعلق رہے اور اپنی حکومت بچانے میں کامیاب ہوئے۔ 1843 کے بعد خیرپور انگریزوں کی باجگزار ریاست کے طور پر قائم رہی جبکہ بقیہ سارا سندھ براہ راست انگریزی عملداری میں آ گیا۔ ریاست خیر پور کا بانی میر سہراب خان تالپور 1783 سے 1829 تک چھیالیس سال تک حکمران رہا۔ اس کے بعد پہلے اس کا بڑا بیٹا محمد رستم خان تالپور اور بعد ازاں دوسرا بیٹا میر علی مراد خان تالپور اول حکمران بنا۔ ریاست کا چوتھا حکمران میر علی مراد کا بیٹا میر فیض محمد خان تالپور اول بنا۔ تالپوروں کی زیادہ تر تعمیرات اسی چوتھے حکمران میر فیض محمد خان تالپور نے کیں۔
ابھی میں اسد کے ساتھ میر سہراب خان تالپور کے تعمیر کردہ قلعہ کوٹ ڈیجی سے تھوڑی دور ہی تھاکہ میں نے اسے سامنے پہاڑی پر تعمیر کردہ اس اونچے قلعے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ وہ سامنے ایک حیرت ناک قلعہ ہے‘ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کبھی فتح نہیں ہوا‘ اور اس کی وجہ عموماً لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ قلعہ شاید اپنی بلندی اور مضبوطی کے باعث فتح نہیں ہوا ہوگا‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس بلندوبالا اور محفوظ قلعے نے جنگ کی شکل تک نہیں دیکھی۔ 1790 کے لگ بھگ تعمیر ہونے والے اس قلعے نے ساری عمر جنگ کے بغیر گزاری۔ اس پر پڑی ہوئی ستر پچھتر کے لگ بھگ توپیں بغیر کسی جنگ میں استعمال ہوئے عجائب خانوں، محلوں اور بازاروں کی زینت بن گئیں‘ اس کے باوجود اس قلعے کی جغرافیائی اور تعمیراتی خوبیاں اسے بہترین دفاعی قلعے کے طور پر بہت نمایاں کرتی ہیں۔
لائم سٹون پہاڑی کی چوٹی پر بنا ہوا یہ قلعہ زمین سے تقریباً سو فٹ اونچا ہے اور اس کی مضبوط دیواریں تیس فٹ سے زیادہ بلند ہیں۔ اس میں داخلے کا راستہ سیدھا نہیں، بلکہ بل کھاتا ہوا اوپر جاتا ہے اور ہر تھوڑی دیر بعد ایک مضبوط دروازہ آ جاتا ہے۔ قلعے کے کل تین حفاظتی دروازے ہیں، جن پر لمبی نوکدار برچھی نما کیلوں کو میخوں کی طرح باہر کی سمت گاڑا گیا ہے۔ سو فٹ کے لگ بھگ بلندی پر جانے کے لیے اسی سے زائد سیڑھیاں اور ڈھلوان دار سڑک سے چڑھ کر اوپر پہنچتے ہوئے میرا تو دم پھول گیا۔ اوپر پہنچ کر ہمارا گائیڈ دانش علی مجھ سے پوچھنے لگا: آپ سامنے والے صفن صفا برج پر چڑھیں گے؟ صرف پچاس فٹ مزید بلند ہے، میں نے دونوں طرف سے کسی حفاظتی دیوار وغیرہ سے عاری سیڑھیوں کو دیکھا اور انکار کرنے ہی لگا تھاکہ ایک دم خیال آیا‘ خدا جانے مجھے پھرکبھی یہ موقعہ ملے یا نہ ملے‘ زندگی وفا کرے نہ کرے اس لیے اسے غنیمت جانوں اور اللہ کا نام لے کر چڑھ جائوں۔ میں نے دائیں بائیں دیکھے بغیر سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دیں اور برج کے اوپر پہنچ گیا۔
صفن صفا برج کا یہ نام تب اس پر نصب ایک توپ کے نام پر پڑا، جو اب شاید خیر پور شہر میں ایک چوک پر دھری ہوئی ہے۔ برج کے جنوب اور جنوب مغرب میں تالپور حکمرانوں کے پرانے گھر ہیں۔ سامنے پہاڑی کی کگر پر بنا ہوا ٹکر محل آباد ہے اور باقی سب محل یا تو کھنڈر بن چکے ہیں یا اس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ سفید محل اور سشیش محل، گزشتہ بار کی نسبت زیادہ برباد ہو چکے تھے۔ برسوں پہلے آیا تھا تو شیش محل کی دیوار جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی، اس بار دیوار کا بیشتر حصہ غائب ہو چکا تھا۔ دروازے مزید خستہ ہو چکے تھے۔ چھت پر چڑھنے کی جگہ تب بھی نہ مل سکی اور اس بار بھی محروم ہی رہا۔ دیواروں پر نقاشی، شیشہ کاری اور رنگوں کی بہار وقت کی دھول نے ماند کر دی تھی، لیکن نقاشی اب بھی ایسی دل آویز کہ عقل دنگ رہ جائے اور نظریں حیرت اور استعجاب سے پتھرا جائیں۔ فرش پر ریگزین بچھی ہوئی تھی کہ نیچے والا فرش خراب نہ ہو جائے، لیکن اب وہاں خراب ہونے کے لیے بچا ہی کیا تھا؟ دروازوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے، برآمدے کی سیڑھیاں ختم ہورہی تھیں اور محرابیں رنگ و روپ کھو چکی تھیں، لیکن سفید مٹیالی عمارت کی وسعت اور خوبصورتی ایسی تھی کہ نظریں ہٹانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا اور اس برباد ہوتے ہوئے ورثے پر ملول تھا۔ یہی حال سفید محل کا تھا۔ سندھی، راجستھانی اور سکھ طرز تعمیر کا ملا جلا شاہکار بس کسی دم کا مہمان لگتا تھا۔ اگر فن تعمیر کے یہ نمونے کسی زندہ معاشرے میں ہوتے تو حکومت اس کی حفاظت کرتی کہ یہ میروں کا نہیں، دھرتی کا ورثہ ہے اور خواہ یہ پرائیویٹ پراپرٹی ہی کیوں نہ ہو، اس کی تعمیر و مرمت کا ذمہ اٹھانا حکومت کا کام ہے۔ اس قسم کے ثقافتی ورثے کی حفاظت اور سرپرستی حکومتیں ہی کرتی ہیں، لیکن حکومت تو ان چیزوں کی حفاظت نہیں کر پا رہی، جو براہ راست اس کی ملکیت میں آ چکی ہیں، جیسے کوٹ ڈیجی کا قلعہ۔ کوٹ ڈیجی میں میروں کے محلات کی طرح چنیوٹ میں لکڑی کے کام والا حیرت ناک حد تک خوبصورت اور نفیس عمر حیات کا محل بھی اسی طرح برباد ہو رہا ہے۔ حفاظت تو رہی ایک طرف، اس کی تو کھڑکیاں تک اکھاڑ کر عجائب گھروں میں سجائی جا چکی ہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker