ایم آر ملکتجزیےلکھاری

ایم آر ملک کا فیچر : چائے پانی کے بعد سب سے زیادہ پیئے جانے والا مشروب

چوبارہ روڈ پر نہر سے تھوڑا مغرب کی جانب لیہ شہر میں ایک سٹور جنوبی پنجاب کا ٹی ہائوس ہے ۔شہر اور شہر سے باہر عازم سفر اگر آپ کو سردی لگ رہی ہے تو یہ آپ کو گرم کرتی ہے اور اگر آپ کا دماغ گرم ہو رہا ہے تو یہ اسے ٹھنڈا کرتی ہے یا آپ تناؤ کا شکار ہیں اور ریلیکس ہونا چاہتے ہیں تو بھی یہ حاضر خدمت ہے۔جی جناب !بالکل وہی ہے جو اس وقت بھی اخبار کی ورق گردانی کرتے ہوئے آپ کے ہاتھ میں ہوگی۔یہی ہر محفل کی جان اور ہر گھر کی میزبان ’’چائے ‘‘ہے۔
چائے ایک بہانہ ہے اپنوں کے ساتھ وقت گزارنے کایا مل بیٹھنے کا، لمبے سفر کے دوران کسی ریلوے اسٹیشن پر چند پل سستانے کا جی ہاں ایک دور تھا جب ریلوے سٹیشن آباد تھے تب رات گئے تک گاڑیاں آتی تھیں اور ریلوے کے کسی بنچ پر بیٹھے کسی آنے والے کا انتظار ہوتا تھا اور جب کوئی اپنا رخصت ہوتا تو بھی چائے ہی جانے والے کی فرقت کو کم کرنے کا موجب بنتی مگر جب سے گاڑی کی آمدورفت ایک خواب بنی ہے ریلوے سٹیشنوں پر چائے کے سٹال بھی ماضی کا قصہ بن گئے ہیں۔ امتحانوں کے موسم میں جب سردیوں کے جاڑوں میں کوئی طالب علم کمبل اوڑھے یا لحاف لپیٹے ورق گردانی کرتے کرتے تھک جاتایا رات کے کسی پہر نیند سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگتیں تو اسے چائے ہی ایک سہارے کے طور پر نظر آتی جسے پی کر وہ پہروں مطالعہ کرتا۔ ہماری ثقافت اور روایات کے رنگوں میں چائے کا رنگ بھی رنگ گیا کوئی بھی محفل یاتقریب چائے کے بغیر نامکمل ہوتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں یہ فقرہ زبان زد عام ہوتا ہے کہ ’’چائے دکھوں کی ٹیک ہے ‘‘آپ کسی بھی مہمان کی جتنی خاطر مدارت کر لیں جتنے بڑھیا کھانے اس کے سامنے رکھ کر دستر خوان سجا دیں آپ نے مہمان کو چائے نہیں پلائی تو اس کے گلے کی زد میں بدستورآپکی ذات موجود رہے گی کہ ’’فلاں آدمی نے چائے نہیں پلائی ‘‘اخبارات کے دفاتر میں جب کاپی رات کے پچھلے پہر تیار ہوکر جاتی تو سب ایڈیٹنگ کے شعبہ کے اکثر افراد چائے کی طلب محسوس کرتے شاید آج بھی ا یسا ہوتا ہو کیونکہ کسی دور میں اخبار کی مکمل تیاری کے بعد اور تیاری کے دوران چائے کا دور ہمارے کلچر کا حصہ ہوا کرتا تھا ۔
دنیا بھر میں پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب چائے ہے۔یہ دنیا کے ہر خطے میں یکساں مقبول ہے اور ہر ملک میں وہاں کے رواجوں کے مطابق پیش کی جاتی ہے۔پاکستان اور بھارت میں دودھ پتی چائے کے ساتھ سموسے اور بسکٹ پیش کیے جاتے ہیں۔لاہور کے لکشمی چوک میں بہت عرصہ پہلے کشمیری چائے کیلئے رش ہوا کرتا تھا، ایبٹ روڈ پر اخبارکے دفتر کے لوگ اس چائے کا خوب لطف اُٹھاتے ہیں۔کشمیر میں گلابی چائے سیاحوں اور مہمانوں کے لیے خاص سوغات ہے جسے مقامی زبان میں ”نون چائے’’کہتے ہیں۔ایران اور ترکی میں سیاہ چائے (بلیک ٹی)، یورپ اور امریکا میں گرین ٹی اور ملک ٹی، چائنا میں الونگ ٹی اور وائٹ ٹی جب کہ عربستان میں عربی قہوے کے علاوہ ’’چائے کڑک‘‘بھی کافی مقبول ہے۔چائے کے اوقات کے لیے بیڈ ٹی، مارننگ ٹی، ایوننگ ٹی اور ہائی ٹی کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔
چائے، کئی مسائل کا حل
چائے کی پتی میں موجود تھی انیں انسانی دماغ کو چست اور الرٹ کرتا ہے،کھانسی اور نزلہ زکام کے لیے ادرک کی چائے مفید ہے،روزانہ ایک سے تین کپ سبز چائے نہ صرف جسم کی زائد چربی گھٹانے میں مددگار ہے بلکہ اس میں موجودآکسیڈنٹس جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں، جس سے نہ صرف دل کا دورہ پڑنے کے خطرات کم ہوتے ہیں بلکہ یہ کینسر سے لڑنے کی طاقت بھی پیدا کرتی ہے۔جاپان میں کہاوت ہے کہ اگر آپ چائے پیتے ہیں تو آپ پوری زندگی کھل کر مسکرا سکتے ہیں،ان کا ماننا تھا کہ چائے آپ کے دانتوں کو کیڑا لگنے سے بچاتی ہے چوںکہ ہر چیز ایک حد میں اچھی لگتی اور ہوسکتا ہے چائے آپ کو بے حد اچھی لگتی ہے مگر اس کا بکثرت استعمال معدے کے لیے نقصان دہ ہے۔
چائے کی تاریخ
چائے کی کہانی سولہویں صدی میں چین میں شروع ہوئی۔کہا جاتا ہے چین کے بادشاہ شین ننگ ایک چائے کے درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا وہیں اس کا غلام اس کے لیے پانی ابال رہا تھا، اسی وقت درخت سے کچھ پتے ابلتے ہوئے پانی میں گرے۔شین ننگ کو اس نئے فیوژن کو ٹرائی کرنے کی سوجھی اور یوں یہ جادوئی مشروب اتفاقاََایجاد ہوا۔چائے 1606 میں پہلی مرتبہ پرتگالی تاجروں کے ذریعے چین سے ہالینڈ میں درآمد کی گئی اور یورپ و امریکا میں متعارف ہوئی اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی چین میں اجارہ داری ختم ہونے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے برطانیہ میں چائے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے برصغیر میں چائے کی کاشت کو بڑھایا اور چائے بنانے اور پینے کے آرٹ کو فروغ دیا۔کئی اخبارات کے مالک میاں افتخارالدین کی فیملی انڈیا میں چائے کے باغات کی مالک تھی۔
پاکستان میں چائے کلچر
پاکستانی عوام چائے کے بے حد شوقین واقع ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں چائے کی پتی درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے یہاں 38 مختلف ممالک سے چائے درآمد کی جاتی ہے، جن میں کینیا، انڈیا، برونڈی اور تنزانیہ وغیرہ شامل ہیں۔کھلی چائے کی پتی 540 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتی ہے روشنیوں کے شہر میں ایمپرس مارکیٹ میں جائیں تو جابجا کھلی چائے بکتی آپ کو نظر آئے گی پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق گھر کے کل اخراجات کا ایک تہائی حصہ چائے کی مصنوعات پر خرچ ہوتا ہے ۔امریکا کی بیسٹ سیلنگ کتاب کا نام’’ Three cups of Tea‘‘گلگت بلتستان کی ’’بلتی ‘‘کہاوت پر رکھا گیا ہے جس کے مطابق کسی بلتی کے ساتھ پہلی مرتبہ چائے کی پیالی پیتے وقت آپ ایک اجنبی، دوسری پیالی پر ایک معزز مہمان جب کہ تیسری بار آپ اس کے فیملی ممبر بن جاتے ہیں۔آپ کہیں بھی مہمان بن جائیں آپ کو چائے پانی کا ضرور پوچھا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں سردیوں میں کافی پینے کا بھی رواج ہے مگر چائے کی طلب کسی موسم کی محتاج نہیں موسم چاہے زرد پتوں کی خنک شاموں کا ہو یا سرد طویل راتوں کا، گرم چلچلاتی لمبی دوپہروں کا ہو یا رم جھم ساون کے برسنے کا ہو، چائے کا موسم پاکستان میں گویا لوڈشیڈنگ کا موسم ہے، جو سال کے بارہ مہینے چلتا ہی رہتا ہے.پاکستان میں ڈھابے کی دودھ پتی چائے سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہے. جہاں اکثر طالب علموں، پیشہ ور حضرات اور مزدوروں کا رش لگا رہتا ہے آج بھی اکثر لوگ ان ڈھابوں سے گڑ کی چائے کی طلب کرتے نظر آتے ہیں جب کہ خواتین کا ڈھابوں میں بیٹھنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔معروف سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی مرحوم نے کہا تھا کہ پاکستان ترقی اس وقت کریگا جب ملک سے چائے اور سگریٹ کو ختم کیا جائے۔اس لئے کہ ہمارے عوام چائے کی چسکیاں اور سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے پاناماگیٹ اسکینڈل، کپتان کے لاک ڈاؤن ،پی ڈی ایم کی تحریک سے لے کر انڈیا کی ہٹ دھرمی، امریکی انتخابات ،امریکہ کی خارجہ و داخلہ پالیسی ،ضلعی سیاست کے بدلتے رنگ غرض ہر مسئلے پر تبصرے و تجزیے کرتے ہیں مگر پورا کام نہیں کرتے۔ چائے کی پیالی میں سیاسی طوفان اُٹھتے ہیں جب بحث و تکرار کرنے والے بیٹھے بیٹھے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرلیتے ہیں مگر افسوس کہ خود چائے اور سگریٹ ہی پیتے رہ جاتے ہیں۔
ڈھابوں کے علاوہ چائے خانے اور کیفے چائے کے ساتھ دوسرے لوازمات بھی آفر کرتے ہیں کراچی میں چائے والا، کیفے کلفٹن اور چائے ماسٹر مشہور ہیں جب کہ لاہور کے ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ کو تاریخی حیثیت حاصل ہے جو ادبی شخصیات کا مرکز رہا تھا اور اسی مناسبت سے اسے حلقہ ارباب ذوق کا نام دیا گیا تھایہیں چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے فیض صاحب نے انقلابیت، حبیب جالب نے سیاست، انشا جی نے مزاح، احمد فراز نے رومانیت اور منٹو نے تلخ حقائق کے افسانے بُنے تھے ۔ملتان میں .ہمارے شاعروں نے بھی چائے کے رنگ کو اپنے شعروں میں گھول دیا ہے۔شاعری میں محبوب کی یاد کو کتابوں میں ملے پھول سوا تو کر ہی دیتے ہیں مگر کچھ شاعروں کو چائے کی پیالی میں صورتِ یار بھی نظر آتی اور کسی کی چائے یادِ یار میں ٹھنڈی بھی ہوجاتی اور محبوب کے ہاتھ کی بنی چائے تو صد یک بار ہی کسی کو نصیب ہوئی ہے،ایسے ہی کسی شاعر نے کہا:
ملی بہت یوں تو زمانے بھر کی خوشی
وہ تیرے ہاتھ کی چائے نہ پھر ملی مجھ کو
ملتان کا’’ با با ہوٹل‘‘ اب کہاں!
جنوبی پنجاب کے دانشور رضی الدین ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواں شہر چوک میں کبھی بابا ہوٹل ہوا کرتا تھا، یہ ملتان کے ادیبوں کا پاک ٹی ہاؤس تھا۔ میں 1983 ء میں جب پہلی بار بابا ہوٹل گیا تو پہلی میز پر حیدرگردیزی اور ارشد ملتانی جلوہ افروز تھے۔پھر یہ ہوٹل میرے معمولات کا حصہ بن گیا۔ ہوٹل میں داخل ہوتے ہی سگریٹ کا دھواں،چائے کی مہک اور مختلف میزوں سے ابھرنے والی آوازیں آپ کواپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔عموماً ڈاکٹر محمد امین بھی اپنی سرخ رنگ کی بائیک پر آتے تھے۔ دوپہر کے 12بجے کے بعد بابا ہوٹل میں ان کی مخصوص آواز سنائی دیتی تھی۔’’محمد امین سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ نوجوانو! میں نے لال کتاب میں تمہارا نام لکھ لیا ہے۔میں تمہاری شکایت کروں گا۔‘‘ایسا ہی ایک خوبصورت انداز پروفیسر انور جمال کاہوتاتھا۔حیدرگردیزی کا بلند آہنگ قہقہہ سنائی دیتا تھا۔اور وہ محبت بھرے لہجے میں ڈاکٹر امین کو ’’ڈاک دار امین ‘‘کہتے تھے کہ امین صاحب شہر بھر کی خبریں اپنے ساتھ لاتے تھے اور پھر سرگوشی کے انداز میں بلند آواز کے ساتھ سب کچھ شاہ صاحب کے گوش گزار کر دیتے تھے۔ارشدملتانی صرف مسکراتے تھے اور اس سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے اس ماحول سے لطف اندوزہوتے تھے۔
صحافیوں میں سعید صدیقی اس ہوٹل کے مستقل رکن تھے۔سیاسی کارکن، ریڈیو کے صداکار،سٹیج کے اداکار،وکلاء سمیت ہرشعبہ زندگی سے تع رکھنے والی شخصیات کی آمدورفت یہاں دن بھر جاری رہتی تھی۔یہیں ہم قمرالزماں بٹ کوبھی دیکھتے تھے جو اب نامورماہرقانون ہیں۔ خورشید خان، ملک بشیر اعوان، صادق خان، طفیل ابن گل، قمررضا شہزاد، غضنفر علی شاہی، نذرعباس بلوچ، اقبال ناظر بلوچ، ہاشم خان، کرامت گردیزی، منیر فاطمی، محسن گردیزی، اختر شما، اطہر ناسک۔غرض کس کس کا نام لوں سب اپنے اپنے شعبے کی پہچان لیکن ان سب کامرکز بابا ہوٹل تھا۔ شام ڈھلتی تو کچھ لوگ گھروں کوچلے جاتے اورپھر قاتلانِ شب کی آمد کاسلسلہ شروع ہوجاتا۔ ایک چہکتی ہوئی آواز اقبال ارشد کی سنائی دیتی۔وہ ہوٹل میں داخل ہوتے تو دور سے ہی ایک ایک کا نام لے کر مخصوص انداز میں گفتگو شروع کر دیتے۔”رضی، بھئی تم نے بہت خوبصورت مضمون لکھا۔۔او یارطفیل تیرے کالم کا تولطف آگیا۔۔ خورشید خان تمہاری طبیعت اب کیسی ہے۔ پھر ایسی رونق لگتی کہ بس لطف آجاتا۔کوئی سہرا لکھوانے آیا تو حیدرگردیزی نے بلند آواز میں ایک مصرع کہا اورسب نے مل کر سہرا کہنا شروع کردیا۔’’معطر سہرا‘‘کی زمین میں ایک بار کسی کا سہرا لکھتے ہوئے یہ شعر بھی بابا ہوٹل میں ہی کہا گیا تھا۔
وصل کی رات یہ دلہن نے کہا دولہے سے
تُو تو زنخا ہے، نکل بھاگ….اِدھر کر سہرا
غزل کی محفل بھی یہاں خوب جمتی تھی۔ایک باراقبال ارشد نے ارشد حسین ارشد کی موجودگی میں ارشدملتانی سے مخاطب ہوکر کہا
ہم تو ارشد ہی رہ گئے ارشد
لوگ ارشد حسین ارشد ہیں
مصرعوں میں توڑ پھوڑہوتی تھی،تخلص اور نام تبدیل کردیئے جاتے تھے۔طاہر تونسوی کو دھاڑ دھاڑ تونسوی کہا جاتاتھا۔ مشاعروں کے پروگرام یہیں بنتے تھے۔لوگوں کی غزلیں بھی مرمت کی جاتی تھیں اور مرمت کے دوران ان غزلوں میں مہمل مصرعے یا بے معنی اشعار بھی ڈال دیتے جاتے تھے اورشاعر بہت دھڑلے کے ساتھ انہیں مشاعروں میں پڑھ آتے تھے۔
یہیں ایک ہوٹل رائٹرز گلڈ کی تقریبات کا مرکز ہوتا تھا ۔ایک اور ہوٹل کا نظام جن دو بھائیوں کے پاس تھا وہ جناح کیپ اور اچکنیں زیب تن کرتے تھے اور ان کے مخصوص حلیے کی وجہ سے ہم ان دونوں بھائیوں کو ککڑ کہتے تھے۔مجوکہ نے وہاں مشاعرہ کرایا توہمارے سوا پورے شہر کومدعو کرلیا ہم سے بھلا وہ مشاعرہ کہاں ہضم ہوتا تھا۔ ہم نے ایک پی سی او سے ہوٹل فون کیا۔ایک شخص نے فون اٹھایا تو ہم نے بیوروکریٹک لب ولہجے میں صرف اتنا دریافت کیا ’اوے گدھے ، کیا تمہارے ہوٹل میں ملک دشمنوں کا اجلاس ہورہا ہے؟‘
’ ’نہیں سر،نہیں سر۔ یہ توشاعرجمع ہیں‘‘
’’شٹ اپ۔ ہم تمہارا ہوٹل بند کرنے آرہے ہیں‘‘
ٹیلی فون بند ہوتے ہی ان صاحب کی تو سٹی گم ہو گئی۔ انہوں نے شاعروں کے آگے رکھی پلیٹیں اٹھانا شروع کر دیں اور انہیں ہوٹل سے باہر نکال دیا۔ اظہر سلیم مجوکہ اور تمام شاعر اصرارکرتے رہے کہ ہم ملک دشمن نہیں ہم تو صرف شعر سنانے آئے ہیں لیکن اس نے شاعروں کی بانگیں سننے سے انکار دیا۔ مشاعرہ منسوخ ہوا۔شاعر اپنے گھروں کوگئے۔ وہ شخص بھی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر اپنی جناح کیپ سنبھالتا ہوا فرار ہو گیا۔ بابا ہوٹل کے باہر ہم حیدرگردیزی کے ساتھ بیٹھے اس منظر سے لطف اندوزہوتے رہے۔ پھر ایک ایک کر کے یہ سب ہوٹل بند ہوتے چلے گئے۔
بلوچستان کی سبز چائے
بلوچ، سبز چائے کے اس قدر عادی ہیں کہ اس کو آپ ان کا نشہ ہی سمجھیں جس میں ہر باسی مبتلا ہے۔ اب تو بلوچستان کے باسیوں نے سبز چائے کانام ہی بدل دیا ہے اور اب اسے گرین ٹی کہنا شروع کر دیا ہے۔ سبز چائے کا یہ مال ایران سے منگوایا جاتا ہے جس کو پٹی کہتے ہیں۔اگرچہ اب ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی گرین ٹی بیچنا شروع کر دی ہے لیکن جو فوقیت اس دیسی قہوے یا گرین ٹی کو حاصل ہے، وہ ٹی بیگ والی ٹی میں کہاں؟ہوٹل پہ مزدوری کرنے والے بیرے اَن پڑھ ضرور ہیں مگر اس سبز چائے کو گرین ٹی کے نام سے پکارتے ہیں۔ بلوچستان میں گرین ٹی انتہائی مہارت سے بنائی جاتی ہے۔ سب سے مزیدار گرین ٹی کوئلہ پہ تیار کی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرین ٹی صحت کے لیے انتہائی فائدے مند ہے۔ یہ جسم کی فاضل چربی کو کم کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔شاید اس لیے بلوچستان کی سبز چائے پورے ملک میں مشہور ہوگئی ہے۔ بلوچستان میں سبز چائے میں لیموں، الائچی، پودینہ اور ادرک بھی ڈالا جاتا ہے جو منہ کا ذائقہ تبدیل کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سبز چائے میں ادرک کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔ اس لیے اکثر جگہوں پہ سبز چائے کے اندر ادرک ڈالی جاتی ہے جسے پینے والے بہت پسند کرتے ہیں۔ایک نئی تحقیق کے مطابق سبز چائے کا استعمال ذیابیطس اور دل کے امراض سے بچاؤ بھی کرتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے سبز چائے کا استعمال ذیابیطس اور دل کے امراض سمیت کئی بیماریوں، مختلف بیکٹیریا اور وائرس سے بچاؤ فراہم کرتا ہے۔ ہاروڈ یونیورسٹی کے ماہرین کہتے ہیں کہ روزانہ سبز چائے پینے سے خون میں شوگر کے اضافے کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
بلوچستان کے لوگ جب بلوچستان کے علاوہ دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں تو سبز چائے کی دکان ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس چائے سے انسان کو پیچھا چھڑانے کے لیے بہت جتن کرنا پڑتے ہیں۔ ہمارے دادا کہتے تھے ہم سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں مگر سبز چائے چھوڑنا انتہائی مشکل عمل ہے۔ سبز چائے ہم اس دن چھوڑتے ہیں جس دن ہماری جان جسم سے نکل جاتی ہے۔ جس طرح نشئی، نشے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ہے، اس طرح ہم بلوچ سبز چائے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔بلوچستان میں کم از کم ہر بندہ دن میں 3 کپ سبز چائے ضرور پیتا ہے۔ ایک کروڑ 24 لاکھ لوگ بلوچستان میں بستے ہیں۔ اس حساب سے بلوچستان کی سرزمین پہ ہر روز کروڑوں روپے کی سبز چائے پی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پورے ملک میں سبز چائے پینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔ آج کل سبز چائے کا بخار پورے ملک میں چل پڑا ہے۔ سبز چائے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ سب سے پہلے یہ بات معلوم کریں کہ آپ روزانہ کتنے کپ سبز چائے پی جاتے ہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker