احترام رمضان آرڈیننس 1981ء جنرل ضیا الحق کے بہت سے تحائف میں سے اس قوم کو دیا گیا ایک ایسا تحفہ ہے جس نے دوران ِرمضان گزشتہ کئی برسوں سے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ 1981 سے پہلے بھی برصغیر میں رمضان کا مذہبی تہوار ایک ہزار سال سے منایا جا رہا تھا لیکن جس مذہبی جبر کا مظاہرہ پچھلے چالیس سال سے کیا جا رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی. مذہبی تہوار اگرچہ کسی ایک مذہب کے لوگ مناتے ہیں لیکن چونکہ یہ تہوار معاشرے میں اخوت اور بھائی چارہ پیدا کرتے ہیں اس لیے دوسرے مذاہب کے روشن خیال لوگ بھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔ مغربی ممالک اور یورپ میں بھی کسی مسلمان کا روزہ ہو تو دوسرے افراد احتراماً اس کے سامنے کھانے پینے سے اجتناب کرتے ہیں یا کم سے کم اس سے اجازت ضرور طلب کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب صرف ذاتی سطح پر ہوتا ہے۔
پاکستان میں رائج احترام رمضان آرڈیننس کے مطابق ہر بالغ شخص پر روزہ رکھنا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عوامی جگہ جیسے ہوٹل، ریسٹورنٹ، دفتر، دکان یہاں تک کہ اپنے گھر میں بھی روزے کے اوقات میں کھانا کھاتے اور پانی یا سگریٹ پیتے ہوئے پکڑا جائے تو اس پر پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، تین ماہ قید کی سزا دی جا سکتی ہے یا یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔ یہ مذہبی گھٹن کی انتہا ہے۔ ہسپتالوں میں بھی صرف مریضوں کو کھانے پینے کی اجازت ہے۔ بس یا ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر بھی صرف وہی لوگ کھا پی سکتے ہیں جن کے پاس 75 کلومیٹر سے زیادہ سفر کرنے کا ٹکٹ موجود ہو۔
پاکستانی عوام فطری طور پر اعتدال پسند ہیں۔ عوام کی اکثریت روزوں کا احترام کرتی ہے لیکن روزہ نہیں رکھتی۔ سچ تو یہ ہے کہ احترام رمضان آرڈیننس سے سبھی تنگ ہیں لیکن چونکہ یہ مذہبی لحاظ سے ایک حساس معاملہ ہے اس لیے کوئی اس کے خلاف بات نہیں کرتا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی موجود ہیں جو ظاہر ہے کہ روزہ نہیں رکھتے۔ لیکن وہ بھی اس قانون کی زد میں آ جاتے ہیں اور اس کے جبر کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ تو خیر بالکل ہی آواز نہیں اٹھا سکتے کیونکہ وہ پہلے ہی توہین مذہب کے جھوٹے الزامات کا شکار ہونے سے ڈرے ہوئے ہیں۔
یہ کالم لکھنے کا خیال مجھے آج اس وقت آیا جب میں نے ملتان ٹی ہاوس کے نگران جناب ارشد بخاری کو ایک ادبی تقریب منعقد کرنے کے حوالے سے فون کیا۔ میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے مجھے بتایا کہ ملتان ٹی ہاؤس احترام رمضان کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے۔ خیر میرے اصرار پر انہوں نے مجھے ایک دن کے لیے بعد از افطار ملتان ٹی ہاؤس میں تقریب منعقد کرنے کی اجازت دے دی جس پر میں ان کا بےحد ممنون ہوں۔ ساتھ ہی میں ان سے درخواست کروں گا کہ کم سے کم افطار کے اوقات میں تو ملتان ٹی ہاؤس کو ادیبوں اور شاعروں کے لیے کھول دیا جائے تاکہ ادبی اجتماعات کا سلسلہ تو جاری رہے۔ جہاں تک میرے علم میں ہے ملتان ٹی ہاؤس کے روح رواں مشہور مزاحیہ شاعر خالد مسعود ہیں جن کا تعلق انتہا پسند مذہبی پارٹی جماعت اسلامی سے ہے۔ جماعت اسلامی ہی وہ جماعت ہے جو اسی کی دہائی میں جنرل ضیا کے مذہبی جنون میں اس کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔ اس جماعت کو ہر انتخاب میں پاکستانی قوم مسترد کرتی ہے۔ حالیہ انتخابات میں بھی چاروں صوبوں میں اس جماعت کی خوب مٹی پلید ہوئی ہے۔
انسان دوست سیکیولر افراد تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور مذہبی رواداری کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ہم ہر طرح کے مذہبی، سیاسی اور سماجی جبر کی بھی بھرپور مخالفت کرتے ہیں چاہے وہ ہندوستان میں مودی سرکار کی طرف سے ہو یا پاکستان کی ملا ملٹری ریاست کی طرف سے۔
فیس بک کمینٹ

