کالملکھاریلینہ حاشر

انور مسعود کی کہانی : ان کی بیٹی کی زبانی ۔۔ لینہ حاشر

برسوں پہلے بھی قلم نے ہمت کرنے کی سوچی تھی۔ کانپتے ہاتھوں سے مدد مانگی تھی۔ سال ہا سال حروف سے بنائے گئے گھنے جنگلوں میں پھرتی رہی پر سب کچھ لا حاصل رہا ۔ جب یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ ایسے کوئی اچھوتے الفاظ جن کی مجھے تلاش تھی بنے ہی نہیں، جن سے اپنے والد کے بارے میں لکھ سکوں تو پھر اپنے ہی سیدھے سادھے انداز میں کچھ لکھنے کی جرات کر رہی ہوں۔ پہلے کچھ ان کے کلام کے بارے میں پھر ان کی زندگی کے بارے میں لکھنے کی کوشش کروں گی۔
یہ ہنسنے ہنسانے والے انور مسعود اپنے دل میں بہت دکھ سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان گنت دکھ تھے جن سے ان کا وجود سلگتا تھا اور یہ غم ان کی ذات تک محدود نہ تھے۔ انہوں نے زمانے کے دکھوں کو بھی اپنے اندر ہی سمیٹا۔ انہی غموں نے ان کے دل کو جلا کر راکھ کیا۔ پھر اسی راکھ میں اپنے آنسو ٹپکا کر قلم کی نوک سے انہوں نے مزاح لکھنے کا آغاز کیا۔
وہ زمانے کی ناہمواریوں کو اس انداز سے اپنے شعروں میں پروتے ہیں جیسے سوئی سے موتی کو لباس میں پرویا جاتا ہے۔ نشان کسی کو نظر نہیں آتے صرف خوبصورتی دکھائی دیتی ہے۔ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے اکثر اپنے دل کو زخمی کر جاتے ہیں۔ ان کے قہقہوں کی گونج میں مجھے اکثر دکھوں کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔
بات اگر شاعری کی کی جائے تو یہ کہنا بجا ہو گا کہ انور مسعود الفاظ کی سلطنت پر راج کرتے ہیں وہ ان کا استعمال اس انداز سے کرتے ہیں کہ الفاظ بھی ان کی رعایا ہونے پر نازاں رہتے ہیں ۔ اپنی نظموں کو تخلیق کرتے ہوئے اپنے خیالات کے سمندر میں اتر جاتے ہیں اور سوچ کی گہرائی سے نکالے گئے سچے موتیوں کو نظموں میں سجا دیتے ہیں۔
میرے نزدیک والد محترم شاعری کے آل راؤنڈر ہیں۔ وہ جانتے ہیں لوگوں کے دلوں کو کس طرح دھڑکانا ہے۔ سامعین کی آنکھوں سے برسات کی جھڑی کو باندھنا ہے تو کس نظم کا انتخاب کرنا ہے۔ طنز کے تیر چلانے ہیں تو کون سے شعروں کی کمان استعمال ہو گی اور قہقہوں کی گونج سے محفل میں رنگ بھرنا ہے تو کون سا قطعہ نذر کرنا ہے۔
ان کی شاعری سراپا محبت ہے۔ وہ محبت کا رنگ اس انداز سے اپنے اشعار میں بکھیر دیتے ہیں کہ قوس قزح کے سات رنگ آنکھوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ ماں کی محبت کا اظہار ہو تو اسی طرح بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی سنگ دل کو موم کر جاتے ہیں۔ اس کی ایک خوبصورت ترین مثال امبڑی ہے۔ جس کو لکھنے میں ان کی دس سال کی محنت کار فرما تھی۔ میں اکثر اپنے والد سے کہتی ہوں کہ” ابو ترازو کے ایک پلڑے میں آپ کا سارا کلام اور دوسری طرف امبڑی رکھ دی جائے تو میرے نزدیک امبڑی کا پلڑا ہی بھاری رہے”۔
خوشی اور غم ان کے اندر بیٹھے وہ بچے ہیں جو ان کے جذبات کو اس ڈھنگ سے بیان کرتے ہیں کہ جب بھی بزم میں ان کو دعوت کلام دی جاتی ہے تو لوگ اس ہی شش و پنج میں رہتے ہیں۔ کہ اب ان کے چہروں پر مسکراہٹ کا رنگ بکھرے گا یا پھر وہ غموں کی چادر اوڑھے اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔
ان کی زندگی صبر، محنت، مشقت اور قناعت کی ایک ناقابل یقین داستان ہے۔ والد صاحب بہت ہی حساس طبیعت کے مالک ہیں۔ وہ اس کیفیت سے واقف ہیں جب بھوک کی شدت آپ کو بے قابو کر رہی ہو اور صبر سے پیٹ بھرنا پڑے تو آپ پر کیا گزرتی ہے۔ وہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی چیزوں کے انتخاب میں مثالی رہے ہیں۔ کمائی کے چار سو روپے ہو اور گھر کا چلانے کا خرچہ، ماں کی دوائیاں یا پھر اپنے چھالے بھرے پیروں کے لیے چپل میں انتخاب تو سب سے پہلے ماں کی دوائیاں لانے کو فوقیت دینا جانتے تھے۔
آج کے آسودہ انور مسعود نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب وہ اپنی بھوک کو ایک دودھ کی کٹوری سے مات دینے کی کوشش میں ساری رات کروٹیں بدلتے رہتے تھے۔ مال روڈ کی سڑکوں سے بلاناغہ میلوں پیدل چلتے تھے۔ آبلے پڑے پیروں میں ٹوٹی ہوئی چپل کو سڑک پر گھسیٹنے کی صاف آواز شاید اب بھی ان کو سنائی دیتی ہے۔
عام طور پر ہمارے معاشرے میں گھروں میں والد کا نام بچوں کو ڈرانے کے لیے مائیں استعمال کرتی۔ہیں مگر ہم سب بچے اپنی امی سے ڈرتے ہیں۔ ابو کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان سے ہنسی مذاق اور لاڈ پیار کرتے رہتے ہیں ۔
سنا ہے کہ ادیبوں کو اپنی تحریر اپنی اولاد کی طرح عزیز ہوتی ہیں بچپن میں ابو اپنے خیالات کو نظم کی شکل دینے میں مصروف تھے انہوں نے مجھے پانی کا گلاس لانے کو کہا اور میں کھیلتی کودتی پانی لیے والد کے پاس پہنچی۔ مجھ سے ان کے صفحات پر پانی سے بھرا گلاس گر گیا۔ میں سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ ابو نے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بس اتنا کہا کہ” بیٹا تم نے میری محنت پر پانی پھیر دیا ہے”
نہایت ہی شفیق باپ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی تابع فرمان شوہر بھی ہیں والدہ کی بے پناہ عزت کرتے ہیں یہ عزت صرف اس لیے نہیں کی جاتی کہ ہر شوہر پر لازم ہوتی ہے بلکہ یہ محبت، خلوص، وفاداری اور عقیدت بےسبب نہیں۔ اصل میں امی ان کی استاد بھی رہ چکی ہیں ابو نے قرآن پاک اور اس کی تفسیر امی سے ہی پڑھی ہے اور استاد کا احترام کرنا کوئی والد محترم سے سیکھے۔ ایک دن امی اپنی چپل تلاش کر رہی تھیں کہ کیا دیکھتی ہیں کہ ابو امی کی چپل اٹھا کر لا رہے ہیں امی نے نہایت ہی حیرت اور پریشانی کے عالم میں ابو سے کہا کہ انور صاحب آپ یہ کیا کر رہیں ہیں؟ تو بڑی ہی عقیدت سے بولے کہ” میں اپنے استاد محترم کی چپل لا رہا ہوں” یہ محبت دیکھ کر امی کی آنکھیں چھلک گئی تھیں۔ وہ منظر قابل دید ہوتا تھا جب ابو سبق سے ایک دن کی چھٹی مانگتے تھے اور انکار پر ہمارے سے شکایت لگائی جاتی تھی کہ” صدیقہ اتوار کی چھٹی بھی نہیں دیتی”
ابو نے امی کا ہر قدم پر ساتھ دیا ایک دن امی کالج سے گھر لوٹیں تو آتے ہی گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئیں۔ ایک طرف کھانا پکانے رکھا۔ دوسری طرف بچوں کے یونیفارم تبدل کرنے میں لگ گئیں۔ صفائی کے لیے جھاڑو چھت پر تھا ۔ امی نے ابو سے درخواست کی کہ چھت سے جھاڑو دے دیجئے ذرا۔ والدہ پھر کاموں میں لگ گئیں آدھا گھنٹہ ہو گیا والد محترم چھت سے نیچے نہ آئے۔ کچھ دیر کے بعد جب تشریف لائے تو مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔ والدہ نے جب پوچھا کہ آپ کو جھاڑو دینے کو کہا تھا ذرا۔ تو بڑے ہی بھول پن سے بولے وہ ہی تو دے رہا تھا۔
نہایت ہی سادہ طبعیت کے مالک ہیں۔ راہ چلتے ہوئے اگر کوئی فین مل جائے تو اس قدر پیار سے ملیں گے کہ سمجھ نہیں آتی کہ کون کس کا فین ہے۔ عاجزی اور انکساری طبعیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اگر کبھی موچی کے پاس جانے کا اتفاق ہوتا تھا تو اس کے ساتھ فرش پر ہی بیٹھ جاتے تھے۔ چھوٹے بھائی کے مطابق کہ اگر لوگ ابو کو نہ پہچانیں تو لوگ ابو کو ہی موچی سمجھ لیں۔
چھوٹا سا قصہ یاد آ گیا ایک دن میں، ابو، امی اور میرے بچے اپنی پھپھو کے گھر جانے کے لیے گیٹ سے نکلنے لگے تھے ۔بچے چھوٹے تھے اس لیے والدہ نے جانے سے پہلے پوچھ لیا کہ باتھ روم وغیرہ ہو لیے ہو۔ تو سب سے بلند آواز ابو کی آئی۔۔۔۔۔۔۔ “آہو”۔
میں نے ابو کو بہت دفعہ روتے دیکھا ہے بہت چھوٹی تھی تب یہ معمہ میرے لیے باعث تکلیف ہوتا تھا کہ آخر ابو کیوں روتے ہیں وہ بھی دن میں کئی بار؟ پھر بڑی ہوئی تو سمجھ آئی وہ تو اپنے رب کے آگے شکرانے کے آنسوؤں سے اپنا دامن بھگوتے تھے تب بھی جب ایک چھوٹے سے کمرے میں جس کی لمبائی ساڑھے سات فٹ اور چوڑائی چار فٹ تھی۔ کتابوں کے انبار اپنے ارد گرد سجائے لکھنے میں مگن رہتے تھے۔ اور اب بھی جب اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ ان کے رب نے ان کے تکلیف دہ دن ان آنسوؤں کے بدلے دھو دیئے ہیں اور اب ان ہی آنسوؤں کی بدولت ان کا رب بن مانگے وہ کچھ دیئے چلا جا رہا ہے کہ جس کے بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہ تھا۔
اپنی اولاد سے بہت خوش ہیں۔ اکثر ہم سب بہن بھائی مع اہل وعیال ان کے گھر چلے جاتے ہیں۔ گھر میں ماشاءاللہ ہر عمر کا بچہ پایا جاتا ہے۔ ہم سب کو دیکھ کر وہ امی سے ہر بار یہ ضرور کہتے ہیں صدیقہ 1965ء میں ہم دو تھے۔ امی بہت ہی پیار سے ہر بار یہی فرماتی ہیں کہ انور صاحب جب شادی ہوتی ہے تو دو ہی ہوتے ہیں۔
اپنے والدین کے نہایت ہی خدمت گزار تھے اس کے باوجود بھی ان سے پوچھا جائے کہ کس چیز کا دکھ یا تکلیف ان کو بے چین کرتی ہے تو بس یہ ہی کہتے ہیں کہ میں اپنے والدین کی وہ خدمت نہ کر سکا جس کے وہ حقدار تھے ۔ میں نے خود اپنے والد کو دیکھا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے بیٹے ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس سے زیادہ کوئی کیسے حق ادا کر سکتا ہے۔
اپنی زندگی کے وہ دن جن میں وہ مسکرانا چاہتے تھے پر حالات نے ان کو اجازت نہیں دی وہ اب لوگوں کو ہنسا کر اس کمی کو پورا کرنے کی خواہش میں دنیا میں قہقہے اور مسکراہٹیں ایک مشن کی طرح بکھیر رہے ہیں۔ میں اور کیا کہوں کہ میں چاہتی ہوں کہ یہ سلسلہ بھی جاودانی ہو جائے اور میرے سر پر ان کی چھاؤں بھی ہمیشہ قائم رہے۔ اس کے علاوہ زندگی سے اور کچھ نہیں چاہیے۔
(بشکریہ:ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker