پاکستان میں بلدیاتی ادارے جمہوری سیاست کی بنیاد اور عوامی نمائندگی کا سب سے مؤثر ذریعہ مانے جاتے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف مقامی سطح پر شہریوں کو براہِ راست فیصلہ سازی میں شریک کرتے ہیں بلکہ گلی محلوں کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں، نکاسی آب، صفائی ستھرائی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں یہ ادارے کئی برسوں سے غیر فعال ہیں، جس کے نتیجے میں عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، فنڈز ضائع ہو رہے ہیں اور بدعنوانی پروان چڑھ رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کی مثال اس ضمن میں نمایاں ہے۔ صوبے میں دسمبر 2021 اور مارچ 2022 میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات تو کرا دیے گئے مگر منتخب نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز نہیں دیے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبائی خزانے میں تقریباً 63 ارب روپے کا مقامی حکومتوں کا حصہ رکھا گیا، بعض رپورٹس اس رقم کو 94 ارب روپے تک بتاتی ہیں، مگر دو سال تک ایک روپیہ بھی جاری نہ ہوا۔ نتیجتاً عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع ہی نہ ہو سکے۔ حالیہ کلاوڈ برسٹ میں جب بونیر میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہوئے تو مقامی نمائندے بے اختیار ہونے کے باعث کچھ نہ کر سکے۔
سندھ کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے لیے مالی سال 2023-24 میں پانچ ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا مگر صوبائی حکومت نے محض 73 کروڑ روپے جاری کیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہر میں نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کا نظام درہم برہم رہا، بارش کے بعد گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی رہیں اور کچرا اٹھانے کا نظام مزید بگڑ گیا۔ عوام براہِ راست منتخب نمائندوں کی طرف دیکھتے رہے مگر وہ مالی اور انتظامی اختیارات نہ ہونے کے سبب بے بس دکھائی دیے۔
پنجاب میں تو صورتحال مزید سنگین ہے۔ آخری بار باقاعدہ بلدیاتی انتخابات مئی 2015 میں ہوئے تھے اور اس کے بعد سے تاحال کوئی فعال مقامی نمائندگی موجود نہیں۔ اس دوران صرف راولپنڈی ڈویژن ہی میں سات ارب روپے کی ترقیاتی اسکیمیں کاغذوں میں تو منظور ہوئیں مگر فنڈز کے اجرا نہ ہونے کی وجہ سے پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکیں۔ پنجاب لوکل فنڈ آڈٹ رپورٹس کے مطابق لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ایک ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں جن کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر نظام نہ تھا۔
وفاقی سطح پر بھی ترقیاتی بجٹ کا حال مایوس کن ہے۔ مالی سال 2025 میں وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک کھرب نوے ارب روپے مختص کیے مگر سال کے اختتام تک صرف چون فیصد خرچ ہو سکا۔ یوں تقریباً پانچ سو ارب روپے غیر استعمال رہے۔ یہ صورتحال پچھلے برسوں میں بھی دہرائی جاتی رہی کہ ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ یا تو استعمال نہیں ہوا یا مخصوص منصوبوں پر غیر شفاف طریقے سے خرچ کر دیا گیا۔
اس ساری بدانتظامی اور غیر فعالیت کا سب سے بڑا نقصان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس وقت ملک کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں آخری انتخابات 2015 میں ہوئے، خیبر پختونخوا میں 2021-22 میں، سندھ میں 2022-23 میں جبکہ اسلام آباد میں متعدد بار شیڈول دینے کے باوجود تاحال مؤثر نمائندگی قائم نہیں ہو سکی۔ اس غیر تسلسل نے ایک سیاسی خلا پیدا کر دیا ہے جس کا نتیجہ عوام کے بڑھتے مسائل کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خلا کو پر کیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات ختم ہو سکیں ۔
فیس بک کمینٹ

