ایم ایم ادیبکالملکھاری

انسان جو خدا بن گئے۔۔ ایم ایم ادیب

قصص الانبیا ءکا مصنف نمرود کی خدائی کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ” نمرود کنعان بن آدم بن سام بن نوح ؑ کا بیٹا تھا اور زبان اس کی عربی تھی ،اس نے اپنے لشکر کی مدد سے ملکِ شام ،ترکستان اور بعد میں ہندوستان اور روم پر بھی قبضہ کرلیا،یہاں تک کہ مشرق و مغرب تک تمام جہان پر اس کی حکومت تھی اور بابل اس کا دارالسلطنت تھا ۔اس نے ایک ہزار سات سو برس بادشاہت کی ،وہ بڑا متکبّر تھا اور کہتا تھا میں خدا ہوں ،آسمان کا خدا کیا چیز ہے ؟ تب خدا نے حضرت ابراہیم کو پیدا کیا “
تہذیبوں کے بننے اور بگڑنے کا انحصارقانونی تقاضوں کے پورے کرنے نا کرنے پر ہوتا ہے ،قانون کان بند اور آنکھیں کھلی رکھے تب بھی برا اور آنکھیں بند اور کان کھلے رکھے تب بھی بے مصرف ،ہمارے ہاں قانون دونوں طرح کے فکری مغالطوں میں مبتلا رہا،غلط وقت پر درست فیصلے کئے اور درست وقت پر غلط فیصلوں کا مرتکب ہوا،یہ دونوں صورتیں قوم کے لئے تذبذب کا باعث بنیں ،جنہیں بولنا چاہیئے تھا وہ ہمیشہ چپ رہے اور جن کا چپ رہنا بنتا تھا انہوں نے لب کشائی کی ذمہ داری اٹھا کر اپنی بے چہرگی کی چہرہ کشائی کی ۔یہ سراسر بے اعتدالی ہے ،جو بہت کچھ ،کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ ذرا سی دیر میں توازن کھونے کی غلطی نہیں کیا کرتے۔
حق سچ اور ناحق کی تفریق کا عمل ایسا ہے جو ایک نا ایک روزطشت از بام ہونا ہی ہوتا ہے، اس پر پناہ طلب کرنے والے اور عبرت نگاہ ،سب چونک اٹھتے ہیں ،دراصل یہ سب فطرت کے تقاضے پورے ہونے کا دورانیہ ہوتا ہے ،کچھ مستقبل کے خوف سے کانپتے ہیں اور بعض حال کے خدشات سے لرزہ براندام ہوتے ہیں،عقل خود لب ِبام محوِ تماشا ہونے کی بجائے خندہ زن ہوتی ہے ۔
یہ کیا عجب ہوا ہے کہ اہلِ خرد بھی ورطہءحیرت سے نہیں نکل رہے اور جو حیرانی کے خولِ بیابانی سے نکل پائے ہیں وہ چھپے انداز میں سینہ کوبی فرمارہے ہیں ،یوں جیسے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہو ،وہ جنہوں نے قبور سے ہڈیاں نکال کر ان پر گھوڑے دوڑائے،وہ محوِ یاد ٹھہرے اور جس کا ایک بال بیکا ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ،اس کے حق میں سارے شہر کے چوکوں پر لاکھوں روپے مالیت کے بینرز راتوں رات آویزاں کر دیئے گئے ،ان سب کا حساب کس پر قرض ہے ؟
سوال سے سوال نکلنے کی رُت طویل تر ہو رہی ہے ،جن پر جواب دینا لازم ہے وہ تقسیم در تقسیم ہیں ،فیصلے کی قوت ہے نا سامنے آجانے کا یارہ،در در کی ٹھوکریں کھاتا ذہن جس نتیجے پر پہنچا ہے وہ یہ کہ ایک صائب تاریخی فیصلہ غلط وقت پر سنایا گیا ہے،جسے کچھ عرصے کے لئے محفوظ کر لیا جاتا تو اس کی اہمیت دو چند ہوکر ابھرتی ،کسی کے لئے سوالیہ نشان اور کسی کے لئے سنگ و خشت کا سامان نہ بنتا۔
فیصلے کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ جہاں حاشیہ نشینوں کے راز کھلے ہیں وہاں منافقین کی رونمائی خوب ہوئی،میڈیا کے دیدہ ور تو آشکار ہوئے ہی ،سیاست کاروں کی ا یسی گگھی بندھی ہے کہ کھلنے کو نہیں آرہی ،دانشور تو عرصہ دراز ہوا ملکی معاملات سے لاتعلق ہیں ،قوم کے مسائل سے ان کا واسطہ سرے سے رہا ہی نہیں ،سقوطِ مشرقی پاکستان سے لیکر اب تک، یہاں کتنے انسان ہیں ،خدا بننے کے زعم میں ہیںِ جنہوں نے اپنے جیسے انسانوں کو سر اٹھانے نہیں دیا ،مگر یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ سر اٹھانے والا پیدا نا ہوا ہو،تاہم انسان کے خدا بننے کی خواہش اتنی ہی پرانی ہے ،جتنی یہ کائنات۔
تعصبات کی عینکوں کے دبیز شیشوں سے ہر سو دیکھا ،پرکھا جارہا ہے ،عقیدوں کے جنگ جو ُ بھی میدان میں ہیں ،ان کی ہارجیت کا فیصلہ بھی ابھی ہونا ہے ،وہ جو ”اپنی کر نی کر لو ،جو ہوگا دیکھا جائے گا “ کا نعرہءمستانہ لگا کر رخصت ہوا ،اس کا راز بھی ایک روز کھلے گا ہی ،اساطیری قصوں کہانیوں کے عمر بڑی لمبی ہوتی ہے ،یہ نسل در نسل ہی نہیں تہذیب در تہذیب چلتی ہیں،ان کہانیوں اور رب کی نعمتوں سے کون انکار کی جرات کر سکتا ہے ۔
سو اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کروگے۔۔۔؟؟؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker