ایم ایم ادیبکالملکھاری

ایم ایم ادیب کا کالم:انہونی سے ہونی تک، کپتان اننگز کیسے ہارا ؟

میں اب بھی اس امر پر مصر ہوں کہ سائیں سید یوسف رضاگیلانی کا سینیٹ کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ صائب نہیں تھا ۔انہوں نے اپنی عزت وتوقیر کو داؤ پر لگایا ،جس کا حاصل ان کے اپنے لئے نہیں بلکہ اوروں کے لئے ہے ،وہ ”اور“ جو کبھی عزیمت کی جنگ نہیں لڑے،بلکہ ہمیشہ ہزیمت کو عزیمت کا کھیل تصور کرکے سیاست کی بساط پر مہرے چلاتے ہیں ۔
23فروری کے اظہاریئے میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اوپر سے کسی ایسے تحفظ کی امید کے سہارے سید یوسف رضا گیلانی کو پی ڈی ایم کی قربان گاہ پر چڑھاوے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ایسا ہوا یا نہیں ،تاہم مدبر سیاستدان کا تدبر کام آگیا ،ایسا کہ ن لیگ کے بیانیئے کو اس جیت کے نیچے دفن کردیاکہ یاران سرپل کولگا حمزہ شہباز کی رہائی کے پیچھے کوئی این آر او ہے اور بیٹے کے بعد باپ کی رہائی کے در وا ہونے کو ہیں اور یہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کو قطعاََ گوارہ نہیں ،اس لئے میاں نواز شریف اور ان کی ہونہار بیٹی نے اپنے بیانئے پر آصف علی زرداری کے بیانئے کو ترجیح دی ،یوں بھی میاں صاحب اپنی وزارت عظمیٰ کے زریں دور میں سابق صدر کے حضور ڈنڈوت بجالانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں فرماتے تھے ،جسے میثاق جمہوریت کا شاخسانہ قرار دیا جاتا تھا اور شہبازشریف جو آصف علی زرداری کو چالیس چوروں کا علی بابا سمجھتے تھے اور انہیں عبرت نگاہ بنانے کی بشارتیں دیا کرتے تھے ۔دنیا نے دیکھا کہ وہ سابق صدر کی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اپنے عشرت کدے جاتی عمرا لئے جا رہے تھے ۔
3مارچ کو آصف علی زرداری نے اس اعجاز پر مہرِ تصدیق ثابت کردی کہ وہ سیاسی دانش کے بل بوتے پر جلد ایک بار پھرپی پی پی کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو منجدھار سے نکال کر کنارے لا کھڑا کرنے میں کامیاب ہوجانے کی ان ہونی کو بھی ہونی بناکر دکھا دیں گے۔واللہ اعلم
سینیٹ کے انتخابات میں ایک بات یہ بھی کھل کر سامنے آگئی کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ سیاسی منڈی کے تدارک میں آج بھی مجبور محض ہے اور ماضی کے تاریخ ساز فیصلوں پر ہی کاربند ہے ،جس کی ابتدا کا سہرا جسٹس منیر نے عدلیہ کے سر سجایا تھا۔سینیٹ میں سید یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے اس راز کی کنجیاں زرداری صاحب ہی کے آہنی ہاتھوں میں ہیں ،جنہیں تسخیرکرنے کا یارا کسی کے بس میں نہیں ۔
جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے وہ کرپشن مافیا کی بقا کی جنگ لڑرہی ہے اور سر دھڑکی بازی لگا دینے پر تلی دکھائی دیتی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے بِلا سوچے سمجھے اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیواربننے کا عزم باندھ لیا ہے ۔اس کے لئے انہیں بہت سارا ہوم ورک کرنا چاہیئے تھا مگر انہوں نے اس کام کو نعرہ بنا لینے پر ہی اکتفا کیا اور پریشان حال عوام نے اس پر بھی انہیں ووٹ دینے میں تامل نہیں کیا ،مگر وہ قسمت کا دھنی نہیں ہے کہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ لینے والوں نے اسے کرپشن کے ثبوت تو فراہم کردیئے ،مگر ان ثبوتوں کی راہ میں بچھے کانٹوں کو ہٹانے میں اس کا بازو نہیں بنے ۔یوں کپتان اپنی اننگز ہار گیا ۔
دراصل عمران خان اپنی ٹیم کی سلیکشن میں بھی غیر محتاط رہے اور پہلے مرحلے پر ہی ٹھوکر کھاگئے اور وہ لوگ جو کرپٹ جمہوری حکمرانوں کی ٹیم کے اوپنر تھے ،اپنی جیت کے لئے انہیں پر بھروسہ کرلیا اپنی ناتجربہ کاری یا کسی کے ایما پر ،پس جب جیب میں کھوٹے سکے تھے تو انہیں کیسے چلایا جاسکتا تھا ۔ان سکوں کا ملال تو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو بھی تھا جنہوں نے اپنی باکمال جدوجہد سے استعمار سے آزادی تو چھین کر برصغیر کے مسلمانوں کودے دی ،مگر پاکستان بن جانے کے بعد خود کوکھوٹے سکوں سے محفوظ ومامون نہ رکھ سکے ۔عمران خان ایک سراسر وژنری کھلاڑی ،کیسے کامیابی و کامرانی کی منازل طے کرسکتا تھا۔
عمران خان باربار ریاست مدینہ کے والی نبی آخرالزماں ﷺ کا حوالہ دیتے ہیں ،مگر عملی طور پر کسی ایسے اقدام کی مثال اپنے تین سالہ دور اقتدار میں قائم کرنے کی کوشش بھی کی ؟؟؟ نہیں ،ہر گز نہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ایک نہیں سارے عبداللہ بن ابی اپنی صفوں میں جمع کئے ہوئے ہیں جو ان کی منزل کے راستے کے بھاری پتھر ہیں ۔اب جو اعتماد کا ووٹ لینے کی ٹھانی ہے تو کس امید پر ،سب وہی تو ہیں جنہوں نے سینیٹ کی پچ پر انہیں دھول چٹوائی ہے ،وہ اس کی آستین کے سانپ ہیں جن کی تھیلیوں میں ابھی بہت سارا زہر باقی ہے اور عمران خان کے زخم بھی بالکل ہی تازہ ،پھر نہ جانے کیوں خود کو آزمائش کی سان پر چڑھانے لگے ہیں ۔اس سے پہلے کہ جنہوں نے یہ مشورہ انہیں دیا ہے وہی انکے پاؤں تلے سے سیڑھی کھینچ لیں بہتر یہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کی خلعت اتار قوم کے حوالے کردیں اور وہ جن کے منہ کوقوم کا لہو لگا ہے ،جن کے دل خالق ومخلوق کی محبت کی بجائے اقتدار کی الفت میں گرفتار ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker