ماضی قریب کے بعض عدالتی فیصلوں میں مختلف ناولوں کے کرداروں کے حوالےدیئے جاتے رہے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے لکھاری کبھی اپنی معروضی صورتِ حال سے بے بہرہ نہیں رہتے،وہ اپنی قوتِ متخیلہ سے ایسے کردارتخلیق کرتے ہیں جو مستقبل کی زندگی کے کرداروں پر منطبق کئے جا سکتے ہیں،مثلاََ دستوویسکی کے ایک ناول( The Possessed) میں ناول کا مرکزی خیال ایک ایسے مغالطے کو بنایا گیا ہے جس میں ارفع مقاصد کو ادنیٰ صفات کے حامل ہیرو کی مدد سے غیر فطری ذرائع استعمال کرکے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔
ہم اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں تو حالیہ برسوں میں بہت سارے انقلابی لوگ ایسے ملتے ہیں جو بے لوث تھے،انہوں نے اپنی زندگیاں اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے وقف کی ہوئی تھیں مگر انہوں نے اپنے اچھے مقاصد تک پہنچنے کے لئے تشدد کی راہ اختیار کرنے میں کوئی ندامت محسوس نہ کی اور نہ ہی اپنے اس عمل کو برا سمجھا،یہ ان کی محض خام خیالی اور فکری ہی نہیں عملی مغالطہ تھا۔
آج ہمارے حکمران کچھ ایسے ہی مغالطوں کی بھول بھلیوں میں اپنا عوام سے ملا ہوا مینڈیٹ تہس نہس کرنے کی روش پرعمل پیرا ہیں۔ان کے دل ودماغ سے یہ خیال یا احساس محو ہو چکا ہے کہ عوام نے انہیں اس لئے ووٹ نہیں دیئے تھے کہ
وہ فقط اپنے پیش روؤں کی بدعنوانیوں یا اپنے انتقامی جذبوں کی تسکین کے لئے سارا عرصہ گزار دیں اور جب ان کے ہاتھ میں کچھ باقی نہ رہے تو اداراتی قوتوں کے ناروا استعمال کے ذریعے اپنے اقتدار کو محفوظ کرنے کی سعی میں مبتلا ہوجائیں اور باور یہ کریں یا کرائیں کہ جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی پر چلتے رہنے کے لئے ایسا کیا جارہا ہے۔
کیا اقتدار کے ایوانوں کی گلیاں سونی یا ویران ہونے والی ہیں؟ کیا تحریک انصاف کی حکومت آمادہء زوال ہے؟ جیسا کہ”پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ“ کے رہنماؤ ں کا دعویٰ ہے۔ان کے کہنے کے مطابق حکومت چند روز کی مہمان ہے۔ مگر یہ سب بے کار کی تپسیا ہے،جس سے جمہوریت سیبوتاژ ہو بھی جائے تو پھولوں کی بارشوں سے نئی سیاسی کونپلوں کو کوئی فائدہ ہونا عبث ہے۔
یہ اسٹیبلشمنٹ کا رچایا ہوا کھیل ہے،یہ کب تک چلتا ہے،کس انتہا پر منتج ہوتا ہے،یہ عقدہ جلد یا بادیر کھل ہی جائے گا،ضرورت جس بات کی ہے وہ یہ ہے کہ اس قدر ترقی یافتہ دور میں پاکستان کے بے کس اور مجبورو مقہور عوام ابھی اور کتنے کچلے جائیں گے۔سیاستدانوں کی آپس کی جنگ میں کہیں بیرونی دشمن ہمارے اوپر کوئی ایسی جنگ مسلط نہ کردیں جو ہمارے وطن کے جسد خاکی کو نگل جائے اور جو آزادی لاکھوں جانوں کے بدلے حاصل کی گئی تھی وہ چند لوگوں کی ہوس اقتدار کی بھینٹ نہ چڑھ جائے(خاکم بدہن)۔
یہ حوصلوں کی آزمائش کے دن ہیں جن سے حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف گریزاں رہے ہیں،تاہم انجام ان دو متحارب قوتوں نے نہیں افتادگانِ خاک کو بھگتنا ہے۔اب عقل و خرد کی حیثیت کم تر ہو گئی ہے،وہ لوگ جنہیں قوم کو حساب دینا ہے،جن کی تجوریوں میں مختلف مَدوں میں لوٹا گیا عوام کا سرمایہ پڑا ہے،ان کے تیور بگڑتے جارہے ہیں،انہی کے احتجاج میں زیادہ شدت ہے،روزگار اسکیم کے ایک سو ستر کروڑ روپے کا حساب لاہور کی بیٹی مریم نواز کی طرف بھی ہے جو نوجوانوں کی جیبوں سے نکال کر بابا کی حکومت نے ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں ڈالے تھے اور اس کے بابا جان میاں نواز شریف کی طرف ”ملک سنوارو قرض اتارو“ کا جو حساب بنتا ہے انہیں چکانا تو پڑے گا،آج نہیں تو کل۔ اس میں شک نہیں کہ اپوزیشن کے پے در پے جلسوں سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے،مگر اتنے سے دباؤ سے حکومتیں نہیں گرا کرتیں،البتہ استعفوں کی سیاست سے حکومت کے گرنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے،جبکہ امکانی طور پر پی پی پی کبھی اس پر آمادہ نہیں ہوگی،اسے معلوم ہے کہ اس نے ایسا کیا تو ن لیگ اس کی کمر میں ہر صورت چھرا گھونپنے سے گریز نہیں کرے گی اس خطرے کی گھنٹیاں سابق صدر آصف علی زرداری کے کانوں میں ہر پل بجتی رہتی ہیں۔اس ساری صورت حال میں بہت بڑی ہزیمت کا بوجھ اٹھائے مولانا کو یہ جھٹکا شاید برے طریقے سے برداشت کرنا پڑے کہ اوپر والے ان کے کردار کو منہا کرکے تبدیلی کی کوئی ممکنہ صورت نکال لیں تو اور بات،تاہم یہ بھی حتمی بات نہیں ہے۔
بہر حال جو کھیل جس کے ایما اور پشت پناہی پر کھیلا جا رہا ہے اس کھیل کا مدعا و منتہا عوامی مینڈیٹ کا استحصال ہے،جس پر کسی کی نظر نہیں۔جس طرح لاہور میں مریم نواز کے جلوس پرعوام نے جعلی نوٹ نچھاور کئے اسی طرح سیاستدان عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ جعل سازی کرنے کی اندھی دوڑ میں لگے ہیں،ہاں مگر عوام کے لئے مرحومہ پروین شاکر کا ایک شعر
اشارۃََ کافی ہے کہ
فیصلے سارے اسی کے ہیں،ہماری بابت
اختیا ر بس اتنا ،کہ خبر میں رہنا ہے

