کتنا اچھا دور تھا، جب سونے سے قبل ریڈیو پاکستان ملتان سے پہلے بچوں کی کہانی سننے کےبعد
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
کی آواز کانوں میں پڑتی تھی۔پھر رات گئے موسیقی کا پروگرام سنتے ہوئے سو جاتی ۔ ریڈیو ملتان سے بچوں کی کہانی بہت سے صداکار سناتے، انہی میں ایک نام محترمہ عفت ذکی کا بھی تھا۔جو بچوں کو کہانی اس انداز سے سناتی کہ ہمیں یوں لگتا تھا کہ جیسے ہم اپنی دادی جان اور نانی جان سے کہانی سن رہے ہیں۔عفت ذکی صرف بچوں کے لیے کہانی نہیں سناتی تھیں، بلکہ وہ فوجی بھائیوں کے پروگرام "پاسبان ” کی میزبان کے طور پر شاندار شہرت رکھتی تھیں۔ انھوں نے ریڈیو پاکستان ملتان سے سیکڑوں ڈراموں میں حصہ لینے کے علاوہ مختلف پروگرامز کی کئی برس تک میزبانی بھی کی۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ انھوں نے اپنی آواز کے ذریعے اس خطے میں حکمرانی کی۔ان کی حکمرانی کا دورانیہ اس دن تمام ہوا جب میرے ملتان کے روشن ستارے علی نقوی نے اپنی وال پر 12مارچ 2023 کو یہ لکھ کر سب کو آبدیدہ کر دیا۔
"میں نے اپنے بچپن میں میڈم عفت ذکی کا نام اپنی والدہ سے سنا، سکول پہنچے تو زکریا پبلک سکول کی پرنسپل میڈم نجمہ جعفری کو ان سے انتہائی عقیدت سے ملتے دیکھا آپ نے کئی بار زکریا پبلک سکول کے فنکشنز میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی، جب ذرا بڑے ہوئے تو خالد سعید صاحب اور انوار احمد صاحب سمیت کئی بزرگ استادوں کو ان کا تذکرہ نہایت عقیدت کے ساتھ کرتے سنا، پھر معلوم ہوا کہ فیض صاحب جب بھی ملتان آتے تو عفت ذکی کے گھر ٹھہرتے، پھر معلوم ہوا کہ فیض صاحب انکو باقاعدگی سے خط لکھا کرتے اور انکو
"میری پیاری عفو” کہہ کر مخاطب کرتے، آپ نے زینبیہ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی زینبیہ سکول ملتان کے متوسط طبقے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں تھا، ان کے جس بھی شاگرد سے ملا اس کو ان کے عشق میں مبتلا دیکھا، آخری ملاقات بلوم فیلڈ ہال کی جانب سے منعقدہ فیض میلے میں ہوئی تھی آج خبر ملی کہ آپ اس جہانِ فانی سے کوچ فرما گئیں..
انا للہ و انا علیہ راجعون“
جب سے مجھے میڈم کی رحلت کی اطلاع ملی اس وقت سے نہ جانے کیوں فیض صاحب کی مشہورِ زمانہ نظم "رقیب سے” کا پہلا مصرع فضا میں گونج رہا ہے کہ شاید اب میڈم کی یاد ہمارے ساتھ یہی کرے
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجٌھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا ہے
یقناً میڈم عفت ذکی جیسے لوگوں کی یاد دلوں کو پری خانہ ہی بنائے رکھتی ہے…..
اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ میڈم عفت ذکی جیسے اونچے قد کے روشن لوگ پیدا کرتا رہے تاکہ مجھ جیسے نابینا بونے اس عہد تاریک کی مہیب تاریکیوں میں منہ کے بل گرنے سے بچتے رہیں..”
علی نقوی کا لکھا عفت ذکی کے لیے مرثیہ پڑھا تو میرے سامنے یادوں کی البم کھل گئی۔اس البم میں سوائے دکھ کے اور کچھ بھی نہیں تھا کہ ملتان محترمہ عفت ذکی سے محروم ہو گیا۔
میری زندگی کا وہ دن کتنا یادگار تھا۔جب محترمہ عفت ذکی "کتاب نگر "تشریف لائیں، انھوں نے کون سی کتاب مانگی، تو میں نے آواز سنتے ہی کہا
"میڈم
اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ عفت ذکی ہی ہیں؟
ہاں بیٹا
میں عفت ذکی ہی ہوں
آپ نے مجھے کیسے پہچانا؟
آپ کی آواز کا طلسم ایسا ہے کہ میں گزشتہ کئی برسوں سے اس کا تعاقب کر رہا ہوں۔ کہ
آپ کی آواز
ایسے ہے، جیسے جھرنا کی آواز۔
یہ سنتے ہی عفت ذکی نے میرا نام پوچھا
میں نے بتایا
شاکر حسین شاکر
اچھا تو آپ ہیں
شاکر حسین شاکر
ہم جلد دوبارہ ملیں گے۔”
یہ کہتے ہی عفت ذکی "کتاب نگر ” سے روانہ ہو گئی۔
میڈم عفت ذکی کتاب نگر سے روانہ ہو گئی، لیکن ان کی شخصیت کی مہک منجمد ہو گئی، ان سے کیا گیا مختصر سا "مکالمہ "میری زندگی کا حاصل بن گیا۔
میں نے اس دن کو بتایا کہ آج وہ ہستی میرے ہاں تشریف لائیں، جس کی آواز میں جادو ہے،اور ملنے کے بعد تو ان شخصیت کے پرت مزید کھل کر سامنے آ گئے۔سیاہ اور گرے بال، ان کی شخصیت کو ایسے نکھار رہی ہے کہ جیسے یہ دونوں رنگ ان کی شخصیت کو الگ روپ سروپ دینے کیلئے تخلیق کیے گئے ہیں۔ بولنے کا انداز ایسا تھا کہ میں ان کو دیکھتا اور سنتا رہ گیا،
ایک دن کیا ہوا، کہ عفت ذکی نے فون کیا اور کہنے لگی کہ بیٹا ہمارے سکول کی سالانہ تقریب میں آپ نے بطور مہمان خصوصی آنا ہے، اپنے ہاتھوں سے نمایاں پوزیشن لینے والے طلباءو طالبات میں انعامات بھی دینے ہیں کہ محترمہ عفت ذکی ملتان زینبیہ فاؤنڈیشن اور زینبیہ سکول کی سربراہی کر رہی تھیں۔دو تین دن بعد ان کی طرف سے بہت ہی خوبصورت دعوتی کارڈ مجھے ملا جس میں مجھے بطور مہمان مدعو کیا گیا۔میں وقت مقررہ پر ملتان آرٹس کونسل کے وسیع وعریض ہال میں پہنچ گیا، دیکھا تو ہال والدین اور طلباء و طالبات سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔مجھے محترمہ عفت ذکی کے ساتھ بٹھایا گیا، تو وہ لمحے بھی یادگار لگے۔میں نے اس تقریب میں اپنے زمانہ سکول کی یادیں اور ریڈیو پاکستان ملتان میں رات گئے عفت ذکی کی آواز میں بچوں کی کہانی کا ذکر کیا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اس کے بعد میڈم سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور میں ہر نشست میں صرف ان کو سنتا تھا کہ مجھے ان کی آواز سننا اچھا لگتا تھا۔
1980 کی دہائی میں حسن پروانہ روڈ پر ان کے شریک حیات ڈاکٹر ذکی کا” ملتان ہسپتال ” کا بہت شہرہ تھا۔یہ وہی زمانہ تھا جب اس روڈ پر پروفیسر ایم اے قدوس کے گھر مسعود اشعر کرایہ دار تھے، صلاح الدین حیدر، مشتاق شیدا اقبال ساغر صدیقی، شہناز نقوی کا گھرانہ پیر رفیع الدین شاہ اور دیگر اہم افراد رہتے تھے، یہ وہی دور تھا جب فیض صاحب،احمد فراز اور احباب ان کے مہمان بنتے تھے ۔
محترمہ عفت ذکی کی شخصیت کے بہت سے پہلو تھے، بطور باوفا شریک حیات، آئیڈیل ممتا، منفرد صدا کار،ماہر تعلیم، سماجی سائنس دان، محمد و آل محمد کی محبت میں ہر گھڑی ہر ساعت گم رہنےوالی، عفت ذکی پورے ملتان کی علمی، ادبی، ثقافتی اور مذہبی حلقوں کی جان تھیں۔انھوں نے ملتان میں بھر پور وسر گرم زندگی گزاری۔کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن نہیں بلکہ مکمل دبستان تھیں۔ جنہوں نے آخری سانس تک زندگی کو بھر پور انداز میں جیا۔ انھوں شہر کو اپنی موجودگی سے نئی روشنی دی، اور روشنی بھی ایسی ،جس نے ملتان میں نہ صرف اندھیرا کم کیا۔بلکہ علم وادب کی شمع کو آخری دم تک سنبھالے رکھا۔
چند برس قبل جب فیض صدی منائی گئی تو سنگ میل پبلی کیشنز کے افضال احمد نے مجھے کہا کہ اگرچہ فیض صاحب کے ہر پہلو پر کام ہوا ہے ،اگر آپ فیض صاحب پر لکھے گئے خاکوں کو جمع کر دیں تو یہ کام اپنی نوعیت کا منفرد انداز کا ہو گا۔
میں نے افضال صاحب کے کہنے پر فیض صاحب پر لکھے گئے خاکوں کی تدوین شروع کی تو اس کام کے حوالے سے ملتان سے جہاں اور نام ذہن میں آئے وہاں محترمہ عفت ذکی کا نام سب سے پہلے آیا۔میں نے ان سے رابطہ کیا تو کہنے لگی کہ میرے پاس فیض صاحب کے خطوط موجود تو تھے، چند برس قبل ایک نوجوان مجھ سے وہ خطوط یہ کہہ کر لےگیا تھا کہ مجھے اپنے رسالہ کا فیض نمبر شائع کرنا ہے۔اس میں آپ کے نام فیض صاحب کے خطوط شامل کرنے ہیں۔میں نے اس رسالے کے بارے ڈاکٹر صلاح الدین حیدر سے دریافت کیا تو انہوں نے کہاکہ ایم ایم ادیب نے اپنے رسالے میں "فیض بنام عفت ذکی "کا ایک گوشہ شائع کیا تھا، اور اگلے دن انھوں نے مجھے وہ رسالہ بجھوا دیا۔میں نے انہی خطوط کی تدوین کر کے عفت ذکی کی طرف سے ایک خاکہ لکھا، جو فیض صاحب پر مرتبہ کتاب "تری یادوں کے نقوش "میں شامل ہے۔میں نے کتاب شائع ہونے کے انھیں بجھوائی تو ان کی طرف بہت زیادہ پسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔اس خاکے کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے کہ میڈم عفت ذکی کی نثر کتنی باکمال تھی۔
” جب فیض صاحب میرے ہاں قیام پذیر ہوتے تو شہر کے لوگ اتنے فون کرتے کہ ایک مرتبہ وہ کہہ اٹھے ”عفت تمہارا ٹیلیفون مزاجِ یار سے کہیں بدتر ہے۔ لاہور میں تو خیر وقت اپنا ہوتا ہے، اس کی کج ادائیوں سے فرق نہیں پڑتا لیکن کسی دوسری جگہ ایک آدھ کوشش کے بعد ہار ماننی پڑتی ہے۔“ فیض صاحب عفت ذکی کو جب بھی خط لکھتے تو آخر میں ”بہت سا پیار“ لازمی لکھتے۔ ایک مرتبہ عفت ذکی نے ان کو تنگ کرنے کی خاطر یہ کہہ دیا آپ صرف بہت سا پیار لکھتے ہیں لیکن …. جواب آیا اب کے تمہارے خط سے دل خوش بھی ہوا اور کچھ اداس بھی۔ خوش اپنے لیے یہ جان کر کہ بقول جوانی، خزاں کے باوجود چمن میں بوئے یاسمین باقی ہے اور اداس تمہارے لیے اس خیال سے کہ تمہیں آزارِ وفا کی اس وقت سوجھی جب دوائے دردِ دل بیچنے والے دکان بڑھانے کی فکر میں ہیں۔ بہرطور آج کل دلوں کی خانہ ء ویرانی کے دور میں بزم چراغاں کرنے کی کوئی صورت تو پیدا ہوئی، دور سے ہی سہی۔
ایک مرتبہ عفت ذکی نے فیض صاحب کو لکھا تنہائی بہت ستاتی ہے۔ سب کے ہوتے ہوئے بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرا کوئی نہیں، بچوں پر تو روایتی ماؤ ں والا پیار بھی نہیں آتا۔ شاید مجھ میں مامتا کی کمی ہے۔ اس کے جواب میں فیض صاحب نے لکھا تنہائی تو ایک طرح سے سمجھو انسانوں کے مقدر میں لکھی ہے اس لیے ﷲ میاں نے آدم و حوا کی تخلیق میں ہی اُن کے درمیان جدائی کا ایک پردہ ڈال دیا تھا۔ البتہ تنہائی کا احساس صرف حساس دلوں کو عطا کیا گیا جسے غالب نے آشوبِ آگہی کا نام دیا ہے۔ اور یہ آشوب صرف تم سے مخصوص نہیں، یہاں تک تو تمہارا کہنا ٹھیک ہے لیکن مامتا سے انکار والی بات ہم نہیں مانتے۔ یہ تو یونہی تمہارا وہم ہے۔ سب ماؤ ں کے دل ایک ہی ڈیزائن پر بنوائے گئے ہیں صرف کوئی کوئی پرزہ ذرا مختلف ہوتا ہے اور وہ بھی اسی آشوبِ آگہی کے سبب”
عفت ذکی کے ہاں جہاں فیض صاحب ٹھہرتے تھے تو وہاں احمد فراز کی بیٹھک بھی لگتی تھی۔جنرل ضیاء الحق جب جی او سی تھے، تب وہ بھی ان کے حسن پروانہ کالونی والے گھر اکثر آتے۔میڈم ملتان کی تہذیب و روایات کی ا مین تھیں۔مہمان داری میں ان کا گھر اپنی طرز کی وضع رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی موت پر ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والے سوگوار ہیں۔اردو کے نامور دانشور، ادیب، نقاد اور ماہر تعلیم ڈاکٹر نجیب جمال نے ان جدائی پر لکھا۔
"تریپن سال پہلے جب میں تھرڈ ایر میں پڑھ رہا تھا ملتان میں ریڈیو پاکستان کی عمارت میں براڈ کاسٹنگ کا آغاز ہوا ۔تب ملتان میں جہاں ایک نئی ثقافتی فضا پیدا کرنے میں اس ادارے نے مثالی کردار ادا کیا وہاں کچھ آوازوں نے اس اساطیری شہر کی فضاؤں میں رس گھولا ۔انہی آوازوں میں ایک آواز ایسی بھی تھی جس کی میزبانی کا لطف اٹھانے کے لیے فیض صاحب کو بار بار ملتان آنا تھا اور جسے ملتان ریڈیو اسٹیشن کی عمارت میں ہم کچھ دوستوں (طارق جامی ،زاہد حسین ، اسلم ادیب ،سعید ایاز جب ان دنوں طالب علموں کے پروگرام میں شریک ہوتے تھے) کو اسے آتے جاتے دیکھنا اس لیے اچھا لگتا تھا کہ اس کی آواز ہی نہیں شخصیت بھی مسحور کن تھی۔ پھر فیض صاحب کے میزبان کی حیثیت سے اس کی عالم گیر شہرت نے اس کے نام کے ساتھ ملتان کو بھی ایک نئی طرز کی شناخت دی ۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ملتان ایسے خانوادوں سے پہچانا جاتا تھا جن کی خواتین کے ناخن تک ہزار پردوں میں چھپے ہوتے تھے وہاں ایک دلکش صدا اور سراپا روز طلوع ہوتے تھے پھر جن دنوں ہم سب دوست اردو میں ایم اے کر رہے تھے تب ہمارے ایک استاد سے جو ریڈیو کے لیے بھی لکھا کرتے تھے ، جب ملتان ریڈیو کی آوازوں کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے اسے Fair lady of the town قرار دیا تھا یوں اس دن سے ہمارے لیے یہی اس کا نام بن گیا تھا۔سنا ہے آج وہ فئیر لیڈی آف دی ٹاؤن ملتان کو اداس کر گئی ہے”۔
عفت ذکی کے ریڈیو پاکستان ملتان پر پروگرام کرنے سے قدامت پسند شہر میں رہنے والی خواتین اور لڑکیوں کو نیا حوصلہ ملا، کہ وہ یہ سمجھنے لگی تھیں کہ اب ہر ناممکن کام کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔اسی طرح کے نا ممکنات سے ممکنات کے بہت سے واقعات کی گواہ ملتان کی پہلی خاتون صحافی نوشابہ نرگس ہیں۔جب میں نے ڈاکٹر اسلم انصاری کو محترمہ عفت ذکی کی وفات کا بتایا تو وہ کہنے لگے ان وفات کی تعزیت میں نوشابہ نرگس سے کروں گا۔جن کا عفت ذکی سے بہت گہرا تعلق تھا۔
جس زمانے میں عفت ذکی حسن پروانہ کالونی میں رہائش پذیر تھیں، تب مشتاق شیدا بھی ان نواح میں رہتے تھے۔عفت ذکی کی وفات کا سن کر شیدا صاحب کی امریکہ میں رہائش پذیر بیٹی فرحت لطیف کچھ یوں محترمہ عفت ذکی کو یاد کیا۔
"عفت ذکی خدا انھیں غریق رحمت کرے کے ساتھ ہمارے بچپن کی خوبصورت یادیں جُڑی ہوئی ہیں حسن پروانہ کالونی میں کئی سالوں تک ہمیں انکی ہمسائیگی کا شرف حاصل رہا تب ہم بہت چھوٹے اور سکول جاتے تھے حسن پروانہ میں جس جگہ ہم رہتے تھے وہاں ہر آٹھ دس گھر وں کے فاصلے پر کئ عظیم شخصیات رہتی تھیں جن میں مسعود اشعر، عفت ذکی ، ناہید لودھی ،فرخ درانی، مسیح اللہ جامپوری، شاہد اشرف ، پیر رفیع الدین اور اشفاق احمد خان آئی اے رحمان کے بھائی اور راشد رحمان کے والد کا گھر تھا اور یہ سب ہمارے پیارے ابا مشتاق احمد شیدا کے دوستوں میں سے تھے راشد رحمان کی چھوٹی بہن زیبا جو میری بہن صباحت بلکہ ہم سب کی مشترکہ دوست تھی تو ہمارے دن کا کافی حصہ انکے ہاں گزرتا رات دیری کی صورت میں راشد بھائی ہمیں گھر تک چھوڑنے جاتے تو ہم چاروں اچھلتی کودتی بہنوں کو اکٹھا ہانک کر لے جانا راشد بھائی کے لئے خاصا دشوار ہوتا عفت ذکی نہایت خوبصورت اور نفیس خاتون تھیں ہم نے جب بھی انکے ہاں جانا وہ ہمارے کپڑوں کی بے انتہا تعریف ( شاید ہمیں خوش کرنے کو ) ضرور کرتیں کہ تمہاری امی تمہیں بہت خوبصورت کپڑے پہناتی ہیں انکی بیٹی معصومہ جو تقریباً تھی تو ہماری ہی ہم عمر یا شاید کچھ بڑی لیکن بہت خاموش اور سنجیدہ سی تھی عفت آنٹی اسے بہت شوق سے بلاتی کہ دیکھو انکے کپڑے کتنے پیارے ہیں (خصوصا عید کے )تو وہ خاموشی سے آکر دیکھتی اور ہلکا سا مسکرا کر واپس پلٹ جاتی ہم انکے ہاں اس لئے بھی بہت جاتے کہ وہ ہمیشہ ہمیں چاکلیٹ یا مختلف قسم کی کینڈیاں دیا کرتی تھیں عید سے پہلے ہی خاص تاکید کرتی کہ اپنے کپڑے ضرور دکھانے آنا ہماری لسٹ میں بھی انکا گھر پہلے نمبر پر ہوتا کیونکہ وہ اس زمانے میں ہم چاروں بہنوں کو پانچ پانچ روپے عیدی دیتی تھیں جو ہمیں اور جگہوں سے ملنے والی عیدی کے مقابلے میں بہت ذیادہ ہوتی تھی انکے شوہر ڈاکٹر ذکی بھی بہت پیار کرنے والی شخصیت تھے ان سے جب بھی ملتے بہت پیار سے ملتے ہماری امی کو انھوں نے بہن بنا رکھا تھا اور باجی کہتے تھے اس لئے انکے ہاسپٹل (ملتان اسپتال) کے لان اکثر ہمارے لئے پلے گراؤنڈ بنے ہوتے مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہاں کے مریض بھی افراد خانہ کی طرح ہوتے جن کے لئے ہر ہفتہ کی رات اسپتال کے لان میں انکے بستر ڈال دئیے جاتے اور دیگر افراد کے لئے کرسیاں بچھا کر پروجیکٹر پر پاکستانی فلمیں چلائ جاتیں اسپتال کا دیگر عملہ بھی ایک خاندان کی طرح تھا مجھے یاد ہے جن دنوں ٹی وی پہ نورجہاں کا پروگرام ترنم چل رہا تھا تو ایک دن عفت آنٹی کے ہاں لائٹ چلی گئ اور وہ ہمارے گھر یہ پروگرام دیکھنے کے لئے آئیں تو نورجہاں کی ہر ہر ادا پر قربان ہوۓ جارہی تھیں یوں ہمارا لطف بھی دوبالا ہو رہا تھا ان کا ایک جملہ جو انھوں نے نورجہاں کو دیکھنے کے بعد کہا ہم سب اب بھی اکثر یاد کرتے ہیں کہ وہ امی سے کہنے لگیں باجی ویکھو مر جانی دا حسن کیویں ڈُل ڈُل پیندا اے ایک اور بات جو اب ہم بہنوں کو ہمیشہ تاسف میں مبتلا کر دیتی ہے کہ انھی دنوں انکے ہاں فیض احمد فیض تشریف لاۓ لیکن یہ دور ہمارے لا اُبالی بچپن اور بے فکری کا تھا ہم فیض احمد فیض کے مقام اور مرتبہ سے کُلی ناواقف تھے اگرچہ ہم نے ابا سے انکے ہاں جانے سے پہلے کئ مرتبہ امی کے ساتھ فیض صاحب کا ذکر بھی سنا لیکن اس دن ہم نے جو اکثر ایسے ہی آنٹی عفت کے ہاں گھس جاتے تھے اس دن ہم نے انکے ہاں جانے کی بجاۓ کسی اور گھر یا گلی میں کھیلنے کو ترجیح دی ۔۔۔ آج بہت سالوں بلکہ عشروں کے بعد عفت ذکی کے بارے میں سنا بھی تو کیا ۔۔۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
خدا انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ”
فرحت لطیف نے اپنے اظہاریہ میں جس طرح بتایا کہ وہ بچپن سے ان کے گھر جاتی رہی ہیں۔تو انھوں یادیں کے چراغ بھی ویسے ہی روشن کئے ہیں۔
محترمہ عفت ذکی کی زندگی سب سے اہم پہلو شہر میں شاندار روایات کے حامل تعلیمی ادارے کا قیام ہے، انھوں زینبیہ فاؤنڈیشن و سکول کے ذریعے شہر کے لاکھوں بچوں کو روشن مستقبل کی نوید دی۔وہ زندگی کے آخری سانس تک اپنے ادارے کے لئے کام کرتی رہیں۔ملتان کا کون سا ایسا گھرانہ ہے، جو ان کے ادارے سے فیض یاب نہ ہوا۔ایک مرتبہ نامور افسانہ نگار اور ناول نگار راحت وفا نے مجھے بتایا کہ میری میڈم عفت ذکی سے ملاقات ڈاکٹر انوار احمد نے کرائی، پھر کئی برس تک ان بہن زینبیہ سکول میں پڑھاتی رہیں۔راحت وفا نے عفت ذکی کچھ یاد کیا
” میں ان کی محبت اور مہربانی کبھی نہیں بھلا سکتی۔ مجھے مسز زکی نے استاد بنایا اور انھوں نے سچ مچ مجھے استاد بنایا۔۔ بہت محبت شفقت اور مہربانیوں سے مالامال کیا۔ میرے ابو جی کی وجہ سے ڈاکٹر زکی صاحب ، مسعود اشعر صاحب ، ، اور مسز مسعود اشعر کئی مرتبہ ہمارے گھر آئے، اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ مسز زکی نے میرے لکھے ڈرامے میں صدا کاری کی۔”
میری محترمہ عفت ذکی سے آخری ملاقات ریڈیو پاکستان ملتان میں عید شو کی ریکارڈنگ کے دوران ہوئی۔وہ ہمیشہ کی طرح شفیق انداز سے ملیں، بہت سا پیار کیا اور کہا کبھی فون کرکے گھر آ جائیں، اس ملاقات کے بعد کئی مرتبہ جی چاہا کہ ان کی قدم بوسی کرنے چلا جاؤں۔لیکن دنیا کے فضول جھمیلوں نے فرصت ہی نہ دی اور وہ ہم دور چلی گئیں۔
محترمہ عفت ذکی کی قریبی عزیزہ اور ملتان میں سماجی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے محترمہ نسرین جعفری سے جب ان کے انتقال کے بعد فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ آنٹی عفت ذکی کو میں اپنی ماں کا درجہ دیتی ہوں کہ انھوں نے ہمیشہ نہ صرف مجھے بیٹی سمجھا بلکہ اپنے پیار سے مجھے یہ احساس دلایا کہ وہ میری ماں ہیں،
میں نے باجی نسرین جعفری سے عفت ذکی کی موت کا سبب دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ تو اپنے بیٹے سعید ذکی کو لاہور سے لینے گئی تھیں کہ ان تینوں بچے(سعید ذکی، نوید ذکی اور معصومہ ذکی)نے اپنے والد ڈاکٹر ذکی کی وفات کے بعد ایک سرکل ترتیب دے رکھا تھا کہ تینوں بچے اپنی والدہ محترمہ کو اکیلے نہیں رہنے نہیں دیتے تھے۔اگر بچوں مصروف ہوتے تو پھر عفت ذکی کے پاس پوتے پوتیوں میں کوئی آ جاتا۔انتقال سے چند دن ان کی اکلوتی بیٹی معصومہ ذکی مل کر واپس گئی اور سرکل کے مطابق اب اپنی والدہ کے پاس سعید ذکی نے آنا تھا۔پہلی مرتبہ انھوں نے کہا کہ میرا دل جانے کو نہیں کر رہا، لیکن بیٹے کے لئے انھیں لاہور کے لیے سفرکرنا پڑا۔لاہور پہنچتے ہی وہ اپنی بہن کے گھر گئی۔ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اپنی بھانجی سے بات کرتے ہوئے چپ کر گئی۔بالکل ایسے جیسے طویل سفر کے بعد انسان آرام کرنے کے لیے کچھ سکون کے لمحات تلاش کرتا ہے، یا پھر کسی ریڈیو پروگرام کے اختتام پر میزبان کہتا ہے، سامعین کرام اب ہمارے پروگرام کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے تو اپنے میزبان کو اجازت دیں، لگتا ہے محترمہ عفت ذکی نے بھی زندگی کے سفر کے اختتام پر دل ہی دل میں اپنے پیاروں سے اجازت چاہی ہو گی اور پھر بے ساختہ فیض صاحب یاد آ گئے، جنہوں نے شاید انہی لمحات کے لیے کہا تھا
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب
اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور افق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گر رہی ہے تری دل دار نظر کی شبنم
اس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
کی آواز کانوں میں پڑتی تھی۔پھر رات گئے موسیقی کا پروگرام سنتے ہوئے سو جاتی ۔ ریڈیو ملتان سے بچوں کی کہانی بہت سے صداکار سناتے، انہی میں ایک نام محترمہ عفت ذکی کا بھی تھا۔جو بچوں کو کہانی اس انداز سے سناتی کہ ہمیں یوں لگتا تھا کہ جیسے ہم اپنی دادی جان اور نانی جان سے کہانی سن رہے ہیں۔عفت ذکی صرف بچوں کے لیے کہانی نہیں سناتی تھیں، بلکہ وہ فوجی بھائیوں کے پروگرام "پاسبان ” کی میزبان کے طور پر شاندار شہرت رکھتی تھیں۔ انھوں نے ریڈیو پاکستان ملتان سے سیکڑوں ڈراموں میں حصہ لینے کے علاوہ مختلف پروگرامز کی کئی برس تک میزبانی بھی کی۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ انھوں نے اپنی آواز کے ذریعے اس خطے میں حکمرانی کی۔ان کی حکمرانی کا دورانیہ اس دن تمام ہوا جب میرے ملتان کے روشن ستارے علی نقوی نے اپنی وال پر 12مارچ 2023 کو یہ لکھ کر سب کو آبدیدہ کر دیا۔
"میں نے اپنے بچپن میں میڈم عفت ذکی کا نام اپنی والدہ سے سنا، سکول پہنچے تو زکریا پبلک سکول کی پرنسپل میڈم نجمہ جعفری کو ان سے انتہائی عقیدت سے ملتے دیکھا آپ نے کئی بار زکریا پبلک سکول کے فنکشنز میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی، جب ذرا بڑے ہوئے تو خالد سعید صاحب اور انوار احمد صاحب سمیت کئی بزرگ استادوں کو ان کا تذکرہ نہایت عقیدت کے ساتھ کرتے سنا، پھر معلوم ہوا کہ فیض صاحب جب بھی ملتان آتے تو عفت ذکی کے گھر ٹھہرتے، پھر معلوم ہوا کہ فیض صاحب انکو باقاعدگی سے خط لکھا کرتے اور انکو
"میری پیاری عفو” کہہ کر مخاطب کرتے، آپ نے زینبیہ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی زینبیہ سکول ملتان کے متوسط طبقے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں تھا، ان کے جس بھی شاگرد سے ملا اس کو ان کے عشق میں مبتلا دیکھا، آخری ملاقات بلوم فیلڈ ہال کی جانب سے منعقدہ فیض میلے میں ہوئی تھی آج خبر ملی کہ آپ اس جہانِ فانی سے کوچ فرما گئیں..
انا للہ و انا علیہ راجعون“
جب سے مجھے میڈم کی رحلت کی اطلاع ملی اس وقت سے نہ جانے کیوں فیض صاحب کی مشہورِ زمانہ نظم "رقیب سے” کا پہلا مصرع فضا میں گونج رہا ہے کہ شاید اب میڈم کی یاد ہمارے ساتھ یہی کرے
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجٌھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا ہے
یقناً میڈم عفت ذکی جیسے لوگوں کی یاد دلوں کو پری خانہ ہی بنائے رکھتی ہے…..
اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ میڈم عفت ذکی جیسے اونچے قد کے روشن لوگ پیدا کرتا رہے تاکہ مجھ جیسے نابینا بونے اس عہد تاریک کی مہیب تاریکیوں میں منہ کے بل گرنے سے بچتے رہیں..”
علی نقوی کا لکھا عفت ذکی کے لیے مرثیہ پڑھا تو میرے سامنے یادوں کی البم کھل گئی۔اس البم میں سوائے دکھ کے اور کچھ بھی نہیں تھا کہ ملتان محترمہ عفت ذکی سے محروم ہو گیا۔
میری زندگی کا وہ دن کتنا یادگار تھا۔جب محترمہ عفت ذکی "کتاب نگر "تشریف لائیں، انھوں نے کون سی کتاب مانگی، تو میں نے آواز سنتے ہی کہا
"میڈم
اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ عفت ذکی ہی ہیں؟
ہاں بیٹا
میں عفت ذکی ہی ہوں
آپ نے مجھے کیسے پہچانا؟
آپ کی آواز کا طلسم ایسا ہے کہ میں گزشتہ کئی برسوں سے اس کا تعاقب کر رہا ہوں۔ کہ
آپ کی آواز
ایسے ہے، جیسے جھرنا کی آواز۔
یہ سنتے ہی عفت ذکی نے میرا نام پوچھا
میں نے بتایا
شاکر حسین شاکر
اچھا تو آپ ہیں
شاکر حسین شاکر
ہم جلد دوبارہ ملیں گے۔”
یہ کہتے ہی عفت ذکی "کتاب نگر ” سے روانہ ہو گئی۔
میڈم عفت ذکی کتاب نگر سے روانہ ہو گئی، لیکن ان کی شخصیت کی مہک منجمد ہو گئی، ان سے کیا گیا مختصر سا "مکالمہ "میری زندگی کا حاصل بن گیا۔
میں نے اس دن کو بتایا کہ آج وہ ہستی میرے ہاں تشریف لائیں، جس کی آواز میں جادو ہے،اور ملنے کے بعد تو ان شخصیت کے پرت مزید کھل کر سامنے آ گئے۔سیاہ اور گرے بال، ان کی شخصیت کو ایسے نکھار رہی ہے کہ جیسے یہ دونوں رنگ ان کی شخصیت کو الگ روپ سروپ دینے کیلئے تخلیق کیے گئے ہیں۔ بولنے کا انداز ایسا تھا کہ میں ان کو دیکھتا اور سنتا رہ گیا،
ایک دن کیا ہوا، کہ عفت ذکی نے فون کیا اور کہنے لگی کہ بیٹا ہمارے سکول کی سالانہ تقریب میں آپ نے بطور مہمان خصوصی آنا ہے، اپنے ہاتھوں سے نمایاں پوزیشن لینے والے طلباءو طالبات میں انعامات بھی دینے ہیں کہ محترمہ عفت ذکی ملتان زینبیہ فاؤنڈیشن اور زینبیہ سکول کی سربراہی کر رہی تھیں۔دو تین دن بعد ان کی طرف سے بہت ہی خوبصورت دعوتی کارڈ مجھے ملا جس میں مجھے بطور مہمان مدعو کیا گیا۔میں وقت مقررہ پر ملتان آرٹس کونسل کے وسیع وعریض ہال میں پہنچ گیا، دیکھا تو ہال والدین اور طلباء و طالبات سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔مجھے محترمہ عفت ذکی کے ساتھ بٹھایا گیا، تو وہ لمحے بھی یادگار لگے۔میں نے اس تقریب میں اپنے زمانہ سکول کی یادیں اور ریڈیو پاکستان ملتان میں رات گئے عفت ذکی کی آواز میں بچوں کی کہانی کا ذکر کیا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اس کے بعد میڈم سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور میں ہر نشست میں صرف ان کو سنتا تھا کہ مجھے ان کی آواز سننا اچھا لگتا تھا۔
1980 کی دہائی میں حسن پروانہ روڈ پر ان کے شریک حیات ڈاکٹر ذکی کا” ملتان ہسپتال ” کا بہت شہرہ تھا۔یہ وہی زمانہ تھا جب اس روڈ پر پروفیسر ایم اے قدوس کے گھر مسعود اشعر کرایہ دار تھے، صلاح الدین حیدر، مشتاق شیدا اقبال ساغر صدیقی، شہناز نقوی کا گھرانہ پیر رفیع الدین شاہ اور دیگر اہم افراد رہتے تھے، یہ وہی دور تھا جب فیض صاحب،احمد فراز اور احباب ان کے مہمان بنتے تھے ۔
محترمہ عفت ذکی کی شخصیت کے بہت سے پہلو تھے، بطور باوفا شریک حیات، آئیڈیل ممتا، منفرد صدا کار،ماہر تعلیم، سماجی سائنس دان، محمد و آل محمد کی محبت میں ہر گھڑی ہر ساعت گم رہنےوالی، عفت ذکی پورے ملتان کی علمی، ادبی، ثقافتی اور مذہبی حلقوں کی جان تھیں۔انھوں نے ملتان میں بھر پور وسر گرم زندگی گزاری۔کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن نہیں بلکہ مکمل دبستان تھیں۔ جنہوں نے آخری سانس تک زندگی کو بھر پور انداز میں جیا۔ انھوں شہر کو اپنی موجودگی سے نئی روشنی دی، اور روشنی بھی ایسی ،جس نے ملتان میں نہ صرف اندھیرا کم کیا۔بلکہ علم وادب کی شمع کو آخری دم تک سنبھالے رکھا۔
چند برس قبل جب فیض صدی منائی گئی تو سنگ میل پبلی کیشنز کے افضال احمد نے مجھے کہا کہ اگرچہ فیض صاحب کے ہر پہلو پر کام ہوا ہے ،اگر آپ فیض صاحب پر لکھے گئے خاکوں کو جمع کر دیں تو یہ کام اپنی نوعیت کا منفرد انداز کا ہو گا۔
میں نے افضال صاحب کے کہنے پر فیض صاحب پر لکھے گئے خاکوں کی تدوین شروع کی تو اس کام کے حوالے سے ملتان سے جہاں اور نام ذہن میں آئے وہاں محترمہ عفت ذکی کا نام سب سے پہلے آیا۔میں نے ان سے رابطہ کیا تو کہنے لگی کہ میرے پاس فیض صاحب کے خطوط موجود تو تھے، چند برس قبل ایک نوجوان مجھ سے وہ خطوط یہ کہہ کر لےگیا تھا کہ مجھے اپنے رسالہ کا فیض نمبر شائع کرنا ہے۔اس میں آپ کے نام فیض صاحب کے خطوط شامل کرنے ہیں۔میں نے اس رسالے کے بارے ڈاکٹر صلاح الدین حیدر سے دریافت کیا تو انہوں نے کہاکہ ایم ایم ادیب نے اپنے رسالے میں "فیض بنام عفت ذکی "کا ایک گوشہ شائع کیا تھا، اور اگلے دن انھوں نے مجھے وہ رسالہ بجھوا دیا۔میں نے انہی خطوط کی تدوین کر کے عفت ذکی کی طرف سے ایک خاکہ لکھا، جو فیض صاحب پر مرتبہ کتاب "تری یادوں کے نقوش "میں شامل ہے۔میں نے کتاب شائع ہونے کے انھیں بجھوائی تو ان کی طرف بہت زیادہ پسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔اس خاکے کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے کہ میڈم عفت ذکی کی نثر کتنی باکمال تھی۔
” جب فیض صاحب میرے ہاں قیام پذیر ہوتے تو شہر کے لوگ اتنے فون کرتے کہ ایک مرتبہ وہ کہہ اٹھے ”عفت تمہارا ٹیلیفون مزاجِ یار سے کہیں بدتر ہے۔ لاہور میں تو خیر وقت اپنا ہوتا ہے، اس کی کج ادائیوں سے فرق نہیں پڑتا لیکن کسی دوسری جگہ ایک آدھ کوشش کے بعد ہار ماننی پڑتی ہے۔“ فیض صاحب عفت ذکی کو جب بھی خط لکھتے تو آخر میں ”بہت سا پیار“ لازمی لکھتے۔ ایک مرتبہ عفت ذکی نے ان کو تنگ کرنے کی خاطر یہ کہہ دیا آپ صرف بہت سا پیار لکھتے ہیں لیکن …. جواب آیا اب کے تمہارے خط سے دل خوش بھی ہوا اور کچھ اداس بھی۔ خوش اپنے لیے یہ جان کر کہ بقول جوانی، خزاں کے باوجود چمن میں بوئے یاسمین باقی ہے اور اداس تمہارے لیے اس خیال سے کہ تمہیں آزارِ وفا کی اس وقت سوجھی جب دوائے دردِ دل بیچنے والے دکان بڑھانے کی فکر میں ہیں۔ بہرطور آج کل دلوں کی خانہ ء ویرانی کے دور میں بزم چراغاں کرنے کی کوئی صورت تو پیدا ہوئی، دور سے ہی سہی۔
ایک مرتبہ عفت ذکی نے فیض صاحب کو لکھا تنہائی بہت ستاتی ہے۔ سب کے ہوتے ہوئے بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرا کوئی نہیں، بچوں پر تو روایتی ماؤ ں والا پیار بھی نہیں آتا۔ شاید مجھ میں مامتا کی کمی ہے۔ اس کے جواب میں فیض صاحب نے لکھا تنہائی تو ایک طرح سے سمجھو انسانوں کے مقدر میں لکھی ہے اس لیے ﷲ میاں نے آدم و حوا کی تخلیق میں ہی اُن کے درمیان جدائی کا ایک پردہ ڈال دیا تھا۔ البتہ تنہائی کا احساس صرف حساس دلوں کو عطا کیا گیا جسے غالب نے آشوبِ آگہی کا نام دیا ہے۔ اور یہ آشوب صرف تم سے مخصوص نہیں، یہاں تک تو تمہارا کہنا ٹھیک ہے لیکن مامتا سے انکار والی بات ہم نہیں مانتے۔ یہ تو یونہی تمہارا وہم ہے۔ سب ماؤ ں کے دل ایک ہی ڈیزائن پر بنوائے گئے ہیں صرف کوئی کوئی پرزہ ذرا مختلف ہوتا ہے اور وہ بھی اسی آشوبِ آگہی کے سبب”
عفت ذکی کے ہاں جہاں فیض صاحب ٹھہرتے تھے تو وہاں احمد فراز کی بیٹھک بھی لگتی تھی۔جنرل ضیاء الحق جب جی او سی تھے، تب وہ بھی ان کے حسن پروانہ کالونی والے گھر اکثر آتے۔میڈم ملتان کی تہذیب و روایات کی ا مین تھیں۔مہمان داری میں ان کا گھر اپنی طرز کی وضع رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی موت پر ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والے سوگوار ہیں۔اردو کے نامور دانشور، ادیب، نقاد اور ماہر تعلیم ڈاکٹر نجیب جمال نے ان جدائی پر لکھا۔
"تریپن سال پہلے جب میں تھرڈ ایر میں پڑھ رہا تھا ملتان میں ریڈیو پاکستان کی عمارت میں براڈ کاسٹنگ کا آغاز ہوا ۔تب ملتان میں جہاں ایک نئی ثقافتی فضا پیدا کرنے میں اس ادارے نے مثالی کردار ادا کیا وہاں کچھ آوازوں نے اس اساطیری شہر کی فضاؤں میں رس گھولا ۔انہی آوازوں میں ایک آواز ایسی بھی تھی جس کی میزبانی کا لطف اٹھانے کے لیے فیض صاحب کو بار بار ملتان آنا تھا اور جسے ملتان ریڈیو اسٹیشن کی عمارت میں ہم کچھ دوستوں (طارق جامی ،زاہد حسین ، اسلم ادیب ،سعید ایاز جب ان دنوں طالب علموں کے پروگرام میں شریک ہوتے تھے) کو اسے آتے جاتے دیکھنا اس لیے اچھا لگتا تھا کہ اس کی آواز ہی نہیں شخصیت بھی مسحور کن تھی۔ پھر فیض صاحب کے میزبان کی حیثیت سے اس کی عالم گیر شہرت نے اس کے نام کے ساتھ ملتان کو بھی ایک نئی طرز کی شناخت دی ۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ملتان ایسے خانوادوں سے پہچانا جاتا تھا جن کی خواتین کے ناخن تک ہزار پردوں میں چھپے ہوتے تھے وہاں ایک دلکش صدا اور سراپا روز طلوع ہوتے تھے پھر جن دنوں ہم سب دوست اردو میں ایم اے کر رہے تھے تب ہمارے ایک استاد سے جو ریڈیو کے لیے بھی لکھا کرتے تھے ، جب ملتان ریڈیو کی آوازوں کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے اسے Fair lady of the town قرار دیا تھا یوں اس دن سے ہمارے لیے یہی اس کا نام بن گیا تھا۔سنا ہے آج وہ فئیر لیڈی آف دی ٹاؤن ملتان کو اداس کر گئی ہے”۔
عفت ذکی کے ریڈیو پاکستان ملتان پر پروگرام کرنے سے قدامت پسند شہر میں رہنے والی خواتین اور لڑکیوں کو نیا حوصلہ ملا، کہ وہ یہ سمجھنے لگی تھیں کہ اب ہر ناممکن کام کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔اسی طرح کے نا ممکنات سے ممکنات کے بہت سے واقعات کی گواہ ملتان کی پہلی خاتون صحافی نوشابہ نرگس ہیں۔جب میں نے ڈاکٹر اسلم انصاری کو محترمہ عفت ذکی کی وفات کا بتایا تو وہ کہنے لگے ان وفات کی تعزیت میں نوشابہ نرگس سے کروں گا۔جن کا عفت ذکی سے بہت گہرا تعلق تھا۔
جس زمانے میں عفت ذکی حسن پروانہ کالونی میں رہائش پذیر تھیں، تب مشتاق شیدا بھی ان نواح میں رہتے تھے۔عفت ذکی کی وفات کا سن کر شیدا صاحب کی امریکہ میں رہائش پذیر بیٹی فرحت لطیف کچھ یوں محترمہ عفت ذکی کو یاد کیا۔
"عفت ذکی خدا انھیں غریق رحمت کرے کے ساتھ ہمارے بچپن کی خوبصورت یادیں جُڑی ہوئی ہیں حسن پروانہ کالونی میں کئی سالوں تک ہمیں انکی ہمسائیگی کا شرف حاصل رہا تب ہم بہت چھوٹے اور سکول جاتے تھے حسن پروانہ میں جس جگہ ہم رہتے تھے وہاں ہر آٹھ دس گھر وں کے فاصلے پر کئ عظیم شخصیات رہتی تھیں جن میں مسعود اشعر، عفت ذکی ، ناہید لودھی ،فرخ درانی، مسیح اللہ جامپوری، شاہد اشرف ، پیر رفیع الدین اور اشفاق احمد خان آئی اے رحمان کے بھائی اور راشد رحمان کے والد کا گھر تھا اور یہ سب ہمارے پیارے ابا مشتاق احمد شیدا کے دوستوں میں سے تھے راشد رحمان کی چھوٹی بہن زیبا جو میری بہن صباحت بلکہ ہم سب کی مشترکہ دوست تھی تو ہمارے دن کا کافی حصہ انکے ہاں گزرتا رات دیری کی صورت میں راشد بھائی ہمیں گھر تک چھوڑنے جاتے تو ہم چاروں اچھلتی کودتی بہنوں کو اکٹھا ہانک کر لے جانا راشد بھائی کے لئے خاصا دشوار ہوتا عفت ذکی نہایت خوبصورت اور نفیس خاتون تھیں ہم نے جب بھی انکے ہاں جانا وہ ہمارے کپڑوں کی بے انتہا تعریف ( شاید ہمیں خوش کرنے کو ) ضرور کرتیں کہ تمہاری امی تمہیں بہت خوبصورت کپڑے پہناتی ہیں انکی بیٹی معصومہ جو تقریباً تھی تو ہماری ہی ہم عمر یا شاید کچھ بڑی لیکن بہت خاموش اور سنجیدہ سی تھی عفت آنٹی اسے بہت شوق سے بلاتی کہ دیکھو انکے کپڑے کتنے پیارے ہیں (خصوصا عید کے )تو وہ خاموشی سے آکر دیکھتی اور ہلکا سا مسکرا کر واپس پلٹ جاتی ہم انکے ہاں اس لئے بھی بہت جاتے کہ وہ ہمیشہ ہمیں چاکلیٹ یا مختلف قسم کی کینڈیاں دیا کرتی تھیں عید سے پہلے ہی خاص تاکید کرتی کہ اپنے کپڑے ضرور دکھانے آنا ہماری لسٹ میں بھی انکا گھر پہلے نمبر پر ہوتا کیونکہ وہ اس زمانے میں ہم چاروں بہنوں کو پانچ پانچ روپے عیدی دیتی تھیں جو ہمیں اور جگہوں سے ملنے والی عیدی کے مقابلے میں بہت ذیادہ ہوتی تھی انکے شوہر ڈاکٹر ذکی بھی بہت پیار کرنے والی شخصیت تھے ان سے جب بھی ملتے بہت پیار سے ملتے ہماری امی کو انھوں نے بہن بنا رکھا تھا اور باجی کہتے تھے اس لئے انکے ہاسپٹل (ملتان اسپتال) کے لان اکثر ہمارے لئے پلے گراؤنڈ بنے ہوتے مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہاں کے مریض بھی افراد خانہ کی طرح ہوتے جن کے لئے ہر ہفتہ کی رات اسپتال کے لان میں انکے بستر ڈال دئیے جاتے اور دیگر افراد کے لئے کرسیاں بچھا کر پروجیکٹر پر پاکستانی فلمیں چلائ جاتیں اسپتال کا دیگر عملہ بھی ایک خاندان کی طرح تھا مجھے یاد ہے جن دنوں ٹی وی پہ نورجہاں کا پروگرام ترنم چل رہا تھا تو ایک دن عفت آنٹی کے ہاں لائٹ چلی گئ اور وہ ہمارے گھر یہ پروگرام دیکھنے کے لئے آئیں تو نورجہاں کی ہر ہر ادا پر قربان ہوۓ جارہی تھیں یوں ہمارا لطف بھی دوبالا ہو رہا تھا ان کا ایک جملہ جو انھوں نے نورجہاں کو دیکھنے کے بعد کہا ہم سب اب بھی اکثر یاد کرتے ہیں کہ وہ امی سے کہنے لگیں باجی ویکھو مر جانی دا حسن کیویں ڈُل ڈُل پیندا اے ایک اور بات جو اب ہم بہنوں کو ہمیشہ تاسف میں مبتلا کر دیتی ہے کہ انھی دنوں انکے ہاں فیض احمد فیض تشریف لاۓ لیکن یہ دور ہمارے لا اُبالی بچپن اور بے فکری کا تھا ہم فیض احمد فیض کے مقام اور مرتبہ سے کُلی ناواقف تھے اگرچہ ہم نے ابا سے انکے ہاں جانے سے پہلے کئ مرتبہ امی کے ساتھ فیض صاحب کا ذکر بھی سنا لیکن اس دن ہم نے جو اکثر ایسے ہی آنٹی عفت کے ہاں گھس جاتے تھے اس دن ہم نے انکے ہاں جانے کی بجاۓ کسی اور گھر یا گلی میں کھیلنے کو ترجیح دی ۔۔۔ آج بہت سالوں بلکہ عشروں کے بعد عفت ذکی کے بارے میں سنا بھی تو کیا ۔۔۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
خدا انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ”
فرحت لطیف نے اپنے اظہاریہ میں جس طرح بتایا کہ وہ بچپن سے ان کے گھر جاتی رہی ہیں۔تو انھوں یادیں کے چراغ بھی ویسے ہی روشن کئے ہیں۔
محترمہ عفت ذکی کی زندگی سب سے اہم پہلو شہر میں شاندار روایات کے حامل تعلیمی ادارے کا قیام ہے، انھوں زینبیہ فاؤنڈیشن و سکول کے ذریعے شہر کے لاکھوں بچوں کو روشن مستقبل کی نوید دی۔وہ زندگی کے آخری سانس تک اپنے ادارے کے لئے کام کرتی رہیں۔ملتان کا کون سا ایسا گھرانہ ہے، جو ان کے ادارے سے فیض یاب نہ ہوا۔ایک مرتبہ نامور افسانہ نگار اور ناول نگار راحت وفا نے مجھے بتایا کہ میری میڈم عفت ذکی سے ملاقات ڈاکٹر انوار احمد نے کرائی، پھر کئی برس تک ان بہن زینبیہ سکول میں پڑھاتی رہیں۔راحت وفا نے عفت ذکی کچھ یاد کیا
” میں ان کی محبت اور مہربانی کبھی نہیں بھلا سکتی۔ مجھے مسز زکی نے استاد بنایا اور انھوں نے سچ مچ مجھے استاد بنایا۔۔ بہت محبت شفقت اور مہربانیوں سے مالامال کیا۔ میرے ابو جی کی وجہ سے ڈاکٹر زکی صاحب ، مسعود اشعر صاحب ، ، اور مسز مسعود اشعر کئی مرتبہ ہمارے گھر آئے، اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ مسز زکی نے میرے لکھے ڈرامے میں صدا کاری کی۔”
میری محترمہ عفت ذکی سے آخری ملاقات ریڈیو پاکستان ملتان میں عید شو کی ریکارڈنگ کے دوران ہوئی۔وہ ہمیشہ کی طرح شفیق انداز سے ملیں، بہت سا پیار کیا اور کہا کبھی فون کرکے گھر آ جائیں، اس ملاقات کے بعد کئی مرتبہ جی چاہا کہ ان کی قدم بوسی کرنے چلا جاؤں۔لیکن دنیا کے فضول جھمیلوں نے فرصت ہی نہ دی اور وہ ہم دور چلی گئیں۔
محترمہ عفت ذکی کی قریبی عزیزہ اور ملتان میں سماجی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے محترمہ نسرین جعفری سے جب ان کے انتقال کے بعد فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ آنٹی عفت ذکی کو میں اپنی ماں کا درجہ دیتی ہوں کہ انھوں نے ہمیشہ نہ صرف مجھے بیٹی سمجھا بلکہ اپنے پیار سے مجھے یہ احساس دلایا کہ وہ میری ماں ہیں،
میں نے باجی نسرین جعفری سے عفت ذکی کی موت کا سبب دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ تو اپنے بیٹے سعید ذکی کو لاہور سے لینے گئی تھیں کہ ان تینوں بچے(سعید ذکی، نوید ذکی اور معصومہ ذکی)نے اپنے والد ڈاکٹر ذکی کی وفات کے بعد ایک سرکل ترتیب دے رکھا تھا کہ تینوں بچے اپنی والدہ محترمہ کو اکیلے نہیں رہنے نہیں دیتے تھے۔اگر بچوں مصروف ہوتے تو پھر عفت ذکی کے پاس پوتے پوتیوں میں کوئی آ جاتا۔انتقال سے چند دن ان کی اکلوتی بیٹی معصومہ ذکی مل کر واپس گئی اور سرکل کے مطابق اب اپنی والدہ کے پاس سعید ذکی نے آنا تھا۔پہلی مرتبہ انھوں نے کہا کہ میرا دل جانے کو نہیں کر رہا، لیکن بیٹے کے لئے انھیں لاہور کے لیے سفرکرنا پڑا۔لاہور پہنچتے ہی وہ اپنی بہن کے گھر گئی۔ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اپنی بھانجی سے بات کرتے ہوئے چپ کر گئی۔بالکل ایسے جیسے طویل سفر کے بعد انسان آرام کرنے کے لیے کچھ سکون کے لمحات تلاش کرتا ہے، یا پھر کسی ریڈیو پروگرام کے اختتام پر میزبان کہتا ہے، سامعین کرام اب ہمارے پروگرام کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے تو اپنے میزبان کو اجازت دیں، لگتا ہے محترمہ عفت ذکی نے بھی زندگی کے سفر کے اختتام پر دل ہی دل میں اپنے پیاروں سے اجازت چاہی ہو گی اور پھر بے ساختہ فیض صاحب یاد آ گئے، جنہوں نے شاید انہی لمحات کے لیے کہا تھا
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب
اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور افق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گر رہی ہے تری دل دار نظر کی شبنم
اس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
فیس بک کمینٹ

