Browsing: فیض احمد فیض

میں نے صرف اتنا پوچھا ’احسان صاحب کیا حال ہے‘ اس پر انہوں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ میں پریشان ہو گیا اور کچھ دیر بعد دوبارہ ان سے پوچھا احسان صاحب کیا حال ہے وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

میں نے اس بی بی کو دلاسہ دیا اور اسے یقین دلایا کے ان شااللہ اسے ’راہ راست‘ پر لے آؤں گا۔ اس کے بعد میں نے سیریلین کو مخاطب کیا اور کہا تمہارے دروازے کے ساتھ میرا دروازہ ہے بجائے گھر پر بیٹھے رہنےکے تم میری طرف آ جایا کرو۔ پھر میں نے اسے وہ اوقات بتادیئے جن میں میں گھر پر ہوتا ہوں۔ سو اس نے میری طرف آنا جانا شروع کر دیا اور الحمدللہ صرف ایک ماہ میں وہ راہ راست پر آگئی۔ جس پر اس کی والدہ نے روز میری طرف آکر شکریہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ شاید وہ خود بھی راہ راست پر آنا چاہتی تھی مگر میں نے پورے امریکہ کا ٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا تھا۔