کالملکھاری

آواز کی دنیا کے ساتھیو ! ثریا شہاب نہیں رہیں‌۔۔ ماہ پارہ صفدر

ثریا شہاب کے بارے میں لکھتے ہوئے میری آنکھیں نم اور ہاتھوں میں لرزش ہے، کیا یوں بھی ہوتا ہے کہ دنیا بھر کو خبریں سنانے والی ہستی آج خود بس ایک خبر بن کر رہ گئیں۔میرے ذہن میں اس وقت بھی ان کی وہ آواز گونج رہی ہے جسے سننے کے لیے ہم رات آٹھ بجنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔

ثریا نے اپنے طویل نشریاتی سفر کا آغاز ساٹھ کے عشرے میں ریڈیو پاکستان کراچی میں ڈراموں میں صدا کاری سے کیا تھا مگر پھر وہ ایران کی عالمی سروس کے لیے منتخب ہو کر زاہدان چلی گئیں۔وہ سنہ 1965 کی جنگ کے بعد کا زمانہ تھا جب گھروں پر سوائے ریڈیو کے تفریح کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ ریڈیو پاکستان سے سوائے جنگی ترانوں کے اور کچھ نشر نہیں ہوتا تھا، لہذا ہم جلدی جلدی سکول کا کا م ختم کر کے ریڈیو ایران زاہدان کی عالمی سروس سے فلمی گانوں کے فرمائشی پروگرام کا بیتابی سےانتظار کرتے تھے۔

لاکھوں سامعین کی یاد داشتوں میں آج بھی زندہ ہے کہ وہ پروگرام کی ابتدا ان مخصوص الفاظ سے کرتی تھیں ‘آواز کی دنیا کے ساتھیو یہ ریڈیو ایران زاہدان ہے۔‘



ثریا شہاب کی آواز کے بارے میں کچھ کہنے کے لیے میرے پاس الفاظ کم پڑ جائیں گے بس یوں کہوں گی کہ سر اور مٹھاس میں گندھی ہوئی بہترین اور شستہ لب ولہجہ کی آواز۔دس برس زاہدان میں گزار کر سنہ 1973 میں وہ ملک واپس آ کر پاکستان ٹیلی ویژن کے خبرنامے سے وابستہ ہو گئیں اور بی بی سی اردو سروس کے لیے منتخب ہونے تک پی ٹی وی سے وابستہ رہیں۔

میں نے جب خبروں کے دشت میں قدم رکھا اور بلکل نووارد تھی اس وقت ثریا شہاب اپنے کریئر کی بلندیوں کو چھو رہی تھیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب ملک بھر میں صرف ایک ٹی وی چینل یعنی پاکستان ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا، لوگ آغاز سے اختتام تک نشریات سن کر اور دیکھ کر ہی اٹھتے تھے۔ایسے وقت میں ثریا شہاب صدا کاری کا برانڈ نیم یا ہاؤس ہولڈ نیم تھیں، یا یوں کہہ لیجیے وہ عوام الناس کے دلوں پر راج کرتی تھیں۔



اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران مجھے ثریا سے ملنے اور بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ’میں پوری سچائی سے کہوں گی کہ ثریا صرف بہترین صدا کارہ ہی نھیں ایک انتہائی محنتی، ذہین اور پرو فیشنل خاتون تھیں، بہت باہمت اور بااعتماد بھی۔‘ساٹھ کے عشرے میں جب انھوں نے صدا کاری کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہو گا اس وقت یقینا یہ کچھ آسان نہ تھا، اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے ذکر بھی کیا تھا کہ جب انھیں گھر سے اجازت نہیں مل رہی تھی تو انھوں نے یہ تک سوچا کہ نام بدل کر ریڈیو پروگراموں میں شرکت کیا کروں۔

ریڈیو پاکستان کی وہ پہلی نیوز اینکر تھیں جو 1984 میں بی بی سی اردو سروس کے لیے منتخب ہوئیں۔ریڈیو اور ٹی وی پر نیوز پڑھنے کے علاوہ انھوں نے پاکستان یوتھ لیگ کے نام سے نوجوانوں کی اصلاح اور مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک تنظیم بھی بنا رکھی تھی، جس کی روح رواں بھی وہ خود تھیں۔اس سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی جایا کرتی تھیں، ان کی مصروفیت دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے وقت ان سے پوچھ کر آگے بڑھتا ہو۔ وہ اردو کے علاوہ فارسی اور بنگالی بھی بہت اچھی بول لیتی تھیں۔ ’مجھے افسوس ہے کہ ثریا شہاب کو حکومت نے کبھی کسی ایوارڈ سے نہیں نوازا۔‘



لندن میں بی بی سی ریڈیو کی عالمی سروس پر انھوں نے وقفوں سے کوئی دس برس کام کیا، مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد وہ اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جن کا تعلق جرمنی سے تھا فرینکفرٹ چلی گئیں اورکئی برس جرمنی کی عالمی سروس ڈیوچے ویلے کے لیے کام کرتی رہیں۔لکھنے کا تو انھیں پہلے بھی شوق تھا مگر ان کی ادبی سرگرمیوں کو فرینکفرٹ میں قیام کے دوران جلا ملی۔ انھوں نے افسانے بھی لکھے۔ اس دوران ان کے دو ناول بھی شائع ہوئے اور شاعری کی ایک کتاب بھی۔ سنہ 2000 میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ پاکستان واپس چلی گئیں۔



گذشہ ڈیڑھ دو عشروں سے ثریا میڈیا تو کیا منظر نامے سے ہی بلکل غائب ہو گئیں۔ آج دنیا سے ان کے رخصت ہونے کی خبر سنی تو نجانے کیوں میرے دل نے کہا، جیسے ثریا نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرنے سے پہلے دنیا والوں کی بے اعتنائی کو مخاطب کر کے یہ کہا ہو گا ‘بیمار ثریا شہاب تمھارے کسی کام کی نہیں تھی، اسی لیے میرا ذکر بھی تماری محفلوں سے غائب ہو گیا’۔
تم اچھے دنوں کے ساتھی تھے بدلا جو زمانہ بھول گئے
اب بیتے دنوں کی یاد دلا کر تم کو پشیماں کیا کرتے
مجھے یقین ہے ثریا شہاب نے آواز کی دنیا کے اپنے لاکھوں ساتھیو، اپنے دو بیٹوں، ایک بیٹی اور ہم میں سے بہت سوں کو بہت غمگین چھوڑا ہے اور شاید کچھ کو پشیمان بھی۔
( بشکریہ :‌‌بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker