پنجابکالملکھاریمہر سخاوت حسین

رنجیت سنگھ : پنجاب دھرتی کا بہادر سپوت ۔۔ مہر سخاوت حسین

پنجاب کی سنہری دھرتی سے جنم لینے والے اس کی ایک فضا میں سانس لینے والے ایک جیسی موسیقی سے لطف اندوز ہونے والے افراد کو بنیادی طور پر دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پنجابی مسلمان اور پنجابی سکھ۔یوں تو پنجابی ہندو بھی اپنی موجودگی رکھتے ہیں لیکن میرے اس مضمون میں پہلی دو اقوام ہی ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو برِصغیر میں صدیوں سے 3 مذاہب، اسلام، ہندوازم اور سکھ ازم کے پیروکار رہتے ہیں۔ ہندوؤں کی اس خطے میں حکمرانی کی تاریخ کئی ہزار سال پر مشتمل ہے، جبکہ مسلمانوں نے بھی یکے بعد دیگرے حکمرانی کرتے ہوئے ایک ہزار سال سے زائد وقت صرف کیا۔ لیکن ان تینوں میں سکھ واحد ہیں جنہیں صرف ایک بار مکمل طور پر حکمرانی کرنے کاموقع ملا۔ ‘سکھ سلطنت’ کے بانی اور سلطان کا نام مہاراجہ رنجیت سنگھ ہے۔



یہ وہ وقت تھا جب مغلوں کی شاندار سلطنت اور تہذیب وتمدن ہندوستان میں آخری سانسیں لے رہے تھے، دہلی کی مرکزی حیثیت کا خاتمہ ہو چکا تھا،ایرانی لٹیرا نادر شاہ صدیوں کی جمع کی گئی دولت کے انبار لوٹ کر چلتا بنا تھا، مغل صوبے دار آزاد اور خودمختار ہو چکے تھے،احمد شاہ ابدالی کے حملے سلطنت مغلیہ کی فوجی طاقت کا بھرم ساری دنیا کے سامنے عیاں کر تھے، پنجاب پرلوٹ مار اور افراتفری کا راج تھا۔ ایسے میں ایک19سالہ نوجوان سکھ سردار نے لاہور کو فتح کر کے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، یہ سکھ سردار مہاراجہ رنجیت سنگھ کہلائے، انہوں نے پہلی سکھ سلطنت قائم کی اور اپنے علاقوں میں امن و امان قائم کیا۔



ان کی فتوحات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ پیدا ہی فاتح رہنے کے لیے ہوئے تھے۔ تاریخ نے یہ بات درست بھی ثابت کی۔ وہ بلا شرکتِ غیرے اتنے بڑے خطے کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ پایہءِ تخت پر بیٹھ کر انہوں نے ریاست کی حدود کو وسیع کیا، بیرونی حملہ آوروں کی روک تھام کی اور خطے کی ترقی کے لیے اپنی قائدانہ صلاحیتیں صرف کیں۔ہندوستان کی تاریخ میں سیکولرزم کی بہترین مثال بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ ہی ہیں۔’
‘وہ خود ایک پکے سکھ تھے لیکن انھوں نے اپنی حکومت، فوج میں اور اپنے رویے میں مذہب کو کبھی رکاوٹ نہیں بننے دیا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت باباگرونانک کے فلسفے پر چلائی جاتی تھی۔ بابا گرونانک کے فلسفے کا سب سے اہم جز سماجی مساوات اور مذہبی آزادی تھا۔ سماجی مساوات کا اثر رنجیت سنگھ کی حکومت اور ان کی فوج میں صاف دیکھا جا سکتا تھا۔کرتار سنگھ دوگل اپنی کتاب ‘رنجیت سنگھ، دی لاسٹ ٹو لے آرمز’ میں لکھتے ہیں کہ فقیر امام الدین کو امرتسر کے گوبند گڑھ قلعے اور اس کے اردگرد کےعلاقوں کی ذمہ داری دی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی امام الدین امرتسر میں اسلحہ کے ذخیرے اور شاہی اصطبل کے بھی انچارج تھے۔ کئی جنگی مہموں پر امام الدین کو بھیجا گیا تھا۔
امرتسر جیسے سکھ مذہب سے جڑے سے اہم شہر کے اہم قلعے کی ذمہ داری دے کر مہاراجہ نے واضح کر دیا تھا کہ وہ مذہب کے حوالے کوئی فرق روا نہیں رکھتے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے نظام انصاف میں شریعت اور شاستر دونوں کا برابری کا درجہ حاصل تھا۔ اگر کسی مسلمان کا مقدمہ ہوتا تو اس کے ساتھ شریعت کی روشنی میں فیصلہ ہوتا جب کہ ہندوؤں کے معاملات میں شاستر کا استعمال ہوتا تھا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی جائیداد سے متعلق تمام فیصلے شریعت کے حساب سے کیے جاتے تھے۔جب کہ مہاراجہ کی خواہش تھی کہ خطے میں پنجاب کی مرکزی حکومت قائم ہو جس میں مقامی ہندو، مسلمان اور سکھ مل کر اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔



وہ سکھ ریاست کے بجائے پنجاب کی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اس ماحول کو قائم رکھنے پر انہیں دانشمندی کی داد دینا پڑتی ہے۔اس مقصد کے تحت مقامی زمینداروں کو ساتھ ملایا، سکھ مثلوں کو اکٹھا کیا(وہ خود بھی سکھ مثل تھے) اور روایتی طور پر رائج درباری سرگرمیوں سے پرہیز کیا۔ تاج پہننے کے بجائے اپنی مذہبی پگڑی پہنی۔ دربار میں تخت پر بیٹھنے کے بجائے عام انداز میں براجمان ہوئے۔ دربار میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو بطورِ مشیر وزیر اپنے ساتھ رکھا، جس میں لاہور کا فقیر خاندان نمایاں تھا۔ آج بھی اس خاندان کے افراد لاہور میں مقیم ہیں اور ان کا قائم کردہ ‘فقیر خانہ میوزیم’ اس خطے بالخصوص رنجیت سنگھ کے دور کی کہانی کو بہت تفصیل سے بیان کرتا ہے۔راجہ رنجیت سنگھ بے حد ضدی انسان بھی تھے اس کو چیز پسند آ جاتی وہ ہر صورت حاصل کرتے ۔اگر گھوڑی “لیلٰی” کا واقعہ دیکھیں تو۔۔۔۔۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے۔مہاراجا رنجیت سنگھ کے عہد میں پشاور کے صوبیدار سردار محمد خان کے پاس ایک خوبصورت گھوڑی لیلیٰ موجود تھی جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھی ۔جب مہاراجا رنجیت سنگھ تک اس گھوڑی کا چرچا پہنچا تو اس نے یہ گھوڑی حاصل کرنے کا پیغام بھیجا۔ سردار محمد خان کے انکار پر اس نے اپنے جرنیل سردار بدھ سنگھ سندھانوالہ کو گھوڑی چھین کر لانے کے لیے روانہ کیا۔ ایک خونریز معرکہ کے بعد، سردار بدھ سنگھ کو علم ہوا کہ یہ گھوڑی جنگ میں کام آچکی ہے۔ اس نے لاہور پہنچ کر یہ اطلاع رنجیت سنگھ کو پہنچائی تو پتا چلا کہ یہ اطلاع غلط ہے اور لیلیٰ زندہ ہے۔ اب رنجیت سنگھ نے اپنے شہزادے کھڑک سنگھ کی سرکردگی میں ایک اور لشکر پشاور روانہ کیا اور یار محمد خان کو معزول کر دینے کے احکام جاری کئے۔ یار محمد نے یہ صورت حال دیکھی تو گھوڑی کو لے کر پہاڑوں میں غائب ہوگیا اور اپنے بھائی سردار سلطان محمد خان کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ اسی دوران سید احمد شہید کا سکھوں اور انگریزوں سے جہاد شروع ہوگیا۔ سکھوں کی فوج کے ایک جرنیل دینورا نے سید احمد شہیداور ان کے ساتھیوں کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ سلطان محمد اور یار محمد کو بھی شکست دے دی اور ان سے لیلیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ گھوڑی لاہور پہنچائی گئی اور رنجیت سنگھ کی خدمت میں پیش کی گئی۔ مہاراجا نے اس کے ملنے کی بڑی خوشی منائی۔ اس کا بیان تھا کہ اس گھوڑی کے حصول میں اس کو ساٹھ لاکھ روپیہ اور بارہ ہزار جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس حوالے سے لیلیٰ غالباً دنیا کی سب سے قیمتی گھوڑے قرار دی جا سکتی ہے۔1839ء میں رنجیت سنگھ نے وفات پائی تو 1844ء سے 1849ء تک کے عرصہ میں انگریز پورے پنجاب پر مکمل قبضہ حاصل کرچکے تھے۔ رنجیت سنگھ کی تمام عمر میدان جنگ اور خواتین کی سنگت میں گزری اور اس کے ساتھ ساتھ لاتعداد کہانیاں بھی جنم لیتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی زندگی اور اس کے بعد بھی کئی کتب تحریر ہوئیں۔ شاہ شجاع سے کوہ نور ہیرے کا لینا، آٹھ بیٹوں کا باپ ہونا، لیکن صرف دو بیٹے حقیقی تسلیم کیے گئے۔ جن کے نام کھڑک سنگھ اور دلیب سنگھ تھے۔ باقی چھ بیٹوں کے نام ایشر سنگھ، پشودا سنگھ، تارا سنگھ، شیر سنگھ، ملتانہ سنگھ اور کشمیرا سنگھ تھے

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker