رنجیت سنگھ ( 1839۔1780) کا مجسمہ تو ہم نے لاہورکے شاہی قلعہ میں اس کی بیوی رانی جنداں کے محل کے سامنے نصب کردیا ہے۔کیا اب ہم احمد شاہ ابدالی کو اپنے تعلیمی نصاب سے بھی خارج کریں گے جو پنجاب پرحملے کرتا اور یہاں کے عوام اور حکومتوں کولوٹ کرلے جاتا تھا رنجیت سنگھ نے ان افغان حملہ آوروں کی مزاحمت کی تھی اور پنجاب کے عوام کوان کے خلاف متحد کیا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کی لوٹ مار اورقتل و غارت گری کے پیش نظرپنجابی میں ایک اکھان مشہور ہے کہ
کھاہدا پیتا لاہے دا تے رہندا احمد شاہے دا( جو کچھ کھا پیا لیا وہی فائدہ کیوں باقی جو کچھ ہے وہ تواحمد شاہ ابدالی نے لوٹ کرلے جانا ہے)
ہمارے ایک بیلسٹک میزائل کا نام بھی تواسی احمد شاہ ابدالی کے نام پر ہے اس کا کیا کرنا ہے۔اس کا نام بھی بدلیں گے یا نہیں۔پھرایک کردار اوربھی تو ہے جو ہمارے مذہبی سیاسی بیانیہ کا بنیادی پتھرہے۔وہ ہے سید احمد بریلوی۔ جو بریلی سے چند سو حواریوں کے لے کررنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کرنے نکلا تھا اور موجودہ خیبر پختون خوا پہنچ کراس نےاپنی امامت کا اعلان کیا تھا۔اسےمذہبی بنیاد پرستی اور فرقہ پرستی کا بانی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔اس نے مقامی پختون ثقافت کو غیراسلامی قرار دیتے ہوئے ّخالصٗ اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔
سید احمد کی اس مذہبی جنونیت کے سامنے رنجیت سنگھ ہی نے دیوار کھڑی کی تھی اوراس کے جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے بالا کوٹ کے مقام پراس کو شکست دی تھی اوروہ ہلاک ہوا تھا۔ کیا ہم اپنے ریاستی اورسیاسی بیانیہ سے سید احمد اور اس کی جہادی فکر کوخارج کریں گے یا اس کو پہلے کی طرح چلنےدیں گے۔ہمارا سیاسی ورثہ رنجیت سنگھ ہے یا سید احمد۔ دونوں بیک وقت نہیں ہوسکتے۔ہمیں دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ رنجیت سنگھ بلا استثنا مذہب ریاست کے تمام شہریوں کے مساوی حقوق کا سمبل ہے جب کہ سید احمد مذہب کی بنیاد پر ریاست اورحکومت تشکیل دینےاورمذہب کی بنیاد پر تفریق اورامتیازی سلوک کا سمبل ہے۔
فیس بک کمینٹ

