پاکستان کے سارے شہرو زندہ رہو، پائندہ رہو۔
میں اس وقت لورا لائی میں ہوں۔ بلوچستان کا ایک عظیم قدیم شہر، جہاں شرح خواندگی پاکستان کے بہت سے شہروں سے کہیں زیادہ ہے۔ بلوچستان میں بھی صوبائی سطح پر آنے والے امتحانی نتائج میں لورا لائی اور اس کے پڑوسی قصبے خانو زئی کے طلبہ و طالبات ہمیشہ پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو خوش نصیب خیال کررہا ہوں کہ زندگی میں یہاں آنے کا موقع مل گیا۔ دنیا کے بڑے بڑے شہر دیکھ لئے۔ اپنے ملک کے ایسے ذہین اور نیک نام شہر نہیں دیکھے۔ چند ہزار کی آبادی والے اس قصبے میں بوائز کالج بھی ہیں، گرلز کالج بھی میڈیکل کالج بھی اور 500ایکڑ کے رقبے میں زیر تعمیر یونیورسٹی آف لورا لائی بھی۔ جہاں طرز تعمیر بھی بین الاقوامی معیار کا ہے اور معیارِ تدریس بھی۔ دور دور تک پھیلی ہوئی چار دیواری میں ابھی چند عمارتیں مکمل ہوئی ہیں۔ کچھ زیرِ تعمیر ہیں۔
نوجوانوں میں قومی زبان کے فروغ کے منصوبے کے تحت 18سے 28سال کے نوجوانوں میں مضمون نویسی کے مقابلے، اب تیسرے سال میں داخل ہوگئے ہیں۔ موضوع تھا پاکستان کو کامیاب ملک بنانے میں آپ کا علاقہ کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سال کے مقابلوں کا آغاز پاکستان کے رقبے میں سب سے بڑے، معدنیات سے مالا مال صوبے سے کررہے ہیں۔ بلوچستان کے ہر ضلع سے مضامین آئے ہیں۔ کامیابی پشین کے منصور احمد اوّل، ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ کے محمد ثقلین دوم، لورا لائی کی نرگس نور سوم کے حصّے میں آئی ہے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورا لائی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر مقصود احمد بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہیں۔ پاکستان کا درد رکھتے ہیں۔ سامعین میں مقامی کالجوں کے پرنسپل خواتین و حضرات ہیں۔ دیگر سرکاری افسر ہیں۔ طلبہ، طالبات سب بڑے انہماک سے گفتگو سن رہے ہیں۔
مجھے بہت تسکین محسوس ہورہی ہے۔ یہ پڑھا لکھا پاکستان ہمیں میڈیا پر دیکھنے کو کہاں ملتا ہے۔ کوئٹہ سے لورا لائی تک سفر چند گھنٹوں کا ہے مگر اس میں پاکستانی قوم کی جفاکشی، کوہ کنی اور مستقبل کے لئے عزم کی پختگی دکھائی دیتی ہے۔ جگہ جگہ مختلف موڑوں پر، ریلوے پھاٹکوں پر ’کشمیر بنے گا پاکستان‘، پاکستان کا پرچم ستارہ و ہلال، آزاد کشمیر کا پرچم لہرا رہا ہے۔ ایک پہاڑ پر PTIلکھا ہے۔ اس کے سامنے سڑک کے دوسرے پہاڑ پر مولانا فضل الرحمن نقش ہے۔ یہ علاقہ جمعیت علمائے اسلام کا ہے۔ راستے میں مختلف دینی مدارس، دارُالعلوم کے بورڈ بھی نظر آتے ہیں۔ بہت کم آبادی والے ان علاقوں میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں دور دور سے آتے ہیں۔ سڑکیں اچھی ہیں۔ کہیں کہیں دوبارہ بن رہی ہیں۔ متبادل راستے دئیے گئے ہیں۔ پہاڑ دونوں طرف مسافروں کی حفاظت کے لئے استقامت سے کھڑے ہیں۔ پچھلے دنوں بارشیں ہوئی ہیں تو وادیاں سر سبز ہورہی ہیں۔ بھیڑ بکریاں، گائے مزے سے گھاس نوش جاں کررہی ہیں۔ یہ ہے اصل زندگی جس میں روزانہ دودھ کی نہریں تراشنا پڑتی ہیں۔ پینے کا پانی کہیں دور سے لانا پڑتا ہے۔ کھانے پینے کا سامان بھی فاصلوں پر ملتا ہے۔ ٹیکنالوجی زندگی کو آسان بنا رہی ہے۔ شمسی توانائی (سولر) سے پورا فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ کھیت بھی سیراب ہورہے ہیں، باغ بھی۔ سیب، آڑو، شفتالو دیکھ کر منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ ہماری بیگم گاڑی رکوا رہی ہیں۔ سیب کے باغات میں نور محمد خان افغانستان کے مہاجر رکھوالی کررہے ہیں۔ تازہ تازہ سیب خود توڑ کر کھانے کا لطف کچھ اور ہی ہے۔ نور محمد بڑی تیزی سے جھاڑیاں اکٹھی کرکے آگ جلاکر چائے پیش کرنے کی تگ و دو میں ہے۔ ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔
مہمان نوازی اس خطّے کی لائق تقلید روایت ہے۔ اگر پانی میسر ہو تو یہ سارے میدان ہرے بھرے ہو سکتے ہیں۔ 72سال میں ہم نے مزید پانی کا انتظام تو کیا کرنا تھا پہلے سے موجود پانی کی سطح بھی نیچے چلی گئی ہے۔ یہ علاقے ہزاروں سال پرانے ہیں۔ زندگی کی جدید ترین آسانیاں بھی میسر آجاتی ہیں۔ پرانے طریقے بھی اسی طرح ہیں۔ نور محمد، چشمے کا پانی ایک بوتل میں ڈال کر اسے گیلے کپڑے میں باندھ کر سیب کے درخت پر لٹکا دیتا ہے۔ بلوچستان کی ہوا اسے یخ رکھتی ہے۔
لورا لائی علم و تدریس میں زرخیز ہے۔ بادام بھی خوب اگائے جاتے ہیں۔ پہاڑوں میں معدنیاتی خزانے بھی ہیں۔ کام ہورہا ہے مگر رفتار سست ہے۔ وفاق کی سطح پر جو سیاسی کشمکش ہوتی ہے وہ وہاں ترقیاتی کام روک دیتی ہے۔ صوبے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں یعنی بلدیاتی اداروں کے اختیارات سلب کر لئے ہیں۔ صوبائی خود مختاری کا شور مچتا ہے لیکن ضلعوں کو خود مختاری سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ہر شہر کو اس کے اختیارات دے دیے جائیں تو یہ اپنی اپنی جگہ ایسی ترقی کریں کہ صوبے اور وفاق بھی ترقی کرنے لگیں۔
یہاں بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں، پوتیوں کی آنکھوں میں جو چمک ہے وہ ایک شاندار مستقبل کی بشارت دیتی ہے۔ لورا لائی یونیورسٹی کی پہنائیاں دل آویز ہیں۔ مجھے یہاں مستقبل میں ہزاروں شاگرد تحقیق و تدریس میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ علاقے کی جڑی بوٹیوں خود رو پودوں پر تحقیق ہو گی ۔ علاقے کے ماضی کی خاک چھانی جائے گی۔ اقبال اپنی کشتِ ویراں سے مایوس نہیں ہے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے۔ سولر انرجی نے بنجر اور خشک پہاڑوں اور پانی میں رابطہ پیدا کردیا ہے۔ تازہ بستیاں آباد ہورہی ہیں۔ راستے میں کئی چھوٹے ڈیم تعمیر دیکھے۔ جن کے دم سے آس پاس ہرا بھرا ہو گیا ہے۔ یہ ہے اصل پاکستان آگے بڑھتا پاکستان۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

