کالملکھاریمحمود شام

سارے شہر پیکیج کے مستحق ہیں۔۔محمود شام

منتخب سندھ حکومت یقیناً خوش ہوگی کہ شہروں سے منتخب حکومتوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ اب ہر میونسپل وحدت میں ایک ایڈمنسٹریٹر بیٹھا ہے اور ہمیں ضرورت بھی اچھے ایڈمنسٹریٹروں کی ہے۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اگر اچھے ایڈمنسٹریٹر ہوں، ایڈمنسٹریشن کی باقاعدہ تربیت حاصل کریں، یہ خبط نہ ہو کہ ہم تو پیدائشی ایڈمنسٹریٹر ہیں تو ہماری بدحالی ایسی نہ ہو۔ وزیراعظم صاحب ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز میں آئے۔ جہاں ان کی پارٹی کے 14ایم این اے ہیں، جس شہر نے ان کو وزیراعظم بننے میں سب سے زیادہ مدد دی، اس کے لئے ان کے پاس اتنا ہی مختصر سا وقت تھا۔ شہرِ قائد کے لئے 1100ارب روپے کا پیکیج منظور کیا گیا ہے لیکن کسی کو یقین نہیں آرہا ہے کیونکہ اب لوگ وفاقی حکومت پر اعتبار کرتے ہیں نہ صوبائی پر اور شہری حکومتیں تو ہیں ہی نہیں۔ پھر فنڈز پر وفاق اور صوبے کے درمیان بیان بازی بھی شروع ہوگئی۔
کراچی کو ایک کتاب دوست ایڈمنسٹریٹر نصیب ہوا ہے۔ افتخار علی شلوانی۔ ان سے ہماری ملاقات نہیں ہے لیکن شہر میں اسٹریٹ لائبریریاں قائم کرنے اور دوسری لائبریریوں میں بہتری کا ہم سلطان خلیل کے ذریعے سنتے آئے ہیں۔ اس لئے سمجھتے ہیں کہ کتاب دوست ہے تو اچھا ہی ہوگا۔ کتاب دوست انسان دوست بھی ہوتے ہیں۔ یہاں شہر قائد میں 2½کروڑ انسانوں کو ایک ایسے دوست کی ضرورت ہے جو پریشان حالی و درماندگی میں ان کا ہاتھ تھامے۔
ملک کے دوسرے شہروں کو بھی انسان دوست افتخار شلوانیوں کی ضرورت ہے۔ کراچی سی بدحالی دوسرے سب بڑے شہروں میں بھی ہے۔ عوام اور خاص طور پر شہروں میں رہتے لوگ ریاست کو جو ٹیکس دیتے ہیں۔ اس کے بدلے انہیں زندگی کی ساری آسانیاں میسر آنی چاہئیں۔ وہ اور ان کے گھر محفوظ ہوں۔ انہیں گھر سے دفتر، کارخانے جانے کے لئے اچھی سڑکیں اور آرام دہ ٹرانسپورٹ ملے۔ انہیں مہرباں سرکاری و غیرسرکاری اسپتال ملیں۔ تفریح کے لیے باغات، کھیل کے میدان دستیاب ہوں۔ آئندہ نسلوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے معیاری درسگاہیں موجود ہوں۔ مسلم اکثریت کے لئے اچھی مساجد، اقلیتوں کی اپنی اپنی عبادت گاہیں۔ بارشیں ہوں تو پانی نکلتا رہے، کہیں محفوظ ہوتا رہے۔ گندے پانی کی نکاسی کے لئے سیوریج کے مستحکم انتظامات۔
شہر کیوں بسائے جاتے ہیں۔ انسان جنگل کے بجائے شہر میں رہنا کیوں پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں اسے تنظیم، ترتیب، تحفظ، تمدن، تہذیب، تربیت، تعلیم، تدریس، تحقیق، تندرستی، تفریح کی سہولتیں ریاست کی طرف سے میسر ہوتی ہیں۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی آسانی سے گزر سکے۔ ہمارے اور آپ کے بیٹے بیٹیاں یورپ، امریکہ، آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں رہتے ہیں، آپ کا بھی جانا ہوتا ہے۔ وہ محفوظ اور مامون بستیاں انسانوں نے ہی بسائی ہیں، ہم بھی ایسی بستیاں بسا سکتے ہیں بلکہ ہمارے شہروں میں پہلے یہ آسانیاں میسر ہوتی تھیں۔ انگریز نے بڑی منصوبہ بندی سے یہ شہر بسائے تھے۔ ایک سسٹم تھا۔ سردیاں شروع ہوں تو اس سے پہلے کیا کیا کرنا ہے۔ گرمیوں سے پہلے کیا اقدامات ہوں۔ برسات سے بہت پہلے نالے صاف کئے جائیں۔ نہروں اور دریاؤں سے مٹی نکالی جائے۔
ہم نے پہلے دس بارہ سال میں ہی انگریز کے سسٹم کو بتدریج ختم کردیا۔ 1970کے بعد شہروں کی بدحالی، لاوارثی شروع ہوئی۔ جو منتخب سیاسی اور غیرمنتخب فوجی حکومتوں کے دوران بڑھتی ہی رہی ہے۔ اب یہ حال ہے کہ گلی کی صفائی کے لئے خاکروب کو سفارشیں کروانا پڑتی ہیں یا بھتّہ دینا ہوتا ہے۔ گٹر ابلنے لگیں تو محلّے والے چندہ اکٹھے کرکے ان میونسپل ملازمین کو بلاتے ہیں جن کو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی ہیں۔ پارکوں میں صفائی نہیں ہوتی۔ نئے درخت نہیں لگتے۔ سارے شہر کچرے کے ایک سے ڈھیر دکھاتے ہیں۔
پہلے شہروں کی اپنی محصول چنگیاں ہوتی تھیں۔ ان سے کافی آمدنی ہو جاتی تھی۔ شہر کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے تھے۔ سرمایہ داروں نے یہ ناکے ختم کرکے اپنی آمدنی بڑھالی۔ شہر کو غریب کردیا۔ مہذب ملکوں میں ہر شہر میں اپنے تحقیقی ادارے ہوتے ہیں جو شہر کی سہولتوں پر روزانہ تحقیق کرتے رہتے ہیں۔ کہاں ٹریفک کا مسئلہ ہے، کہاں علاج معالجے کا۔ ہمارے ہاں جب تک لوگ پریس کلب کے سامنے احتجاج نہ کریں یا سوشل میڈیا پر تصویریں وائرل نہ ہوں ہمارے ادارے حرکت میں نہیں آتے۔ وہاں Urban Futureشہری مستقبل پر تحقیق ہورہی ہے۔ زمین کے استعمال کے منصوبے بنتے ہیں۔ شہر کو آفات سے کیسے بچانا ہے۔ لوگوں پر دماغی دبائو کیسے کم کرنا ہے۔ یہاں ایک شہری گھر سے نکلتا ہے۔ سڑکیں، ٹرانسپورٹ، ٹریفک پولیس، مافیا، اس کے دفتر پہنچنے تک ہزار پریشانیوں میں مبتلا کردیتی ہیں۔ ایسا ذہنی تنائو کام میں رکاوٹ بنتا ہے۔
کراچی ہی نہیں باقی سب شہروں میں بھی کچرا بکھرا رہتا ہے۔ گٹر کا پانی پھیلا رہتا ہے۔ سب جگہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر ہیں۔ میونسپل اداروں کے کمشنر ہیں لیکن از خود کچھ نہیں ہوتا ہے۔ پہلے کنٹونمنٹ ایریاز کو بڑا مثالی کہا جاتا تھا اب یہ بھی غریب سول علاقوں کی طرح ہی بد حال ہوگئے ہیں۔ شہر شہر اعلیٰ تعلیم کے لئے یونیورسٹیاں قائم ہو گئی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کا بنیادی فرض ہے کہ یہ اپنے اپنے شہر کے ماضی، حال اور مستقبل پر تحقیق کریں۔ بہتری کے لئے تجاویز دیں۔ اقوامِ متحدہ، جرمنی، امریکہ اور کئی دوسرے ممالک سے فنڈز لینے والی بےشُمار این جی اوز موجود ہیں جو شہری سہولتوں کے لئے ہی وجود میں آئی ہیں، اس کے لیے فنڈز ملتے ہیں۔ آپ اپنے اپنے شہر میں ایسی این جی اوز کو تلاش کریں۔ پوچھیں کہ انہوں نے ان مہربان ملکوں کے شہریوں کے ٹیکسوں سے ارسال کی گئی رقوم کا کیا استعمال کیا۔ آپ کے شہر میں انسانی زندگی کو کیا آسانیاں فراہم کی ہیں۔ میری تحقیق کے مطابق 1۔شہری معاملات میں، فیصلوں میں عوام کو شریک کیا جائے۔ 2۔علاج معالجے کے سلسلے میں بھی شہریوں کو منصوبوں تک رسائی ہو۔ 3۔شہری اپنے اہل خانہ، احباب کی صحت اور تحفظ کے سلسلے میں مطمئن ہوں۔ 4۔تعلیم، ملازمت اور تفریح کی سہولتیں۔ 5۔ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی میں عوام کی بھرپور شرکت۔ 6۔زندگی کو آسان اور معیاری بنانے کے لئے تمام مالی وسائل۔ 7۔سارے شہروں میں اور شہر کے مختلف علاقوں میں ایک سی سہولتیں، امتیاز نہ رکھا جائے۔
اس کے لئے تمام شہروں میں رہنے والوں کو خود بھی متحرک اور سرگرم ہونا ہوگا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker