کالملکھاریمحمود شام

آپ کی قیمت کون وصول کررہا ہے: مملکت اے مملکت / محمود شام

ہم باتیں بناتے ہیں اور وہ ہماری باتوں باتوں سے کروڑوں ڈالر کماتے ہیں۔
وہ کھیل پر کھیل بناتے ہیں۔ ہم بڑے چھوٹے غریب امیر سب کھیلتے ہیں۔ اور وہ اس سے بے حساب مال بناتے ہیں۔ ہم سب بازار میں برائے فروخت رکھے ہوئے ہیں۔ہم بک رہے ہیں۔ ہماری قیمت کوئی اور وصول کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ہاتھ میں ایک جیبی سائز کی ڈبیا ہے۔ یہ الہ دین کے چراغ سے کہیں بڑی جادوئی حیرت بن گئی ہے۔پہلے انہیں ہزاروں میل دور اپنے جاسوس رکھنے پڑتے تھے۔ جو محکوم کرنے سے پہلے قوموں کا مزاج سمجھتے تھے ان کی اچھی بری عادتیں۔ رہن سہن کے طور طریقے جان کر اپنے حکمرانوں کو با خبر کرتے تھے۔ بعد میں سفارت کار بھی یہی کرتے تھے۔ اپنا ڈپلومیٹک بیگ بھیجنے کے مقررہ دن سے پہلے بولائے ہوئے پھرتے تھے۔ جس کسی سے خفیہ معلومات مل سکیں۔ اس کی منت سماجت کرتے۔ اپنے بیگ کا پیٹ بھرتے۔ کبھی کبھی انہیں ہزاروں میل دور اپنے لاؤ لشکر سمیت جانا پڑتا۔ سالوں لڑائیاں لڑتے۔اب یہ فتوحات برقی آلات کے ذریعے ہورہی ہیں۔ زیادہ گہرائی اور استحکام کے ساتھ۔ پیسہ بھی خرچ نہیں ہورہا۔ نفری بھی استعمال نہیں ہورہی۔ لیکن معلومات پہلے سے کہیں زیادہ مل رہی ہیں۔ اور کروڑوں انسان ذہنی اور اعصابی طور پر محکوم بن رہے ہیں۔ ہماری عادتیں بدلی جارہی ہیں۔ روز مرہ میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ہماری زبان تبدیل ہورہی ہے۔ اور یہ سب کچھ بلا امتیاز مذہب۔ نسل۔ زبان ہورہا ہے۔ کہیں کوئی مزاحمت نہیں ہے۔
ہم جنہیں کھلونے سمجھ کر خوش ہورہے ہیں۔ وہ بڑا دور مار اسلحہ ہے۔ ہم سے ہزاروں میل دور کنٹرول روم میں عام اہلکار نہیں۔ نیورو سائنٹسٹ بیٹھے ہیں۔ ماہرین نفسیات مامور ہیں۔ دن رات تجزیے ہورہے ہیں۔ فرد کے بھی۔ ملت کے بھی۔ ہم سب اسمارٹ فون کے رسیا ہورہے ہیں۔ قرض لے کر بھی مہنگے فون خریدے جاتے ہیں۔ اس طرح ہم خود اپنی مرضی سے ہائی ٹیک غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالتے ہیں۔ ٹیکنالوجی انسان ایجاد کرتا ہے۔ انسان استعمال کرتا ہے۔ لیکن ہم جیسی قومیں جو صرف جذبات سے سوچتی ہیں۔ جذبات میں عمل کرتی ہیں۔ جذبات سے ردّ عمل ظاہر کرتی ہیں۔ کوئی چھوٹی سی چیز بھی ایجاد نہیں کرتیں۔ صرف نئے نئے نعرے تراشتی ہیں۔ کبھی روٹی کپڑا مکان۔ مانگ رہا ہے ہر انسان۔ کبھی ’گنجے کے سر پر ہل چلے گا‘۔ کبھی ’جاگ پنجابی جاگ تری پگ نوں لگ گئے داغ‘۔ یا ’جب تک سورج چاند رہے گا۔ بھٹو تیرا نام رہے گا‘۔’تبدیلی آئی نہیں۔ تبدیلی آگئی ہے‘۔ اور اس طرح کے نعرے۔ وہ جب یہ نئے نئے برقی آلات آتے ہیں تو ان سے چپک کر رہ جاتی ہیں۔یہاں وہ ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتے۔ بلکہ ٹیکنالوجی انہیں استعمال کرتی ہے۔
’فیس بک‘ پر ہم سب کے چہرے چمکتے ہیں۔ اس کے نوجوان بانی نے امریکی نمائندگان کے سامنے معلومات کے افشا ہونے پر معذرت بھی کی ہے۔ اور آئندہ لوگوں کے ذاتی کوائف کے تحفظ کا یقین دلایا ہے۔ اس کے بعد امریکی اور یورپی میڈیا میں جو انکشافات ہورہے ہیں وہ رونگٹے کھڑے کردینے والے ہیں۔ یہ صرف الفاظ۔ اعداد۔کلک کا کھیل نہیں ہے۔ ہم تو ایک دوسرے سے اٹکھیلیاں کررہے ہوتے ہیں۔ اپنی غزلیں پوسٹ کررہے ہوتے ہیں۔ اپنے پسندیدہ ناپسندیدہ سیاست دان کے قصیدے یا ہجو درج کررہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ ہماری انہیں حرکتوں سے بہت کچھ اخذ کررہے ہوتے ہیں۔
ان کے دعوے ملاحظہ ہوں۔ اوّلیں قوم دعویٰ تو یہ ہے کہ انسانی خیالات۔ اور اقدامات پر کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا جائے۔ کمپیوٹر انسانی رویوں پر کیسے اثر انداز ہورہے ہیں۔ فیس بک۔ انسٹا گرام۔ میسنجر یا ٹوئٹر شروع کرنے سے پہلے ایک ایسا مبسوط۔ مربوط نیٹ ورک (نظام) مرتب کیا جاتا ہے جس سے انہیں ہمارے اور آپ کے بارے میں نفسیاتی معلومات از خود حاصل ہوتی رہتی ہیں۔ آپ ان کے مقرر کردہ گروپوں میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ جب بھی ان میں سے کوئی پروگرام آپ استعمال کرتے ہیں۔ آپ اپنا نقش قدم وہاں چھوڑ رہے ہیں۔ جوان کے لئے گرانقدر متاع ہے۔ یہ اسمارٹ فون ہمارا چال چلن۔ ہماری عادتیں ہمارے رویے ریکارڈ کررہا ہے۔ آپ کس بات پر دُکھی ہوتے ہیں کس بات پر خوش۔آپ تو صرف انکے دئیے ہوئے رنگوں۔ کارٹونوں۔ چہروں پر انگلی رکھتے ہیں اور خوش ہوجاتے ہیں۔مگر وہاں آپ انکے خزانوں میں بیش بہا اضافہ کرتے ہیں۔ ان اشاروں سے ان کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ یہ براہِ راست آپ کے دماغ پر حملہ کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دماغ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو اسے ہائی جیک کیا جاسکتا ہے۔ اپنی مرضی کے مطابق پروگرام میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ دماغ کو اپنے زیر تسلط لاکر یہ آپ کی عادت سازی میں شریک ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی دعویٰ ہے کہ آپ جو بننا چاہتے ہیں یہ آپ کو نہیں بننے دینگے۔ بچوں کو بھی انہوں نے فون کا عادی بنادیا ہے۔ وہ اگر چہ کھیلوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔لیکن یہ کھیل کھیل میں ہی انکو اپنا عادی بلکہ غلام بنالیتے ہیں۔ انہیں لا شعوری طور پر مجبور کردیتے ہیں کہ وہ کونسا کھیل کھیلیں۔ آپ تو یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ بچے برقی کھیلوں میں مصروف ہیں۔ کرکٹ فٹ بال بھول بھلیاں مگر وہ اسی میں الجھ کر انکی دُنیا کا عادی ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہ جیبی ڈبیا عادت سازی کا ہتھیار بن رہی ہے۔ ایک کمپنی سان فرانسسکو میں ہر سال Habit Summit( عادت کا سربراہی اجلاس) بھی منعقد کرتی ہے۔ جہاں بڑی کمپنیاں شریک ہوتی ہیں۔ مختلف افراد اور مختلف قوموں کی عادتیں بدلنے۔ بنانے۔ بگاڑنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کرتی ہیں۔ یہ آلات اور پروگرام کہے تو جاتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان آزادانہ رابطے کا ذریعہ ہیں۔ لیکن ان سے کروڑوں ڈالر منافع کمایا جارہا ہے۔آپ تو یہ سمجھتے ہیں کہ مختلف پروگراموں سے مفت رابطہ کررہے ہیں۔ مفت فون کررہے ہیں۔ لمبی لمبی باتیں کرتے ہیں۔ کاروباری امور ۔ رشتوں کا میل ملاپ۔ عشق بھی آزادی سے ہوتے ہیں۔ لیکن آپ اپنے بارے میں قیمتی معلومات ان کے حوالے کررہے ہوتے ہیں۔ آپ جنہیں بے دام سمجھتے ہیں وہ ان کے لئے بہت کارآمد ہیں۔
بہت سے پروگرام آپ کو سونے نہیں دیتے۔ فلمیں دکھانے والا پروگرام یہ کہتا ہے کہ ہمارا کاروباری رقیب صرف نیند ہے۔ ہم نیند کا مقابلہ کررہے ہیں۔آپ کے اور میرے بارے میں فیس بک۔ انسٹا گرام۔ میسنجر۔ ٹوئٹر اور ایسی دوسری سہولتوں سے انہیں جو معلومات ملتی ہیں ۔ ہماری پسند نا پسند۔غم یا خوشی۔ کس موقع پر ہمارا ردّ عمل کیا ہوتا ہے۔ اسے یہ لوگ تجارتی کمپنیوں۔ اشتہاری کمپنیوں۔ سیاستدانوں۔ حکومتوں کے ہاتھ بیچتے ہیں۔ کہیں کہیں یہ بحث چل رہی ہے کہ اپنے منافع میں اضافے کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔ یا صارفین کی ذاتی زندگی اور ان کی خوشحالی کا خیال رکھا جائے۔ابھی تک کارپوریٹ منافع کو برتری حاصل ہے۔ یعنی سب سے بڑا روپیا۔ یہ رُجحانات ہمارے ہاں بھی آچکے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بہت سی کمپنیاں ہماری معلومات فروخت کررہی ہیں۔ ہم نیلام ہورہے ہیں۔ بے نقاب ہورہے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم معاشرہ مرضی کے مطابق تشکیل دے سکتے ہیں۔ ہم دماغوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔
ہمیں اور آپ کو کیا کرنا چاہئے۔ پہلے تولیں۔ پھر بولیں۔ گھروں میں ان معاملات پر بات کریں۔ اس جیبی ڈبیا کو آپ مرضی سے استعمال کریں۔ اسے موقع نہ دیں کہ یہ آپ کو استعمال کرے۔ یہ آپ کو اس استعمال کنندہ کی بجائے ایک معمول ایک پروڈکٹ بنارہی ہے۔ آپ اشرف المخلوقات ہیں ۔ اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے نائب۔ اقبال نے کہا تھا:
عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہیں
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker