کالملکھاریمحمود شام

زمینی حقائق۔ سلگتی چنگاریاں: مملکت اے مملکت / محمود شام

سوہنی اپنے مہینوال سے ملنے کے لئے اب بھی گھڑا لئے دریا میں اُترنے کے لئے تیار ہے۔
کوئی ہے جو اسے اکیسویں صدی کی تیز رفتار کشتی لے کر دے دے۔
رانجھا اکیلا ہیر کی آس میں بانسری بجارہا ہے۔
کوئی ہے جو سیالوں کو سمجھائے۔ ضد چھوڑ دیں۔
جدید ترین ٹیکنالوجی کے دَور میں بھی یہ کہانیاں کیا اسی طرح اُدھوری رہ جائیں گی۔
پنجاب۔ جسے مشرقی پاکستان ایک طرف اور دوسری طرف چھوٹے صوبے اپنی محرومیوں کا ذمہ دار اور نادیدہ حکمرانوں کا گماشتہ قرار دیتے تھے۔ اس کا ایک لیڈر۔ اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہا ہے۔ چھوٹے صوبے سے یہ آوازآتی تھی تو تاریخ اور جغرافیہ دونوں کہا کرتے تھے کیا پدّی اور کیا پدّی کا شوربہ۔ لیکن اب تاریخ کڑی دھوپ میں بھی کپکپارہی ہے۔ جغرافیہ سر پر پانی کی بالٹیاں خالی کررہا ہے۔گلی کوچوں کی دانش گو مگو میں ہے کہ اب کے فریقین میں سے کون جیتے گا۔ ہمیشہ کے فاتح کے بارے میں کچھ تذبذب ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اپنی کرپشن۔ لوٹ مار۔ کوتاہیوں۔ غلط منصوبہ بندیوں۔ ناقص ترجیحات پر پردہ ڈالنے کے لئے مقتدر قوتوں پر الزامات عائد کرکے وقتی طور پر تالیاں بجوائی جاسکتی ہیں۔ الیکشن بھی جیتا جاسکتا ہے۔ لیکن ملک کو مستحکم نہیں کیاجاسکتا۔ اگر میاں صاحب مخلص ہوتے تو گزشتہ 35سال میں تخت و تاج کئی بار ان کے پاس رہا۔ یہ ان رُجحانات کو کیوں تبدیل نہ کرسکے۔ جنہیں اب وہ 70سال کے انحطاط کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ اب نا اہل ہونے کے بعد اچانک کونسی اہلیت ان کے پاس آگئی ہے۔ جو بھاری مینڈیٹ لے کر وہ ملک کی تقدیر ہی بدل دیں گے۔ 35سال میں ملک کو کوئی سمت تو دی ہوتی۔
منظر نامہ یقیناً بدل رہا ہے۔ پرانی سیاست گری خوار ہے۔ زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے۔
غالب نے کہا تھا۔ درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا۔
درد واقعی حد سے گزر چکا ہے۔ وزیرستان کے پہاڑ اور پہاڑ جیسے لوگوں کے تیور یہ بتارہے ہیں بلوچستان کے سنگلاخ کوچے زبان حال سے بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ کراچی کی چورنگیاں سرگوشیاں کررہی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ریگزاروں میں فرید کی کُوک گونج رہی ہے۔
جنرل قمر باجوہ نے میونخ کانفرنس میں حقیقت بیان کی تھی کہ ہم نے گزشتہ 40سال پہلے جوبویا تھا وہ کاٹ رہے ہیں۔ معیشت اور انتظامیہ کی نبض پر انگلیاں رکھنے والے ڈاکٹر عشرت حسین کے نزدیک زوال کا سفر 25سال پہلے شروع ہوچکا۔ شوکت ترین 70ء کی دہائی سے پبلک سیکٹر کے مسلسل خسارے کو ہماری بیماری کا سبب قرار دے رہے ہیں۔ وہ یہ انکشاف بھی کررہے ہیں کہ پرائیویٹ بینکوں کے سب سے زیادہ وارے نیارے ہیں۔ڈپازٹ وہ سارے صوبوں سے لے رہے ہیں۔ لیکن قرض کی سہولت صرف چند بڑے شہروں میں دے رہے ہیں۔ اس طرح آزاد جموں و کشمیر، گلگت ،فاٹا، کے پی کے، بلوچستان ، سندھ اور جنوبی پنجاب میں بینک سرمایہ کاری نہیں کررہے ۔ یہ سب مسلمہ سچائیاں ہیں۔ عام پاکستانی ان نا انصافیوں کے باعث بڑی مشکل سے زندگی کی گاڑی کھینچ ر ہےہیں۔
ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔ منتخب حکومت پانچ سال پورے کرنے کے بعد رخصت ہونے والی ہے۔ یہ نگرانوں کے لئے کئی ہزار ارب کے قرضے۔ اور تجارتی خسارہ چھوڑ کر جائے گی۔ نگران حکومت کے لئے سب سے پہلا مرحلہ تو دو ڈھائی مہینے کیلئےنقدی کا انتظام کرنے کا ہوگا۔ نگران وزیر اعظم کے نام کا انتخاب اپوزیشن لیڈراور وزیراعظم کے درمیان مفاہمت پر چھوڑنے کی آئینی ترمیم لانے والوں نے اسے بڑا کمال سمجھا ہوگا۔ انہیں کیا خبر ہوگی کہ 2018کے الیکشن کے وقت ان دونوں بڑے عہدوں پر کٹھ پتلیاں رونق افروز ہوں گی۔ وزیر اعظم خود کوئی فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ اپوزیشن لیڈر۔ عام طور پر متوقع یا متبادل وزیر اعظم ہوتا ہے۔ الیکشن جیتنے کی صورت میں وہ قائد ایوان ہوسکتا ہے۔ مگر یہاں تو پہلے سے اعلان موجود ہے کہ وزیرا عظم بلاول بھٹو زرداری ہوں گے۔ کٹھ پتلیوں کی باہمی مشاورت سے کیسا نگراں وزیرا عظم ظہور پذیر ہوسکتا ہے۔
یہ نگراں وزیر اعظم۔ کابینہ۔ الیکشن کا شیڈول۔ قومی سیاسی جماعتوں کے منشور یہ سب اوپر کا تماشا ہے ۔ یہ دھواں ہے جو پھیل رہا ہے۔ زمینی حقائق اس کے اندر پنہاں ہیں۔ چنگاریاں سلگ رہی ہیں۔ کسی وقت بھی شعلے بن سکتی ہیں۔ہم سب حقائق ارض سے بے خبر ہیں۔ فوج کے پاس پھر بھی ذرائع اور وسائل ہیں انہیں معلومات ہیں کہ فاٹا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پاکستانی کیا سوچ رہے ہیں ۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے خراب حکمرانی ۔ فیصلہ سازی سے گریز۔ قرضوں کے بوجھ۔ امن و امان کی بد تر صورتحال۔ دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستانی مہم ۔ امریکی ڈرون کے حملوں سے پاکستانی بزرگوں۔ نوجوانوں۔ خواتین اور بچوں کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ وہاں سینہ بسینہ کیا مثنویاں قلمبند کی جارہی ہیں۔ کیا گیت گائے جارہے ہیں۔1979سے پہلے کمیونزم۔ بعد میں دہشت گردی کے خلاف آتش و آہن کے استعمال سے سب سے زیادہ متاثر ہمارے قبائلی علاقے ہوئے ہیں۔ جانی مالی قربانیاں۔ اندرونی بے دخلیاں۔ تعلیم اور صحت میں رُکاوٹیں۔ یہ سب مصائب قبائلی پاکستانیوں نے برداشت کئے ہیں۔
پورے پاکستان میں بیدلی اور ذہنی بے چینی ہے۔ اسے مذہبی لیڈر۔ علاقائی لیڈر اپنے اپنے طور پر مزید بڑھارہے ہیں۔ قومی سطح کا کوئی ایسالیڈر نہیں ہے جو آزاد جموں و کشمیر۔ گلگت۔ فاٹا۔ کے پی کے بلوچستان ۔ سندھ۔ پنجاب۔ جنوبی پنجاب میں یکساں طور پر مقبول ہو۔ جس کی پارٹی کی جڑیں ان سب مقامات میں موجود ہوں۔ اصل المیہ تو یہ ہے ۔ ایسے خلا میں علاقائی قیادتیں ابھرتی ہیں۔ نسل پرستی غالب آتی ہے۔ لسانیت کا سکہ چلتا ہے۔ برادریاں زور پکڑتی ہیں۔ فرقہ واریت کافروغ ہوتا ہے۔
پاکستان کے دشمنوں۔ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایسی صورتِ حال بڑی سازگار محسوس ہوتی ہے۔وہ علاقائی قیادتوں کی سرپرستی کرتی ہے۔
ایک طرف قومی قیادت کا خلا۔ علاقائی قیادتوں کا ظہور۔ دوسری طرف معیشت کی بد حالی۔ قرضوں کا بوجھ۔ تجارت کا خسارہ۔ پبلک سیکٹر کی کارپوریشنوں میں 700ارب سے زیادہ کے نقصانات۔ یہ سب مل کر ایک ڈراؤنا خواب بن جاتے ہیں۔
پورا ملک ہی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلارہا ہے۔ ہم سب اپنی آمدنی سے زیادہ اخراجات پر مجبور ہیں۔ فی کس آمدنی مسلسل کم ہورہی ہے۔ ہماری معیشت بھی معلق ہے۔ منصوبہ بندی بھی۔ہماری ذہنی حالت بھی ۔ فیصلے کرنے کی جرات کسی میں بھی نہیں ہے۔ نئے صوبے نہیں بنارہے۔ بڑے ڈیم کا ارادہ نہیں ۔۔۔ہمسایوں سے اچھے تعلقات کا نہیں سوچ رہے۔
معلق معیشت کے مقابلے کے لئےتو آئی ایم ایف سے رجوع ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ماہرین معیشت کہہ رہے ہیں کہ نو منتخب حکومت کو آئی ایم ایف سے پروگرام لینا ہوگا۔
وہاں سے کیا کیا شرائط قبول کرنا پڑیں گی۔یہ تو سخت گرمی میں تالیاں بجانے والے نہیں سوچ رہے ۔جذبات کی جھاگ اچھالی جارہی ہے۔دھواں پھیلایا جارہا ہے۔ جوش بیچا جارہا ہے۔ ہوش فکسڈ ڈپازٹ میں رکھا جارہا ہے۔
یہ تو ماہرین معیشت ہی بتاسکتے ہیں کہ کیا سی پیک کے فنڈز آئی ایم ایف کے پروگرام کا متبادل بن سکتے ہیں۔
سب کے پیش نظر صرف الیکشن کی جیت ہے۔ اس لئے ممکنہ متوقع منتخب ہستیوں پر سب کی نظریں ہیں۔اور یہ قابل انتخاب بھی اس پارٹی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ جسے پیا چاہے۔ لیکن اس وقت اصل مسئلہ الیکشن جیتنا نہیں پاکستانیوں کے دل اور دماغ جیتنا ہے۔ جو گزشتہ 40سال سے مسلسل نظر انداز کئے جارہے ہیں۔ یہ جیتے جاگتے انسانوں کے دل اور دماغ ہیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے۔ نسل پرستی۔فرقہ واریت۔ لسانیت کے خاتمے۔ علم و دانش کے فروغ کی۔
معلق معیشت۔ معلق قومی دل و دماغ۔ معلق عقیدت۔ معلق قیادت۔ معلق پارلیمنٹ کو ہی جنم دے سکتی ہے۔
چاہے یہ طبعی ولادت ہو یا سرجیکل۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker