رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

شیر افضل جعفری کی نظم اور جھنگ کا نوبل ملنگ ۔۔ رضی الدین رضی

بعض اوقات کوئی ایک شعر ،کوئی ایک لفظ یا مصرع ہمیں ان جہانوں میں لے جاتا ہے جہاں اور بہت سی حیرتیں ہماری منتظر ہوتی ہیں۔بڑے شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ جب وہ شعر کہتا ہے اور اپنی ثقافت اور دھرتی کے ساتھ مکمل وابستگی کے ساتھ شعر کہتا ہے تو اس میں محبتیں بھی موجودہوتی ہیں ، حیرتیں بھی دھرتی کے ساتھ جڑت بھی اور بہت سے نئے جہان بھی۔پھرہم ان لفظوں یا مصرعوں کے تعاقب میں ان جہانوں سے آشنا ہوتے ہیں جو یا تو ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں یا پھر ہم نے ان پر توجہ ہی نہیں دی ہوتی ۔شیرافضل جعفری کی ایک نظم بھی ہمیں نئے جہانوں اور نئے منظروں میں لے گئی۔ یہ نظم برادرم نوازش علی ندیم نے آج ہی فیس بک پرتبرک کے طورپر شائع کی اور اس کے ساتھ یہ تحریر کیا کہ کیسے کیسے نادرلوگ نادرلفظیات کے ساتھ مہکتے اورچہکتے تھے۔نوازش کے ان لفظوں نے ہمیں اپنی جانب متوجہ کیا اور جب ہم نے نظم کامطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ شیرافضل جعفری نے وہ نظم تو نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کہی تھی۔فی زمانہ احتیاط کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ایسی نظمیں سیاق و سباق سے ہٹ کرملفوف انداز میں شائع کی جائیں تاکہ نظم بھی محفوظ ہوجائے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو ۔پہلے شعر سے ہی یہ ظاہرہوتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں یہ نظم جس زمانے میں کہی گئی اس وقت انہیں نوبل انعام مل چکا تھا۔اور نوبل انعام ملنے کے بعد پاکستان میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اور جس طرح ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانی ہونے کی وجہ سے پاکستانی تسلیم کرنے میں بھی جھجھک کا مظاہرہ کیاگیا وہ سب کچھ اس نظم کے پہلے مصرعے سے ہی واضح ہوگیاہے۔شیرافضل جعفری نے اسی لیے ڈاکٹر عبدالسلام کو” اوپرا“فرزندِ جھنگ کہا۔” عبدالسلام اوپرا فرزندِ جھنگ ہے “ ۔۔ پنجابی اورجھنگوی زبان سمجھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ” اوپرا“ اجنبی کو کہتے ہیں۔اوراجنبی انہیں اس لیے کہاگیا کہ وہ دنیا کاسب سے بڑا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی تھے ۔ انہیں اس اعزاز سے دنیا بھر میں جانے گئے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو بھی نئی پہچان ملی لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنے ہی دیس میں اجنبیت کا سامنا کرناپڑااور یہ اجنبیت آج ان کی وفات کے کئی برس بعد بھی برقرارہے۔نوبل انعام ملنے کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام کوجنرل ضیاءالحق نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں مدعو کیاتھا تاکہ انہیں اس یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈگری عطا کی جاسکے۔یہ ڈگری ڈاکٹر عبدالسلام کی بجائے یونیورسٹی اور پاکستان کے لیے باعث اعزاز ہوتی لیکن جنرل ضیاءالحق جیسا طاقت ور حکمران بھی اس وقت کے مذہبی جنونیوں کے سامنے بے بس ہوگیا ۔انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد یہ تقریب یونیورسٹی کی بجائے ایوان صدر میں منعقد کی گئی۔اور اس کے بعد ڈاکٹر سلام دوبارہ کبھی پاکستان نہیں آئے ۔ اسی یونیورسٹی میں جب گزشتہ برس شعبہ طبعیات کو ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کیاگیا تو ان کا اجنبی ہونا ایک بارپھر ابھر کر سامنے آگیا۔خیر یہ ایک الگ بحث ہے ۔آیئے دوبارہ نظم پر بات کرتے ہیں اور اس کے دوسرے مصرعے کو پڑھتے ہیں جس میں شیر افضل جعفری نے انہیں سلطان ہاتھی وان کا نوبل ملنگ قراردیا ہے ۔مکمل شعر کچھ اس طرح ہے ۔


عبدالسلام اوپرا فرزندِ جھنگ ہے
سلطان ہاتھی وان کا نوبل ملنگ ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سلطان ہاتھی وان بھلا کیا ہے۔یہ معلوم کرنے کے لیے ہمیں کسی ایسے دوست کی مدد درکارتھی جو جھنگ اور اس کے مضافات کے بارے میں معلومات رکھتا ہو۔اس مصرعے سے یہ تو اندازہ ہورہاتھا کہ سلطان ہاتھی وان کسی علاقے کا نام ہے لیکن وہ علاقہ کس جگہ ہے یہ ہمیں راﺅ علی عامرسلطان ہی بتاسکتے تھے۔ راﺅ علی عامرسلطان اے پی پی فیصل آباد کے سینئر رپورٹر اور ہمارے چیندہ دوستوں میں شامل ہیں ۔راﺅ صاحب شورکوٹ کے رہائشی ہیں اوران کی وجہ سے ہمارے دوست ارشد چودھری شورکوٹ کوبھی شورشریف کے نام سے پکارتے ہیں۔ جھنگ شورکوٹ کے بارے میں راﺅ صاحب کی معلومات کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ان کی زبانی معلوم ہوا کہ سلطان ہاتھی وان ایک بزرگ کا نام ہے جن کا مزار شورکوٹ جھنگ روڈ پر شورکوٹ سے 11کلومیٹر دور میرک سیال کے مقام پر موجودہےاس جگہ کو اڈہ میرک سیال کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ۔اہل تشیع اس مزار سے عقیدت رکھتے ہیں اور شیرافضل جعفری صاحب نے جب ڈاکٹر عبدالسلام کو سلطان ہاتھی وان کا نوبل ملنگ قراردیا توانہوں نے اس دربار کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اپنی وابستگی اور عقیدت ظاہرکی بلکہ انہوں نے یہاں نوبل کالفظ بھی اس مہارت کے ساتھ استعمال کیا کہ اس میں ہمیں نوبل انعام کے ساتھ ساتھ معزز کے معنی بھی واضح دکھائی دیتے ہیں۔اسی نظم کے چوتھے شعر میں شیرافضل جعفری نے ڈاکٹرعبدالسلام کو فزکس کی فرات کا صادق نہنگ قراردیاہے۔صادق نہنگ بھی ایک بزرگ ہیں جن کا مزار سلطان ہاتھی وان کے مزار سے چارکلومیٹر کے فاصلے پر موجودہے۔سلطان ہاتھی وان کے پیروکار صادق نہنگ کے مزار سے بھی بھر پور وابستگی اورعقیدت رکھتے ہیں ۔ نظم کے اگلے شعر میں حضرت سلطان باہو کا تذکرہ موجودہے اور پھرحضرت لکھ بخش اور حضرت سخی سرور کا ذکر بھی اس نظم کے اشعار میں پڑھنے کو ملتا ہے۔


یہ شخص کیمیا کا ہے ابدال خوش خیال
فزکس کی فرات کا صادق نہنگ ہے
۔۔۔
خمرا ھے یہ تو حضرتِ باہو کے دیس کا
اس کے سرود و سوز پہ اللہ کا رنگ ہے
۔۔۔
لکھ بخش کے طفیل ہیں یہ گہما گہمیاں
جلسہ نہیں ہے یہ سخی سرور کا سنگ ہے
شیرافضل جعفری خودبھی فقہ جعفریہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ان تمام مزارات کے ساتھ ان کی والہانہ وابستگی اور عقیدت ہمیں اس نظم سے جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔شیرافضل جعفری نے نظم کے آخری شعر میں جھنگ کے مست چنہاں (چناب)کابھی ذکرکیاہے۔ چناب کا ذکرپڑھا تو پھرہمیں جھنگ کی ملتان کے ساتھ وابستگی یادآگئی کہ چناب صرف جھنگ سے ہی نہیں ملتان سے بھی گزرتا ہے۔اورپھریادآیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے ایک بھائی عبدالشکورکی ملتان میں ریڈیومرمت کی دکان تھی ۔وہ ریڈیو مکینک تھے اور صدر بازار میں کینٹ تھانے کے قریب جہاں آج بھی وردیاں ،بیج اور شیلڈیں بنانے والی بڑی دکان موجودہے اس کے سامنے ان کی دکان ہوتی تھی۔اور قریب ہی حزیں صدیقی کی بیٹھک تھی ۔ہم اپنے کلاس فیلو طاہر محمود کی وجہ سے اس دکان سےزیادہ آشنا تھے کہ اس کا دوست اسی دکان پر کام کرتا تھا اور کبھی اگر ہمارا ٹرانسسٹر یا ٹیپ ریکارڈرخراب ہوتا تو طاہر کے ہمراہ شکور صاحب کے پاس ہی لے کر جاتے تھے۔طاہر محمود آج کل کینیڈا میں مقیم ہےاور ملتان کو یاد کرتا ہے ۔ لیکن طاہر سے بھی پہلے ہمیں شکورصاحب کا تعارف ہمارے دادا نے کرا دیا تھا اور جب ڈاکٹر سلام کو نوبل انعام ملا تو ہمارے دادا نے شکور صاحب کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہمیں بتایا تھا کہ یہ ڈاکٹر عبدالسلام کے بھائی کی دکان ہے ۔ اور یہ علم ہونے کے بعد ہمارے دل میں شکور صاحب کے لیے بھی محبت اور احترام کے جذبات پیداہوگئے۔اور آیئے اب اس نظم کا لطف لیجئے جس نے ہمیں اتنے بہت سے منظر اور ہستیاں یاد کرا دیں ۔


عبدالسلام اوپرا فرزندِ جھنگ ہے
سلطان ہاتھی وان کا نوبل ملنگ ہے
۔۔۔
لیتا ہے گنگنا کے ریاضی کو بانہہ میں
سائنس اس کتاب دلارے کی منگ ہے
۔۔۔
ذرے کے بھوم راگ کی سولہ سنگارتان
تارے کی چندر کونس کا سنگیت انگ ہے
۔۔۔
یہ شخص کیمیا کا ہے ابدال خوش خیال
فزکس کی فرات کا صادق نہنگ ہے
۔۔۔
خمرا ہے یہ تو حضرتِ باہو کے دیس کا
اس کے سرود و سوز پہ اللہ کا رنگ ہے
۔۔۔
کرتا ہے رام گردشِ دوراں کو فکر سے
چودھار اس کی سوچ کلائی کی ونگ ہے
۔۔۔
کنکو اباز ھے یہ خلا کی بسنت ہے
اس کی نگاہ ڈور ہے چندا پتنگ ہے
۔۔۔
لکھ بخش کے طفیل ہیں یہ گہما گہمیاں
جلسہ نہیں ہے یہ سخی سرور کا سنگ ہے
۔۔۔
اس کی خموشیوں میں غزلخواں مذاکرے
اور اس کی بات بات نیرنگ چنگ ہے
۔۔۔
ڈالے ہوئے غریباں ہیں دانتوں میں انگلیاں
اس کے جمال ذہن پہ یوروپ بہ چنگ ہے
۔۔۔
یہ راز دانِ آتش و آب و ہوا و گل
دانش وران دیس کے دل کی امنگ ہے
۔۔۔
گاتا ہے تجزیے کے نشے میں ازل غزل
اس کے لئے وضو کی تری جل ترنگ ہے
۔۔۔
اللہ رے سپوت محمد حسین کا
کردار کی چنارکی رنگیں پھننگ ہے
۔۔۔
اے پاک سرزمیں ترے مست چنہاں کی خیر
اس کے جنوں پہ عقلِ ارسطو بھی دنگ ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker