ملتان۔(اے پی پی):موسمیاتی تغیرات گزشتہ برس کے سیلاب اوردیگروجوہات کی بناءپرپاکستان میں آم کی پیداواربری طرح متاثرہوئی ہے۔
سندھ میں ٹنڈوآدم سانگھڑاوردیگرمقامات پرآموں کے باغات میں ابھی تک گزشتہ برس کی بارشوں کاپانی جمع ہے جبکہ ملتان ،بہاولپور،رحیم یارخان اوردیگرعلاقوں میں آموں کے باغات کو سڈن ڈیتھ نامی بیماری کاسامناہےاس بیماری سےدوسال قبل بھی آموں کی پیداوارمتاثرہوئی تھی۔گزشتہ برس پاکستان سے آموں کی برآمدمیں 25ہزارٹن کی کمی دیکھنے میں آئی تھی جس میں اس مرتبہ مزیداضافہ ہوجائےگا۔ملتان میں آموں کے کاشتکاراور معروف زرعی ماہر ملک سلیم اخترمہے نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ موسم میں مسلسل اتارچڑھاﺅ کی وجہ سے آم کے بور کی نشوونما نہیں ہوسکی اس کے علاوہ بہت سے درختوں کو سڈن ڈیتھ کابھی سامناہے ۔زکریایونیورسٹی شعبہ ہارٹیکلچر کےایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹرکاشف رزاق نے بتایاکہ پاکستان بھرمیں مجموعی طورپرسڈن ڈیتھ سے چارسے بارہ فیصد درخت متاثرہوئےہیں اور یہ کوئی اتنی بڑی تعدادنہیں ہے تاہم اس سے پیداوارمیں کمی ضرور آئےگی ۔
انہوں نے کہاکہ سڈن ڈیتھ کی وجوہات میں پانی کی زیادتی بنیادی وجہ ہے،زیا دہ پانی کاجمع ہوجانادرختوں کی جڑوں کو متاثرکرتاہےاورجڑیں گل سڑجانےکی صورت میں پورادرخت متاثرہوتاہے اس سے بچاﺅکےلئےبہت سے طریقے ہیں جن سےکاشتکاروں کو آگاہ کرناضروری ہے،سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ درخت کی جڑوں سے نصف تنے تک مٹی کالیپ کردیاجاتاہے جودرخت کو بیماری سے بچاتاہے ۔

