اختصارئےسرائیکی وسیبلکھاریمنشاء فریدی

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے وسیب کی توقعات ۔۔ منشاء فریدی

ایک موقر قومی اخبار نے سردارعثمان بزدار سے متعلق اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ اُن کا انتخاب جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنے اور پسماندہ علاقے کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ ہمارے نئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ایسی کارکردگی دکھاؤں گا جو ماضی میں کسی وزیر اعلیٰ نے نہیں دکھائی ہو گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ عہد اس وقت اہل سرائیکی اور اہل پنجاب کے دل کی ترجمانی ہے۔لوگ پُر اُمید بھی ہیں کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اُن کے بنیادی مسائل بخوبی حل کر سکتے ہیں کیونکہ موصوف پاکستان،خصوصاً پنجاب کی پسماندہ تحصیل تونسہ کے پسماندہ ترین علاقہ کوہ سلیمان بارتھی سے تعلق رکھنے کی بناء پر سُلگتے بنیادی مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اس کے چہیتے مقامی سرداروں نے اہالیان ضلع ڈیرہ غازیخان کو سوائے محرومیوں کے کچھ نہ دیا۔سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری تعلیمی اداروں کا گھٹیا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ سابقہ کرپٹ سیاسی نظام اور تخت لاہور کے خوشامدیوں نے یہاں کے شہریوں کا استحصال کیا۔ اس استحصال کی گونج حالیہ انتخابات سے قبل سنائی دینے لگی۔وقت کی سماعت سے جب یہ گونج ٹکرائی تو نتیجہ اس انداز سے سامنے آیا کہ اداروں میں اصلاحات کی دعویدار جماعت پاکستان تحریک انصاف بر سر اقتدار آگئی۔یوں چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان ،وزیر اعظم پاکستان اور عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پبلک کا یہ خواب کب پورا ہوگا۔۔؟حلقہ این اے 192میں رہائش پذیر بزدار قبائل کے افراد مجموعی طور پر قانون کے معاون ،تعلیم یافتہ اور نہایت شریف الطبع ہیں۔یہ وجہ ہے کہ اس حلقہ میں بسنے والی دیگر برادریاں خاطر خواہ اور قابل ذکر عددی اکثریت نہیں رکھتی ۔ اس کے باوجود حلقہ میں سب سے زیادہ ووٹ بینک رکھنے والے بزدار قبائل کا شدید استحصال ہوا ۔ اس معزز و محترم قبیلے کی خواتین کو اسلحہ کے زور پر اغواء کیا گیا۔بزدار قبائل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نہایت ہی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔2018ء کے انتخابات سے قبل اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے دورہ چوٹی زیریں کے موقع پر ایم پی اے جمال لغاری کی میزبانی میں منعقدہ جلسہ سے خطاب میں چوٹی زیریں کے لیے کسی بھی پیکج کا اعلان نہیں کیا تھا اور نہ ہی چوٹی زیریں کو تحصیل کا درجہ دینے کی کوئی بات کی۔ اس وقت بھی چوٹی زیریں میں اندرون قصبہ مین بازار اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر نا پختہ ہو چکی ہیں۔ تھوڑی سی برسات میں بھی شہر کی گلیاں اور بازار تالاب اور جوہڑوں کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔نواحی مواضعات نواں شمالی،دوداڑہ، متفرق چاہان،درخواست جمال خان، چک کانمہ وغیرہ میں زہر ملا پینے کا پانی صحت کے لیے نا موزوں ہے۔چوٹی زیریں، نواں شہراور درخواست جمال خان میں سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات ذرہ برابر بھی نہ ہیں۔ چوٹی زیریں جیسے کثیر آبادی والے علاقہ کو اگر ڈھنگ کے سرکاری ہسپتال دے دیے جائیں تو شہری وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے تہہ دل سے مشکور ہوں گے۔ ان دیہاتوں اور قصبات میں تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔پرائیویٹ سکولزاور ٹیوشن مافیاء نے سرکاری سکولوں کا بیڑا غرق کر دیاہے۔سرکاری اساتذہ نے پرائیویٹ ٹیوشن سنٹرز کھول کر طلباؤطالبات کا مستقبل نا صرف اندھیرے میں دھکیل دیا ہے بلکہ والدین کی معاشی مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ۔
ایک اہم بات کہ میڈیا کی خبروں کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے پولیس میں موجود کرپشن اور دیگر برائیوں کے خاتمے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو خصوصی ٹاسک دے دیا ہے جو نئے پاکستان کی طرف اہم پیش رفت ہے۔وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ کرپشن کریں گے نہ کرنے دیں گے ،کرپشن کے خاتمے کے لیے بہترین فارمولا ثابت ہو سکتا ہے ۔اگر اس پر عمل ہو تو ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker