ڈاکٹر انوار احمدکالملکھاری

’نئے پاکستان ‘کے معمار ہونے کے ایک دعویدار کے نام مکتوب ۔۔ ڈاکٹر انوار احمد

اقتدار کی دہلیز پر پہنچ کر بہت سے لوگ حواس باختہ ہوجاتے ہیں اور اُن سے زیادہ بد حواس ہم جیسے خوش فہم ہوتے ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ کسی صاحبِ اقتدار کو ہمارے مشوروں کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم یہ بھی جمہوریت کا ایک کرشمہ ہے کہ یہ لوگ امور مملکت کو ’رموز خسرواں‘ سمجھنے کی بجائے اپنے احساسِ شرکت کو بحال کرنے کے لئے اس طرح سے مکتوب یا کالم لکھتے ہیں۔
ماضی کے بارے میں ہر ایک کی اپنی تعبیریں ہیں،مگر قومی دانش اس کو مانتی ہے کہ کم وبیش ہمارے سبھی حکمرانوں سے چھوٹی یا بڑی غلطیاں ہوئیں۔ اس لئے تاریخی بصیرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ کوئی کرسی نشین اُن غلطیوں کو نہ دہرائے۔ اب یہ کم درجے کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ عمران خان نے 22برس ریاضت کی ہے اور اُسے مجموعی طور پر ایک انتھک اور دیانتدار آدمی سمجھا جاتا ہے۔
1۔ اس وقت پاکستان کی صورتحال میں ہمیں ایک ایسا مدّبر چاہیے جو روس، چین، امریکہ ، بھارت ، ایران، سعودی عرب، ترکی، شام ، افغانستان اور دیگر ممالک کی آویزشوں میں پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھ کر عوامی تائید سے جرات مندانہ فیصلے کرے۔
2 ۔ ملکی معیشت کو بحال کرنے کےلئے سٹیٹ بینک ، نیشنل بینک ، بورڈ آف ریونیو ، ایکسائز ، کسٹمز، انکم ٹیکس اوردیگر مالیاتی اداروں کے اندر دُوررَس اصلاحات لائی جائیں۔
3 ۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات کے خواہاں اس بات پر پریشان ہوجاتے ہیں کہ بعض وفاقی اکائیاں مرکز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں ، جیسے پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین کے مقابلے پر سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین کو لگایا گیا جنہوں نے چیئرمین پی ایم ڈی سی کے طور پر مشکوک میڈیکل اداروں کو رجسٹریشن مبینہ طور پر’عطیات ‘کے عوض دیں اور میڈیکل کی تعلیم کی رہی سہی عزت بھی گنوا دی۔ بلوچستان میں جب تک وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک تھے تو کوشش ہوئی کہ ڈاکٹر عطاءالرحمن یا ڈاکٹر نظام الدین کے مشوروں سے اُس صوبے میں ایک ہائیر ایجوکیشن کمیشن قائم ہوجائے۔خود کے پی کے میں ڈاکٹر عطاءالرحمن کی خدمات حاصل کی گئیں مگر کسی وجہ سے وہ کام ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔ رہی سہی کسر سابق وفاقی حکومت کے چہیتے ڈاکٹر مختار احمد نے پوری کردی جو 4 برس تک پنجاب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین کو اپنا حریف سمجھتے رہے۔ یہ جنگ اس لئے بھی ناقابل فہم تھی کہ مرکز میں بڑے بھائی وزیر اعظم تھے اور پنجاب میں اُسی وزیر اعظم کے چھوٹے بھائی وزیر اعلیٰ تھے۔ چنانچہ اس آویزش میں ہائیر ایجوکیشن یعنی جامعات کو برباد کرکے رکھ دیا ۔ ڈاکٹر عطاءالرحمن کے دور میں بھی بظاہر بہت پیش رفت ہوئی ، مگر یونیورسٹیاں داخلی خود مختاری سے محروم ہوگئیں۔مشرف دور میں پیسے کی ریل پیل تو تھی مگر وائس چانسلروں کے تقرر،سینٹ اور سینڈیکیٹ کے انتخابات اور نامزدگیوں کے ساتھ ساتھ نقالی کا ایک ایسا کلچر پیدا ہوا جس میں اوریجنلیٹی ختم ہوتی گئی۔وائس چانسلروں کے لئے امیدواروں کے میرٹ کا تعین اس طرح کیا گیا کہ مقامی درسگاہوں سے گریجویشن ، ماسٹر یا ایم ایس کرنے والے اُن لوگو ں کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتے جنہوں نے اپنے مالی وسائل یا مواقع کے سبب بیرون ملک سے گریجویشن ، ماسٹر یا پی ایچ ڈی کی۔ اسی طرح اگر کبھی وائس چانسلروں کے تقرر میں فیصلہ کُن ثابت ہونے والے اُن سفارشی رقعوں کو بھی ڈی کلاسیفائیڈ کیاجائے جو امام کعبہ نے لکھے یا کسی قطری شہزادے نے لکھے یا مردانِ آہن کے قریبی لوگوں نے سفارش کی یا طاقتورلوگوں کے کارندوں نے 4 کروڑ سے 8 کروڑ روپے تک کی رشوت قبول کی۔ اب ظاہر ہے کہ یونیورسٹیوں کی اعلیٰ ترین نشستیں اگر فروخت ہوں یا سفارش سے ملیں یا طبقاتی امتیاز کے تابع فیصلے ہوں تو وہاں درسگاہوں میں کردار سازی کا عبرت ناک انجام سمجھ میں آتا ہے۔
4 ۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ اُن کی اصل فتح تب ہوئی ہے جب وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی تقسیم پر رضا مند ہوئے اور تخت ِ لاہور کی محافظ جماعت کی صفوں میں دراڑیں پڑیں۔ اس لئے اس وعدے کی تکمیل کےلئے ایک طرف تو اقتدار کے ابتدائی دنوں میں پیدا ہوجانے والی تلخی کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے بچانا ہوگاتاکہ اتفاق رائے سے پنجاب اسمبلی میں مطلوبہ آئینی ترمیم ہوسکے۔ جس کے تحت جنوبی پنجاب کا صوبہ وجود میں آسکے اور کوشش کی جائے کہ جہاں ملتان اور بہاولپور یا جنوبی پنجاب کے باقی ماندہ شہروں کو اُس طرح نظر انداز نہ کیاجائے جیسے لاہور کی ترقی کے نام پر ماضی میں ہوتا رہا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ پنجاب کی تقسیم ہی دراصل لوگوں کی اس خواہش کی مظہر ہے کہ ارتکارِ اختیار کسی ایک فرد ، ادارے یا شہر میں نہ ہوبلکہ نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہوں۔اس سلسلے میں بلدیاتی نظام کی تنظیمِ نو ہونی چاہیے ۔
5 ۔ امریکہ،برطانیہ،جرمنی،ترکی،ایران،ترکمانستان،نیپال،مصر،چین کی درسگاہوں میں اردو پاکستان سٹڈیز کی چیئرز ہیں،بد قسمتی سے میاں نواز شریف کے دور میں تین مرتبہ پینل بنائے گئے مگر فیصلہ کن اقدامات نہ ہوئے،شاہد خاقان عباسی کے دور میں تمام تر معاملات طے ہوئے اور شاید سینیٹر مشاہد حسین کی کوشش سے بجٹ میں ایک کروڑ بھی رکھا گیا مگر اخراجات کی کفایت کے لئے عمران خان کی ہدایت پر بیورو کریسی کے لئے سنہری موقع ہے کہ اس معاملے کو پھر سے لٹکا دیا جائے۔اتفاق سے میں انقرہ یونیورسٹی ترکی کے کلیہ دل(زبان)، تاریخ و جغرافیہ میں قائم اردو شعبے میں چار برس کام کرتا رہا،اس لئے میں جانتا ہوں کہ اس یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر آسمان بیلن اوزجان نے پاکستان میں عورتوں کی شناخت کی شاعرانہ آواز پروین شاکر پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا،استنبول یونیورسٹی کے ڈاکٹر جلال صوئیدان نے علامہ اقبال کی نثری خدمات پر تحقیق کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی،ڈاکٹر خلیل طوقار،ڈاکٹر نورئیے بلک، ڈاکٹر حاقان قیوم جو،ڈاکٹر درمش بلغور بھی ایسے ترک سکالر ہیں جو اردو زبان سے ترکوں کی محبت بڑھا رہے ہیں۔اسی طرح مصر میں جامعہ الازہر اور عین الشمس یونیورسٹی قاہرہ میں اردو شعبے ہیں،جہاں ہمارے سکالرز سے اردو سے عربی اور عربی سے اردو ادبی تراجم کا کام لیا جاتا ہے،نیپال میں اردو پڑھنے والے غریب مسلمان اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں(موجودہ سیکرٹری خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ نیپال میں یہ نکتہ نوٹ کیا کہ پاکستان کے اُردو استاد کے تقرر میں تاخیر پر بھارت میں وہاں اُردو کے ایسے استاد کا انتظام کرکے دیا ہے جو دیو ناگری رسم الخط میں اُردو پڑھا رہے ہیں)۔ تہران یونیورسٹی میں اردو شعبہ بہت متحرک ہے،مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشیں کے طور پر میں نے یہاں کے طالب علم اور استاد دیکھے تھے جو تب بھی اردو چئیر پر کسی پاکستانی استاد کی آمد کے منتظر ہے،چین کا شعبہ اردو تو اردو چینی لغت،تراجم اور براڈ کاسٹنگ کے شعبوں میں ایک قابل رشک تاریخ رکھتا ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے سفارت خانوں کے بابوﺅں کو ان چئیرز پر اردو کے استاد سب سے زیادہ برے لگتے ہیں۔یہی نہیں جاپان کی اوساکا یونیورسٹی اور ٹوکیو یونیورسٹی میں اردو کے شعبے ایک ایک سو سال پرانے ہیں(آزاد ہند فوج کی تاریخ جتنے) اوساکا یونیورسٹی میں پروفیسر سویامانے اور ڈاکٹر ماتسو مورا جیسے اردو اور پاکستان کے عاشق ہیں،ٹوکیو یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر مامیا کینسو نے ہماری جامعہ سندھ سے ایم فل اردو کیا وہ اسلامی تعلیمات کی برکتوں کے ایسے قائل ہیں کہ انہوں نے اپنی گاڑی کے لئے 786 نمبر مستقل لے رکھا ہے گویا نہ صرف باقی یونیورسٹیوں میں اردو چیئرز پر استاد بھیجے جائیں بلکہ ہو سکے تو جاپان میں اوساکا یا ٹوکیو کے لئے ایک اردوچیئر قائم کی جائے ۔
6 ۔ آپ اور آپ کی جماعت کی فطری خواہش ہوگی کہ وزیر اعظم ، سپیکر ، چیئرمین سینٹ ، چاروں صوبوں کے گورنر ہی نہیں صدر مملکت بھی آپ کی جماعت کے ہوں ، مگر بہتر ہوتا کہ فواد چودھری نے اعتزاز احسن کی نامزدگی کا خورشید شاہ کو جو اشارہ دیا ہے ، آپ بڑھ کر اس فیصلے کی حکمت کی توثیق کرتے ۔ اس سے آپ اور آپ کی جماعت کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوتا ، دوسرے بطور سرائیکی میری دلچسپی اس بات میں ہے کہ سرائیکی صوبے کی راہ میں کم سے کم مشکلات ہوں ۔ مسلم لیگ (ن )پنجاب کی تقسیم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ صدارت کے انتخاب میں آپ کی رواداری شاید پیپلز پارٹی اور رائے عامہ کے ایک معقول حصے اور شاید مقتدر قوتوں کو بھی آپ کے زیادہ قریب اور زیادہ دیر تک لا سکتی۔
7 ۔ آپ کو قطعاً یاد نہیں ہوگا کہ ایک مرتبہ آپ ہماری زکریا یونیورسٹی میں آئے تو میری والدہ کی وفات پر میرے گھر بھی آئے کہ تب میاں ساجد پرویز اور راﺅ رشید آپ کی پارٹی میں تھے اور وہ ہمراہ تھے،دعائے فاتحہ کے بعد میں نے اپنی ’بیماری‘ کے عین مطابق آپ کو مشورے دینے شروع کئے کہ مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے خلاف ایک جیسا غصیلا لہجہ اور سر گرم جہاد مناسب نہیں کہ ہماری سیاسی لڑائیوں میں ’کم تر برائی‘ کا تعین کرنا پڑتا ہے۔(مارگریٹ تھیچر نے بے نظیر بھٹو کو بھی ایک محاذ کھولنے کا مشورہ دیا تھا)،سو اس مرحومہ نے نواز شریف کے مقابلے پر غلام اسحاق خان کو ’کم تر برائی‘ قرار دیا۔اب بھی ن لیگ کو کسی قدر ٹھکانے لگانے کے بعد بلاول بھٹو سے رابطے کے لئے بیک چینل ڈپلومیسی اختیار کی جائے اور میاں نواز شریف اور مریم صفدر کی ممکنہ ضمانتوں پر ہیجانی رد عمل پر تدبر سے قابو پایا جائے تاکہ ہمارے سرائیکی صوبے کے لئے پنجاب اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی تائید مل سکے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker