سید مجاہد علیکالملکھاری

فواد چوہدری اور سنسر شپ: پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے/سید مجاہد علی

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پیمرا اور پریس کونسل آف پاکستان کو ختم کرکے ایک نئی میڈیا کنٹرول اتھارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے ادارے کا نام ’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘ ہوگا۔ اس طرح ملک میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی نگرانی کرنے کے کام میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے گی۔ اور ہر قسم کے میڈیا کے لئے یکساں قوانین اور سنسر کا طریقہ مروج ہو سکے گا۔ ملک میں جمہوریت کا جھنڈا بلند کرکے نیا پاکستان تعمیر کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے برسراقتدار آنے والی حکومت کے وزیر اطلاعات کے منہ سے میڈیا کے حوالے سے سنسر شپ کا لفظ استعمال کرنا افسوسناک اور ہر قسم کی جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ آزادی اظہار کا حق کسی بھی جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی حکومت یا ادارے کو اخبارات کے مواد، خبروں کی اشاعت یا ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر وگراموں کی پیش کش اور موضوعات کے بارے میں کسی قسم کی مداخلت کا حق نہیں ہو نا چاہئے۔ کجا ابھی برس اقتدار آنے والی حکومت نئے انتظام کے تحت سنسر شپ کی بات کرتے ہوئے میڈیا اور صحافیوں کو ’وارننگ‘ دینے کی کوشش کرے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں ہر قسم کے میڈیا نے سنگین ترین سنسر شپ کا سامنا کیا ہے۔ ٹیلی ویژن کے علاوہ اخبارات کے مدیروں کو خبروں کی ترجیحات اور انہیں نظر انداز کرنے کے بارے میں ہدایا ت دی جاتی ہیں۔ ایسے ٹیلی ویژن پروگرام بند کرنے کا ’حکم ‘ صادر ہوتا ہے جن میں کسی ایسی شخصیت کا انٹرویو کیا جائے یا ایسے موضوع پر بات کی جائے جو ملک کے حکمرانوں کی طبع نازک پر گراں گزرتے ہیں۔ ملک بھر کے اخبارات میں روزانہ مستقل بنیادوں پر لکھنے والوں کے کالم شائع کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ نیوز ایڈیٹرز خبروں کی اشاعت کے بارے میں حد درجہ محتاط ہیں اور کوئی ایسی خبر شائع کرنے سے گریز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ادارہ یا اس کے مالکان کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ میڈیا سے متعلق لوگ برملا اس بات کااظہار کرتے ہیں کہ اس جولائی میں ہونے والے انتخابات سے چند ماہ پہلے سے ملک کے اخبارات اور ٹیلی ویژن نشریات کو جس قسم کی پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی مثال ضیا آمریت اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی تلاش نہیں کی جاسکتی۔ ملک کے عالمی شہرت یافتہ انگریزی روزنامہ ڈان کو ڈان لیکس کے نام سے مشہور ہونے والی رپورٹ کے بعد سے جن مشکلات کا سامنا رہا ہے ، یہ اخبار اس کا باقاعدہ ذکر ایک اداریہ میں بھی کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے بعض صحافیوں نے اس معاملہ پر احتجاج کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن کہیں پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اسی ادارے کے زیر انتظام ٹیلی ویژن اسٹیشن ’ڈان نیوز‘ کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا اور تجربہ کار میڈیا ہاؤس ’جنگ گروپ ‘ اور اس کے زیر اہتمام چلنے والا جیو ٹیلی ویژن بھی اسی قسم کے حالات سے دوچار رہا ہے۔ اس چینل کی طرف سے بار بار نشریات میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایا ت کے باوجود صورت حال بہتر نہیں ہوئی تھی۔ جیو کو صرف بے نام حکمران اداروں کی طرف سے رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا ہی نہیں رہا بلکہ موجودہ وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان بھی جیو کا بائیکاٹ کرنے اور اس کے خلاف مہم جوئی میں پیش پیش رہے ہیں۔ جیو اور جنگ کے مالکان کو مالی دباؤ اور اپنی نشریات کو ملک بھر میں بحال کروانے کے لئے بالآخر مفاہمت کرنے اور نامعلوم شرائط ماننے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
ملک کے تمام میڈیا ہاؤسز کو ان ’شرائط‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں بظاہر قومی سلامتی کی حفاظت کے لئے ضروری قرار دیا جارہا ہے اور اداروں کے تحفظ کے نام پر نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس جدید سنسر شپ کے طریقہ کار کو ’سیلف سنسر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی مالکان کے ذریعے مدیران پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ انہی خطوط پر ادارتی پالیسی مرتب کریں جن کی ہدایات انہیں ٹیلی فون یا ملاقاتوں میں دی جاتی ہیں۔ بیشتر میڈیا ہاؤسز چونکہ کمرشل مفادات کے اسیر مالکان کے زیر نگرانی چلائے جاتے ہیں اس لئے وہ سرکاری اشتہارات اور سہولیات کے لئے اس دباؤ کو بخوشی قبول کرتے ہیں۔ اس طرح خبروں اور تبصروں کی ترسیل کو اداروں کے اندر استوار کئے گئے میکینزم کے ذریعے کنٹرول کرنے کا نام سیلف سنسر شپ رکھ دیا گیا ہے۔ جو بظاہر کسی ادارتی بورڈ کا فیصلہ ہوتا ہے لیکن اسے دراصل مالکان کے ذریعے ڈالے جانے والے دباؤ کی وجہ سے اختیار کیا جاتا ہے۔ سنسر شپ کی یہ نئی قسم ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طریقہ کار سے غیر جانبدارانہ مباحث اور رائے کا اظہار متاثر ہورہا ہے۔
نئی منتخب حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے یا قوم کے نام پہلے خطاب میں اس اہم معاملہ پر اپنی حکومت کی حکمت عملی واضح کریں گے۔ میڈیا پر پابندیوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر عام ہونے والی معلومات اور مباحث کے باوجود عمران خان یا ان کے وزیر اطلاعات نے اس موضوع پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس رویہ کو نئی حکومت کی بنیادی جمہوری اصولوں سے لاتعلقی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ اس صورت حال میں ملک کے وزیر اطلاعات جب پہلی بار میڈیا کے بارے میں بات کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں تو انہوں نے سنسر شپ ختم کرنے اور میڈیا کو مکمل خود مختاری دینے کی بات کرنے کی بجائے میڈیا پر حکومت کے کنٹرول کو مؤثر بنانے کی بات کی ہے۔ میڈیا پر نگرانی کرنے کی بات کرنے والے وزیر اطلاعات جب اسی سانس میں پی ٹی وی کو آزاد کرنے اور اس کے ادارتی عملہ کو خود مختار بنانے کی بات کرتے ہیں تو یہ گفتگو کسی ڈھکوسلہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ جو حکومت ملک کے پرائیویٹ میڈیا کو جو گزشتہ کئی برس تک خود مختارانہ اور کسی حد تک ذمہ دارانہ طریقے سے اپنے فرائض ادا کررہا تھا، حکومتی کنٹرول سے آزاد کرنے کی بات کرنے پر آمادہ نہ ہو، اس کے دور میں سرکاری ٹیلی ویژن کی خود مختاری کی بات ایک نعرے سے زیادہ حیثیت نہیں ہے۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ بھی کہا ہے کہ وزارت اطلاعات نے میڈیا کنٹرول اتھارٹی کے معاملہ پر غور کرنے کے بعد پیمرا اور پریس کونسل آف پاکستان کو ختم کرکے ایک نیا ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گویا یہ فیصلہ میڈیا سے وابستہ لوگوں اور صحافیوں کی رائے جانے بغیر کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود وزیر اطلاعات اس بات پر مصر ہیں کہ میڈیا کو اس معاملہ میں شامل کیا جائے گا۔ حکومت تمام معاملات طے کرنے کے بعد میڈیا مالکان کو اس عمل میں شامل کرکے صرف اپنے فیصلہ کی تصدیق کروانے کی کوشش کرے گی۔ اس طرح ایک ایسا فیصلہ جو انتظامی لحاظ سے کسی حد تک مناسب اور عملی طور سے مؤثر ہو سکتا تھا، اسے جمہوری چہرہ دینے کی بجائے حاکمیت کا لبادہ پہنا کر سامنے لایا جارہا ہے۔ فواد چوہدری جو خود بھی میڈیا سے متعلق رہنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، یہ واضح کرنے میں بھی ناکا م رہے ہیں کہ نئی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا کسی بھی جمہوری معاشرہ کی طرح سوائے اس کے کوئی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ میڈیا کو ملک کے قوانین پر عملدرآمد کا پابند رکھے اور مناسب سہولتیں فراہم کرنے میں کردار ادا کرے۔ ماضی میں پیمرا اور پریس کونسل میڈیا کو فعال اور خود مختار بنانے میں کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہر حکومت ان اداروں کے ذریعے ملک کے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے سرکاری اشتہارات کا بھی ذکر کیا ہے۔ تاہم وہ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابقہ حکومت کو مطعون کرنے کے سوا کوئی نئی بات کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ حالانکہ حکومت اگر بچت کے طریقہ کار پر عمل کرنے کا ارادرہ رکھتی ہے تو اسے سرکاری اشتہارات کے طریقہ کو مکمل طور سے ختم کردینا چاہئے۔ اطلاعات عام کرنے کے نام پر حکومتیں کثیر وسائل کو اپنی شہرت اور میڈیا کو ’رشوت‘ دینے کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ ان اشتہارات سے نہ معلومات عام ہوتی ہیں اور نہ ہی لوگوں کے شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی صورت میں میڈیا موجود ہے جس کے ذریعے وہ بلا روک ٹوک معلومات عام کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی حکومت جب کوئی اہم اعلان کرتی ہے یا کوئی منصوبہ متعارف کروانا چاہتی ہے تو ملک کا میڈیا اس معاملہ کو مناسب کوریج دیتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اشتہارات پر کثیر وسائل صرف کرنا بے مقصد اور مشکوک طریقہ کار ہے۔ اس کے باوجود اگر حکومت سرکاری اشتہارات کو ضروری سمجھتی ہے تو اس کا انتظام وزارت اطلاعات کی بجائے کسی خود مختار ادارے کے ہاتھ میں ہونا چاہئے جس میں میڈیا سے وابستہ افراد فیصلے کرنے کے مجاز ہوں۔ اسی طرح حکومت اشتہارات کے سوال پر اپنی خود مختاری اور شفافیت کا ثبوت فراہم کرسکتی ہے۔
ملک میں میڈیا شدید بحران کا شکار ہے۔ رائے کے اظہار پر پابندی اور رکاوٹ سنگین معاملہ ہے۔ منتخب حکومت اگر اس سوال پر جلد ہی کوئی سنجیدہ مؤقف اختیار نہیں کرتی اور میڈیا ہاؤسز کی شکایات کا ازالہ کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے تو جمہوری حکومت کو جمہوری روایت اور ضرورت سے نابلد سمجھا جائے گا۔
(بشکریہ:ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker