پریس کلب ملتان کے معزز اراکین اور محنت کش صحافیوں!
آج کا دن صرف ایک انتخابی دن نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کی آواز سننے کا دن ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب آپ کے ہاتھ میں موجود ووٹ صرف ایک کاغذ نہیں، بلکہ صحافت کی حرمت، وقار اور مستقبل کی امانت ہے۔ یاد رکھیں! جس ووٹ کو آپ معمولی سمجھتے ہیں، اسی ووٹ سے اداروں کی سمت متعین ہوتی ہے اور اسی سے فیصلہ ہوتا ہے کہ قلم آزاد رہے گا یا مفاد کی زنجیروں میں جکڑا جائے گا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ایک مخصوص قبضہ مافیا نے صحافیوں کی مجبوریوں کو ہتھیار بنا رکھا ہے۔ کبھی پانچ ہزار، کبھی دس ہزار اور کبھی پندرہ ہزار روپے دے کر ضمیر خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ وہ سوداگر ہیں جو وقتی ضرورت کا فائدہ اٹھا کر صحافی کے وقار کا سودا کرتے ہیں اور بعد ازاں اسی نظام سے کروڑوں روپے سمیٹ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چند نوٹوں کے عوض صحافت کی سچائی گروی رکھ دینا ہمارے پیشے کی توہین نہیں؟
میرے ساتھیو! صحافی کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ معاشرے کی آنکھ اور ضمیر کی آواز ہوتا ہے۔ اگر وہی اپنی آواز بیچ دے تو سچ کون بولے گا؟ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں، اپنے ضمیر کو زندہ رکھیں اور اس روایت کو توڑ دیں جس نے پیشے کو کمزور کیا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ صحافیوں کے نام پر حکومت سے ملنے والی کروڑوں روپے کی گرانٹس کو فلاحی مقاصد کے بجائے چند افراد اپنی عیاشیوں اور ذاتی مفادات پر خرچ کرتے رہے ہیں۔ آج وہی عناصر ووٹ مانگنے کے لیے میدان میں ہیں۔ یہ وقت ہے کہ صحافی ان سے سوال کریں: ان رقوم کا حساب کہاں ہے؟ کس مد میں خرچ ہوئیں؟ کن صحافیوں کو حقیقی فائدہ پہنچا؟
اسی طرح یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ جو سولر سسٹم صحافیوں کی سہولت کے لیے فراہم کیا گیا تھا وہ کہاں گیا؟ جو مختلف ادوار میں حکومتی امداد اور مالی معاونت حاصل ہوئی، اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ مالی معاملات کے ذمہ داران گزشتہ بیس برس سے وعدوں کا چورن بیچتے رہے ہیں۔ فیز ٹو کے نام پر بار بار امیدیں دلائی گئیں، مگر ہر انتخاب کے قریب آتے ہی اس منصوبے کا ایک نیا ڈرامہ رچا دیا جاتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس دھوکے کو مسترد کیا جائے اور حقیقت سامنے لائی جائے۔
یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ 42 پلاٹس کی تقسیم میں ایسے افراد کو کیسے شامل کر لیا گیا جو نہ صحافی ہیں اور نہ ہی کسی فہرست میں ان کا نام موجود ہے؟ یہ ناانصافی صرف چند افراد کا فائدہ نہیں بلکہ پورے صحافتی معاشرے کے حق پر ڈاکا ہے۔ شفافیت کا تقاضا ہے کہ ہر فیصلے کا ریکارڈ عوام اور صحافی برادری کے سامنے رکھا جائے۔
میرے غیور ساتھیو! چاہے وہ مالی طور پر مستحکم صحافی ہوں یا وسائل کی کمی کا شکار، سب کو اس جدوجہد میں شریک ہونا ہوگا۔ ایک ایسی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے جو احتساب، شفافیت اور وقار کی بحالی کے لیے ہے۔ اگر ہمیں ایک باوقار، خودمختار اور پیشہ ور صحافتی ماحول چاہیے تو ہمیں متحد ہو کر اس نظام کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا جو حق کو احسان بنا کر پیش کرتا ہے۔
ہم واضح اعلان کرتے ہیں کہ کامیابی کے بعد پریس کلب کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا اور ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔ صحافت اعتماد کا نام ہے، اور اعتماد صرف شفافیت سے قائم ہوتا ہے۔
میں تمام ووٹر صحافیوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ جذبات، دباؤ اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کریں اور پروفیشنل جرنلسٹ گروپ کے پورے پینل کو کامیاب بنائیں تاکہ ایک حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہ صرف ایک گروپ کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ صحافت کے وقار کی بحالی کا آغاز ہوگا۔
کل جب آپ پولنگ بوتھ میں داخل ہوں تو یاد رکھیں:
آپ کا ووٹ آپ کی شناخت ہے۔
آپ کا ووٹ آپ کی عزت ہے۔
اور آپ کا ووٹ ہی صحافت کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔
آئیے، ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں اور اس پیشے کو وہ مقام دلائیں جس کا یہ حق دار ہے۔
فیس بک کمینٹ

