تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : مریم بمقابلہ جمائما: یہود دشمنی کسی مسئلہ کا حل نہیں

ایک دوسرے کے بیٹوں کے بارے میں وزیر اعظم کے الزامات اور مریم نواز کے جواب کے بعد عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کی ٹوئٹ نے پاکستانی سیاست کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ انہوں نے پاکستانی معاشرے میں پروان چڑھنے والی یہود دشمنی کا حوالہ دیا ہے جو آج سے بیس برس پہلے بھی اسی شدت سے موجود تھی جس کا مظاہرہ اب مریم نواز کے ’یہود دشمنی ‘ پر مبنی تبصرہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کے برطانیہ میں پولو کھیلنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عام لوگوں کا کھیل نہیں ہے بلکہ بادشاہوں کا کھیل ہے جس پر کثیر دولت صرف ہوتی ہے۔ مریم نواز کو بتانا چاہئے کہ ان کا بیٹا اس مہنگے کھیل کا کیسے متحمل ہوسکتا ہے؟ پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ پاکستانی عوام کی چوری شدہ دولت ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’غریب تو جیل جاتے ہیں لیکن نواز شریف جیسے طاقت ور لوگوں کو این آر او مل جاتا ہے اور وہ لندن میں اپنے نواسے کا پولو میچ دیکھتے ہیں‘۔ وزیر اعظم کی اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے اسی روز ایک جلسہ میں کہا کہ ’ میرا بیٹا جنید کیمبرج یونیورسٹی کی پولو ٹیم کا کیپٹن ہے اور ملک کا نام روشن کررہا ہے۔ وہ نواز شریف کا نواسا ہے ، گولڈ اسمتھ کا نواسانہیں ۔ وہ یہودیوں کی گود میں نہیں پلتا‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر عمران خان بچوں کو بیچ میں لائیں گے تو انہیں ترکی بہ ترکی جواب بھی ملے گا۔
جمائما گولڈ اسمتھ نے مریم نواز کی اس تقریر کا تراشہ ٹوئٹ پر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ مریم نواز کہتی ہیں کہ میرے بیٹے یہودیوں کی گود میں پل رہے ہیں۔ میں نے ایک دہائی تک میڈیا اور سیاست دانوں کے یہود دشمنی پر مبنی حملوں،( ہفتہ وار ماردینے کی دھمکیوں اور میرے گھر کے باہر احتجاج) کے بعد 2004 میں پاکستان چھوڑ دیا تھا۔ لیکن یہ (یہود دشمنی) اب بھی جاری ہے‘۔ مریم نواز نے اس ٹوئٹ کے جواب میں اپنے مؤقف پر اصرار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے آپ میں یا آپ کے بیٹوں یا آپ کی زندگی کے بارے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کیوں کہ میرے پاس کہنے اور کرنے کے بہتر کام ہیں۔ لیکن اگر آپ کا سابقہ شوہر (عمران خان) عناد و دشمنی میں خاندان کو گھسیٹے گا تو دوسرے زیادہ سخت لہجے میں جواب دیں گے۔ اس کا ذمہ دار آپ کا سابقہ شوہر ہے‘۔
الزام تراشی کے اس ماحول میں جمائما کی ٹوئٹ میں پاکستانی سماج کے ایک ایسے اہم تعصب کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو مریم نواز اور عمران خان دونوں کے لئے باعث تشویش ہونا چاہئے۔ پاکستان میں سیاست دانوں نے فلسطینیوں کے معاملہ پر جذبات کو ابھارتے ہوئے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہودیوں کے خلاف متعصبانہ اظہار کوگفتگو اور بیانات کا حصہ بنا لیا ہے۔ اسی طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ اب صرف سیاست دان یا مذہبی رہنما ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی یہودیوں کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتےہیں۔ ملک میں اس تاثر کو منظم طریقے سے مستحکم کیا گیا ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے اور اس کی سلامتی کے خلاف سازشوں میں اسرائیل اور یہودی سر فہرست ہیں۔ اسی قسم کا طرز عمل کشمیر کے معاملہ پر اپنا مؤقف مضبوط کرنے کے لئے ہندوؤں کے خلاف بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں جب اسرائیل اور بھارت کی دوستی یا متعدد شعبوں میں تعاون کی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو اسے مسلمانوں کے خلا ف یہودی ہندو گٹھ جوڑ کا نام دیا جاتا ہے۔
حالانکہ درحقیقت نہ پاکستان کوئی اسلامی ریاست ہے اور نہ ہی فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیل کی پالیسی کی بنیاد اسلام سے یہودیوں کی نفرت کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ کشمیر کی طرح یہ بھی ایک سیاسی معاملہ ہے جسے سیاسی گرما گرمی میں مذہبی معاملہ بنا دیاجاتا ہے۔ فلسطینی آزادی کی تحریک حماس کے طاقت پکڑنے سے پہلے خالصتاً سیاسی جد و جہد تھی۔ اب بھی فلسطینیوں کے کئی گروہوں میں عیسائی فلسطینی اسی طرح سرگرم ہیں جس طرح مسلمان جد و جہد کا حصہ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی سابق پاکستانی آمر جنرل ضیا کے دور میں جہادی گروہوں کو طاقت ور بنا کر اس معاملہ کو کشمیریوں کی آزادی کی بجائے مسلمان کشمیریوں کی آزادی کا معاملہ بنا دیا گیا۔ 80 کی دہائی میں اختیار کی گئی اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان سے کنٹرول ہونے والے عسکری عناصر کی سرکردگی میں کشمیری پنڈتوں پر اپنی ہی سرزمین تنگ کردی گئی۔ فلسطین میں غزہ پر حماس کے قبضہ اور انتہا پسند اسلام کا علم بلند کرنے کی وجہ سے فلسطین کا مسئلہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پایا۔
یہ کہنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ فلسطینی یا کشمیریوں کی بڑی تعداد مسلمانوں پر مشتمل نہیں ہے ۔ جب ان کی آزادی کی بات ہوگی تو دوسرے سیاسی حقوق کے ساتھ ان کی مذہبی شناخت اور سماجی روایات کا معاملہ بھی سر فہرست ہوگا۔ لیکن اگر ایک گروہ کی مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر دوسرے مذہبی گروہ کے بارے میں تعصب و نفرت پیدا کی جائے گی تو اس سے کبھی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے بلکہ مختلف عقائد کے درمیان فاصلہ پیدا ہوگا اور ان پر عمل کرنے والےایک دوسرے کے خلاف نفرت کا مظاہرہ کریں گے جو فلسطین اور کشمیر کی طرح تشدد کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے۔ اسی حوالے سے یہ جاننا بھی اہم ہے کہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف متعصبانہ اور ظالمانہ حکمت عملی کو یہودی عقیدہ سے منسلک کرنا اسی طرح غلط ہوگا جیسے مودی کی انتہا پسندانہ اور مسلمان دشمن پالیسیوں کو ہندو عقیدہ کا شاخسانہ کہا جائے۔ بھارت میں اگرچہ بی جے پی ہند وانتہا پسندی کو سیاسی عزائم کے لئے استعمال کرتی ہے لیکن اس وجہ سے تمام ہندوؤں کو اسلام کا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف نفرت اور تشدد کی تبلیغ جائز نہیں ہوسکتی۔
دنیا کے متعدد ممالک اور حکومتیں اسرائیلی ریاست کی متعصبانہ صیہونی پالیسیوں کو مسترد کرتی ہیں کیوں کہ وہاں پر اقتدار سنبھالنے والے لیڈر تسلسل سے مذہب کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرکے فلسطینیوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کرتے رہے ہیں اور ان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ تاہم فلسطینیوں کی ہمدردی میں کوئی بھی جمہوری اور ذمہ دار ملک اسرائیل کی مذمت اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جبر و ظلم کو مسترد کرتے ہوئے یہودیوں کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار نہیں دیتا۔ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں یورپ میں توہین مذہب کے نام پر تشدد کا ارتکاب کرنے کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے یورپ میں ہولوکوسٹ کے خلاف بات کرنے پر پابندی کا بار بار ذکر کیا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی کہ توہین آمیز خاکوں یا اظہار کے خلاف تشدد استعمال کرنے والے عناصر کا خاتمہ صرف آزادی رائے پر قدغن عائد کرنے سے ہی ممکن ہے۔ یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں اس سیاسی مؤقف کو پذیرائی حاصل نہیں ہے کیوں کہ جمہوری نظام میں اختلاف کو دلیل سے مسترد کرنے کی روایت راسخ کی گئی ہے۔ اسے لئے وہاں تمام مذاہب کا احترام بنیادی سیاسی رویہ اور سماجی مزاج کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
یورپ میں اب بھی یہود دشمن عناصر موجود ہیں جو موقع ملنے پر ان کی عبادت گاہوں پر حملہ کرنے اور یہودیوں کے خلاف تشدد اور غنڈہ گردی سے گریز نہیں کرتے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو اس وقت یورپ میں آباد مسلمانوں کے خلاف بھی سرگرم ہیں۔ یہ عناصر کبھی قرآن جلانے کا اہتمام کرکے اشتعال پیدا کرتے ہیں اور کبھی متعصبانہ بیان بازی سے مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں۔ یورپ میں آباد تمام مسلمان اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف ایسی سرگرمیوں کے خلاف یہودی بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان دونوں عقائد کے ماننے والے بیشتر یورپی ممالک میں اقلیت میں ہیں اس لئے انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک دوسرے کی طاقت بننا پڑتا ہے۔ یورپ میں کوئی یہودی یہ کہتے ہوئے کسی مسجد پر حملے یا مسلمانوں کے خلاف نفرت کے مظاہرے اور تشدد کی حمایت نہیں کرتا کہ فلسطین میں مسلمان یہودیوں کے خلاف سرگرم ہیں۔ جمہوریت اور تعلیم سے دنیا نے یہ بنیادی سبق سیکھا ہے کہ نفرت کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں مذہبی عقائد کی بنیاد پر تعصبات کے اظہار کو مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز نے جب عمران خان کے نازیبا سیاسی حملہ کا جواب دیا تو انہوں نے ان کے بیٹوں کے ننہال اور اس کے عقیدے کے بارے میں تبصرہ کرنا معمول سمجھا۔ حالانکہ ایک قومی لیڈر کے طور پر انہیں اپنے سیاسی کردار کو اس قسم کی منافرت سے پاک رکھنا چاہئے۔ جمائما کی ٹوئٹ میں اسی اہم پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مریم نواز نے ضرور ایک خاص سیاسی ماحول میں اپنے بیان پر اصرار کیا ہے لیکن انہیں بہر حال یہ جاننا چاہئے کہ اول تو عمران خان کی سیاست سے ان کے بیٹوں کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی جمائما، عمران خان کی سیاسی مہم جوئی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے البتہ مریم کی چبھتی ہوئی فقرے بازی کی بنیاد پر پاکستان میں یہود دشمنی کے اہم مسئلہ کی نشاندہی کی ہے۔
مریم کے علاوہ پوری پاکستانی قوم کو اس نشاندہی پر جمائما کا مشکور ہونا چاہئے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مفاد اور بقا کے لئے اہم ہے کہ یہودیوں یا ہندوؤں سے نفرت کو عام نہ کیا جائے۔ بلکہ تمام مذاہب کے احترام کا ماحول پیدا ہو۔ سیاست دان اگر وقت کی اس اہم ضرورت کو سمجھنے سے گریز کریں گے تو وہ پاکستان یا اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker