تجزیےسندھفاروق عادللکھاری

فاروق عادل کی تحقیق :جب کراچی سندھ کے ہاتھ سے نکل کر مرکزی حکومت کی جھولی میں آن گِرا

’اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سندھ کراچی سے نکل جائے، وہ اپنا دارالحکومت حیدر آباد میں بنائے یا کہیں اور، یہ اس کی مرضی ہے۔‘
وزیر اعظم پاکستان نواب زادہ لیاقت علی خان نے نہایت برہمی کے ساتھ کہا۔
یہ جنوری 1948 کی ایک خنک صبح تھی جب گورنر جنرل ہاؤس میں مرکزی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم کے بجائے گورنر جنرل پاکستان یعنی محمد علی جناح کر رہے تھے۔
سندھ کی سابق صوبائی وزیر اور دانشور ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو اپنی کتاب ’محمد ایوب کھوڑو: اے لائف آف کریج ان پالیٹکس‘ میں لکھتی ہیں: ’بظاہر یہ معمول کا ایک اجلاس تھا، ایسے اجلاسوں میں وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی عام طور پر مدعو کیا جاتا تھا لیکن اُس روز جب ایوب کھوڑو (وزیر اعلیٰ سندھ) اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے دوست اور سیاستدان پیرزادہ عبدالستار نے انھیں خبردار کیا اور بتایا کہ اجلاس کا واحد ایجنڈا کراچی کو (جو بیک وقت مرکزی اور صوبائی حکومت کا دارالحکومت تھا) سندھ سے لے کر اسے مرکزی حکومت کے سپرد کرنا ہے۔‘
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا: ’مرکزی حکومت صوبائی حکومت کے سائے تلے اب مزید گزارا نہیں کر سکتی۔ میری حکومت تو یہاں ایسے ہے جیسے کوئی اجنبی، اگر یہاں کوئی اختیار رکھتا ہے تو وہ ایک ہی شخص ہے، یعنی کھوڑو، آپ کو مالی چاہیے یا لان کو سینچنے کے لیے پانی، کھوڑو سے دست بدستہ درخواست کرنی ہو گی، یہاں کھوڑو ہی سب کچھ ہے اور ہم کچھ بھی نہیں۔‘
قیام پاکستان کے تقریباً پانچ ماہ کے بعد منعقد ہونے والا یہ اجلاس نوزائیدہ ملک کے ابتدائی ایام میں ہی پیدا ہونے والی کئی تلخیوں کا مظہر تھا۔
ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو مزید لکھتی ہیں کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات کی ابتدا سیکریٹریٹ کے لیے عمارتوں کے انتخاب کے وقت پیدا ہوئی، یہ اختلافات آگے چل کر ذاتی نوعیت اختیار کر گئے، جس کے بعد تلخیاں بڑھتی چلی گئیں۔اس وقت حکومت پاکستان کی اہم ذمہ داریاں چند ایسی شخصیات کے پاس تھیں جو اس سے پہلے برطانوی حکومت کے زیر انتظام مرکزی حکومت میں کام کرتی آئی تھیں جیسا کہ چوہدری غلام محمد اور چوہدری محمد علی۔
حمیدہ کھوڑو نے لکھا ہے کہ یہ لوگ برطانوی حکومت کے لامحدود وسائل میں کام کرنے کے عادی تھے، انھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کے مقابلے میں محدود وسائل رکھنے والے صوبہ سندھ میں کتنے مسائل ہیں، یہی وجہ تھی کہ جب کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو کے کاندھوں پر، جن کے پاس تعمیرات کی وزارت کا بھی چارج تھا، بے پناہ بوجھ آن پڑا۔
ان کے لیے چند دنوں میں چار ہزار کلرکوں، دو سو افسروں، حتیٰ کہ وزیروں بوروکریٹس کے لیے دفاتر اور ان کی رہائش گاہوں کا انتظام کرنا تھا اور اس کام کے لیے ان کے پاس صرف دو ماہ تھے۔
کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا تو مرکزی حکومت نے شہر کے نواح اور خاص طور پر ملیر کو اپنا مرکز بنانے سے انکار کر دیا جہاں دوسری عالمی عظیم کے زمانے کی بہت سی ایسی سرکاری عمارتیں اور دفاتر موجود تھے جہاں حکومت پاکستان کا سیکریٹریٹ باآسانی قائم کیا جاسکتا تھا۔مگر چند حکومتی شخصیات کی جانب سے اصرار کیا گیا کہ اس کام کے لیے شہر کے مرکز میں جگہ فراہم کی جائے۔
ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے مطابق اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے گرد و پیش میں واقع اپنا گورنمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلی کی عمارت اور سیکریٹریٹ مرکزی حکومت کے سپرد کر دیے جبکہ صوبائی دفاتر شہر کے ایک کونے میں واقع نیپئیر بیرکس میں منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس طرح اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ نے نے ان بیرکس کے پیچھے واقع ایک چھوٹی سی اینکسی میں اپنا دفتر قائم کر لیا جبکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس تاریخی ایوان میں کیے جانے کے بجائے ایک سکول کی عمارت میں کیے جانے لگے۔
شہری سندھ کی سیاست کے ایک اہم کردار، مصنف اور کالم نگار نصرت مرزا کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت کا سیکریٹریٹ ملیر میں منتقل کرنے والی تجویز حقائق کے اس اعتبار سے منافی ہے کہ وہاں ایسی کوئی عمارتیں موجود ہی نہیں تھیں جن میں ایک ریاست کا مرکزی سیکریٹریٹ قائم کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی عظیم کی عمارتیں اس قابل نہیں تھیں کہ ان میں دفاتر قائم کیے جاتے۔ ان کے نزدیک ملیر کو مرکزی سیکریٹریٹ کے لیے منتخب نہ کرنے کی ایک اور اہم وجہ یہ تھی کہ وہاں تک رسائی کے لیے کوئی انفرا سٹرکچر ہی موجود نہ تھا، خاص طور پر سڑکیں۔
اُن کے مطابق اس زمانے میں شہر کا آخری کونہ سنٹرل جیل کراچی تھا (جہاں سے اب یونیورسٹی روڈ شروع ہوتی ہے) جس کے بعد سڑکیں ختم ہو جاتی تھیں اور کچے راستے شروع ہو جاتے تھے اور ایسی جگہ پر مرکزی سیکریٹریٹ کے قیام کی تجویز کو ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔سیکریٹریٹ اور دفاتر کے مرحلے سے نمٹنے کے بعد نئی حکومت کے زعما اور اہم عہدے داروں کے لیے گھروں کے انتخاب نے عجیب و غریب صورت اختیار کر لی۔
ڈاکٹر کھوڑو لکھتی ہیں کہ اپنی قیام گاہ کے لیے خاتون اوّل بیگم رعنا لیاقت علی کی نگاہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے گھر پر تھی لیکن چیف جسٹس کی اہلیہ یہ بات سننے کی روادار نہ تھیں۔ یہاں سے ناکامی کے بعد انھوں نے صوبائی وزرا میں سے ایک میر غلام علی تالپور کا گھر پسند کیا لیکن انھوں نے بھی گھر خالی کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ تماشا دیکھ کر وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو نے اپنا گھر خالی کر کے ان کے سپرد کر دیا اور وہ خود ایک کلکٹر کے چھوٹے سے گھر میں منتقل ہو گئے۔نئی حکومت کے وزیر خزانہ غلام محمد کے لیے ایک پارسی خاندان کی ملکیت ایک خوبصورت ٹاؤن ہاؤس کا انتظام کیا گیا تھا لیکن کسی معروف شاہراہ پر واقع نہ ہونے کی وجہ سے وہ ناخوش تھے لیکن کوئی متبادل نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے نہایت بد دلی سے اس گھر میں رہنا پسند کیا۔
سیکریٹریٹ کے قیام اور گھروں کے انتخاب کے جھگڑے ابھی مشکل سے ہی نمٹے تھے کہ ایک اور تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔
اس واقعہ کے چند دنوں کے بعد چھٹی کے ایک دن بانیِ پاکستان نے وزیر اعلیٰ سندھ محمد ایوب کھوڑو کو ذاتی حیثیت میں ظہرانے پر مدعو کیا۔ یہی وہ اجلاس تھا جس میں کراچی کے مستقبل کے بارے میں مرکزی حکومت کے ارادوں سے وہ آگاہ ہوئے۔
ڈاکٹر کھوڑو لکھتی ہیں کہ ’کھانے کے بعد جب ایوب کھوڑو روانہ ہونے لگے تو بانیِ پاکستان اور مس جناح انھیں رخصت کرنے کے لیے باہر تک آئے اور کہا غلام محمد میرے پاس آئے تھے تاکہ کراچی کے مستقبل کے بارے میں کچھ فیصلہ کیا جا سکے، لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ تم کراچی کو مرکز کے حوالے کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہو گے۔‘
اس زمانے میں دیگر کئی انتظامی اور مالی مسائل کے علاوہ مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان کئی قسم کے اختلافات پیدا ہو چکے تھے جن میں ایک مرکز کی طرف سے قرض کے طور پر ایک خطیر رقم کی فراہمی کا مطالبہ تھا اور دوسرے نقل مکانی کر جانے والے ہندوؤں کی خالی کردہ عمارتوں پر قبضے کا معاملہ تھا۔
ڈاکٹر کھوڑو کے مطابق لیاقت علی خان اور غلام محمد چاہتے تھے کہ ان عمارتوں کی الاٹمنٹ ان کی مرضی کے مطابق کی جائے جبکہ ایوب کھوڑو کا مؤقف تھا کہ یہ ایک صوبائی معاملہ ہے جسے وہ قانون کے مطابق حل کرنا پسند کریں گے۔یہ تنازع ابھی جاری تھا کہ لیاقت علی خان اور حکومت سندھ کے درمیان ایک ذاتی قسم کی کشمکش چل نکلی۔ لیاقت علی خان چاہتے تھے کہ ان کی سرکاری رہائش گاہ کے لان اور اس میں لگے آرائشی فواروں کو چلانے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر اضافی پانی مہیا کیا جائے۔ وزیر اعظم کی یہ خواہش میونسپل حکام کے ذریعے وزیر اعلیٰ کھوڑو تک پہنچی جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔
ان کا مؤقف تھا کہ شہر میں پانی کی کمی ہے جب کہ شہر میں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کی آمد کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ اس لیے آرائشی مقاصد کے لیے پانی کے مطالبات غیر مناسب ہیں۔اضافی پانی کی فراہمی سے انکار کی وجہ سے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے درمیان رنجش پیدا ہو گئی جس پر لیاقت علی خان بہت برہم ہوئے اور انھوں نے ایک عوامی استقبالیے میں وزیر اعلیٰ سندھ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
انھوں نے اپنی تقریر میں کہا ’کراچی شہر میں وزیر اعظم پاکستان اتنا اختیار بھی نہیں رکھتا کہ وہ آپ (وزیر اعلیٰ) کی اجازت کے بغیر ذرا سا پانی بھی حاصل کر سکے۔‘
اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’میں ان کی کسی خواہش کو رد کرنے میں ذرا بھی خوشی محسوس نہیں کرتا لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس کے سوا میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔‘
اس تلخی کے بعد وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے درمیان ایک اور تنازع پیدا ہو گیا جس کا تعلق دفاعی معاملات سے تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ وزارت دفاع کے حکام نے یہ تنازع اپنی بے تدبیری سے پیدا کیا یا اس کے پس پشت کوئی ذہن کام کر رہا تھا جس کا اندازہ ڈاکٹر کھوڑو کی بیان کردہ تفصیلات سے ہوتا ہے۔
ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو لکھتی ہیں کہ وزارت دفاع کے سینیئر حکام نے وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو کو آگاہ کیا تھا کہ وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان نے کراچی کے قریب ماڑی پور ایئر پورٹ پر کھڑے چھ سیبر طیارے انڈیا کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو اثاثوں کی تقسیم کے بعد انڈیا کے حصے میں آئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے اس اطلاع پر ماڑی پور ایئر بیس پر پولیس تعینات کر دی تاکہ طیارے انڈین حکام کے حوالے کیے جا سکیں اور نہ ہی کوئی انھیں اڑا کر وہاں سے لے جانے میں کامیاب ہو سکے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کی اس کارروائی نے وزیر اعظم کی برہمی میں اضافہ کر دیا جس کا اظہار انھوں نے بعض غیر ملکی مہمانوں کے اعزاز میں دی گئی ایک ضیافت میں کیا۔انھوں نے کہا ’کھوڑو! تم مرکزی حکومت کے معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہو، وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تمھیں کسی طرح سے بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تم وزارت دفاع کے انتظامی معاملات میں مداخلت کرو۔‘
ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کی کتاب میں بیان کردہ واقعات اس اعتبار سے اہمیت رکھتے ہیں کہ ان کا ذریعہ معلومات براہ راست ان کے والد یعنی ایوب کھوڑو تھے۔ اس طرح یہ معلومات یک طرفہ حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔
میر نور احمد کی کتاب ’مارشل لا سے مارشل لا تک‘ اور ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب ’مسلم لیگ کا دور حکومت‘ میں اس زمانے کے واقعات کا چیدہ چیدہ تذکرہ ملتا ہے لیکن ان کتب میں ویسی تفصیل نہیں پائی جاتی جیسی تفصیل حمیدہ کھوڑو نے بیان کی ہے۔
ایسی صورتحال میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہو جانے والی مسلم لیگی قیادت کی یاداشتیں ہی ایک ایسا ذریعہ رہ جاتی ہیں جن پر اس سلسلے میں اعتماد کیا جا سکتا ہے۔مصنف اور کالم نگار نصرت مرزا بتاتے ہیں کہ بنیادی جھگڑا یہ تھا سندھ کی مسلم لیگی قیادت نے تقسیم کے بعد پاکستان آنے والے مسلم لیگیوں کو سندھ مسلم لیگ میں جگہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ تنازع اس قدر بڑھا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے جو آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل رہے تھے، شہری مسلم لیگ قائم کر کے اسے مرکزی مسلم لیگ کے ساتھ منسلک کر لیا۔ ایوب کھوڑو اور مسلم لیگ کی دیگر سندھ قیادت اس صورتحال سے ناخوش تھی جس کی وجہ سے تلخی بڑھ گئی۔
ان واقعات نے معاملات کو بگاڑ کر رکھ دیا اور ڈاکٹر کھوڑو کے مطابق اسی دوران لیاقت علی خان نے نہایت احتیاط سے ایوب کھوڑو کے خلاف مقدمے کی تیاری شروع کر دی تاکہ کراچی کو سندھ کی انتظامیہ سے نکال کر مرکز کی تحویل میں لیا جا سکے۔
یہی وہ پس منظر تھا جس میں جنوری 1948 کا وہ معروف اجلاس ہوا جس میں لیاقت علی خان نے اپنے تند و تیز خطاب میں وزیر اعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ حکومت کراچی سے نکل جائے اور حیدر آباد یا کہیں اور اپنا دارالحکومت بنا لے۔
اس اجلاس میں کھوڑو نے اپنا مؤقف بڑی وضاحت سے پیش کیا اور کہا کہ ایک ہی شہر میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے دارالحکومت بنانے کی روایت پہلے سے موجود ہے، اس سلسلے میں انھوں نے کلکتہ کی مثال پیش کی جہاں صوبہ بنگال کا دارالحکومت بھی موجود تھا اور برطانیہ کی مرکزی حکومت کا بھی۔
اسی طرح شملہ جو پنجاب حکومت کی تحویل میں تھا اور یہاں انگریز حکومت کا سرمائی دارالحکومت بھی ہوا کرتا تھا۔ ان ہی مثالوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے سندھ کو مرکز اور صوبے کا بیک وقت دارالحکومت رکھا جا سکتا ہے۔لیکن بظاہر ان کے مؤقف کو کوئی اہمیت نہ دی گئی اور کراچی کو ملک کا مستقل دارالحکومت بنانے کے لیے مرکزی وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی گئی جن میں آئی آئی چندریگر، راجا غضنفر علی اور وزیر خزانہ غلام محمد شامل تھے۔
صورت حال کے پیش نظر ایوب کھوڑو نے اپنی صوبائی کابینہ سے رجوع کیا جب کہ مرکزی حکومت نے اس دوران محکمہ کسٹمز کا انتظام سنبھال لیا جب کہ متروکہ مکانوں کی الاٹمنٹ اور انھیں کرائے پر دینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی جس کے سیکریٹری وزیر خزانہ غلام محمد تھے۔ایوب کھوڑو نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ یہ سب غیر منصفانہ ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے وزیر اعظم کو ایک طویل خط تحریر کیا جس میں انھوں نے وزیر اعظم کو یاد دلایا:
’قائد اعظم کے وعدے کے مطابق کراچی میں مرکزی حکومت عارضی طور پر قائم کی گئی ہے، اس لیے سندھ حکومت کو یہاں سے نکلنے کا حکم دینا درست نہیں۔‘
کیا بانیِ پاکستان نے ایسا کبھی کہا تھا؟ نصرت مرزا نے بتایا: ’روزنامہ ڈان میں طویل عرصے تک بطور ایڈیٹر خدمات انجام دینے والے احمد علی خان نے مجھے بتایا کہ بانی پاکستان سے منسوب یہ بات درست ہے، انھوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ بعد میں کیا جائے گا لیکن کب اور کہاں؟ اس کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔ اسی بات کو ایوب کھوڑو نے کراچی کی مرکزی حکومت کو منتقلی کے خلاف جواز بنا لیا۔‘
نصرت مرزا کہتے ہیں کہ اس بات کو یوں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایوب کھوڑو سندھ اور کراچی میں ہجرت کر کے آنے والوں کو مستقل طور پر بسانے پر آمادہ نہیں تھے، اس کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں زمین خریدنے والے کے نام ہمیشہ کے لیے انتقال ہو جاتا ہے لیکن سندھ میں ایسا قانون بنایا گیا کہ بیس، تیس، چالیس یا نوے سال کے لیے زمین لیز پر دی جانے لگی۔ اس طرح باہر سے آنے والوں کو زمین پر حق ملکیت دینے میں ہی مستقل طور پر ایک رکاوٹ پیدا کر دی گئی۔‘
نصرت مرزا کے مطابق کراچی کی مرکزی حکومت کو منتقلی کے خلاف ایوب کھوڑو کے مؤقف کو بھی اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہ پس منظر تھا جس میں کراچی اور کراچی سے باہر سندھی آبادی میں اس صورتحال پر ردعمل پیدا ہوا اور ہنگامے شروع ہو گئے۔ اس سلسلے میں 21 جنوری 1948 کا ہنگامہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
مختلف کالجوں کے تقریباً آٹھ سو کے قریب طلبہ نے صبح کے وقت وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا۔ حالات اس نہج پر پہنچے تو سندھ مسلم لیگ اور سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کراچی کو سندھ سے لے کر مرکز کو منتقل کرنے کی مخالفت کی گئی۔ان قراردادوں میں کراچی کو سندھ کا فطری حصہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس طرح کا کوئی فیصلہ پاکستانی عوام کے اتحاد کو متاثر کرے گا اور تعصبات جنم لیں گے۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ 1940 کی قرارداد لاہور کی روح کے بھی خلاف ہے جس میں وفاق کو تشکیل دینے والے یونٹوں کی جغرافیائی حدود کے احترام کا یقین دلایا گیا تھا۔ان قراردادوں کے بعد وزیر اعظم نے فروری کے پہلے ہفتے میں ایک اجلاس میں مسئلے کے حل کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ایک کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی۔
ان کمیٹیوں میں اتفاق نہ ہو سکا اور مرکزی حکومت کے ایک رکن کمیٹی اورمرکزی وزیر آئی آئی چندریگر نے ایوب کھوڑو سے اختلاف کرتے ہوئے کراچی پر مرکزی حکومت کے حق پر زور دیا اور کہا کہ سندھ حکومت کی کراچی سے منتقلی کا معاملہ وزرا پر مشتمل کمیٹی کے سپرد کیا جائے اور اگر اس سلسلے میں کوئی اختلاف پیدا ہو تو حتمی فیصلہ ‘قائد اعظم’ کریں اور جب تک فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، صوبائی دارالحکومت کی منتقلی کا معاملہ التوا میں رکھا جائے۔لیکن اس اتفاق رائے کے برعکس ڈاکٹر کھوڑو کے دعوے کے مطابق مرکزی حکومت صوبائی حکومت کے دارالحکومت کی فوری منتقلی پر اصرار کرتی رہی۔ اس دوران احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رہا اور مظاہرین نے احتجاجی سیاہ جھنڈے لہرائے، وزرا کے گھروں پر مظاہرے کیے اور قومی قیادت کے خلاف نعرے لگائے۔
جس پر گورنر جنرل محمد علی جناح نے وزیر اعلیٰ کھوڑو کو بلا کر وضاحت طلب کی۔ یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ سنگین تصور کیا گیا کہ ان مظاہروں میں خود وزیر اعلیٰ کے بھائی بھی شامل تھے۔اس معاملے کو بنیاد بنا کر گورنر سندھ ہدایت اللہ نے چند ارکان اسمبلی کے تعاون سے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ہو گئے۔
گورنر سندھ کی ان سرگرمیوں کے پیش نظر وزیر اعلیٰ نے ایک خط میں گورنر جنرل کو اس صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اسمبلی ان پر اعتماد کرتی ہے اور انھیں ہٹانے کی سرگرمیاں درست نہیں ہیں۔دوسری طرف گورنر ہدایت اللہ نے تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد گورنر جنرل کو تجویز پیش کی کہ وہ ایوب کھوڑو کو طلب کر کے چھ ماہ کے لیے سیاست سے دور رہنے کی ہدایت کریں کیونکہ وزیر اعظم پاکستان اور صوبے کا گورنر ان کی سرگرمیوں سے اتفاق نہیں رکھتے۔
گورنر جنرل نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف چھ ماہ کے لیے ہی ہو گا۔ دوسری طرف ایوب کھوڑو نے سیاست سے لاتعلقی کی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے استعفے کی پیش کش کردی اور استعفیٰ لکھ کر گورنر جنرل کو ارسال کر دیا لیکن اسی دوران ان کی برطرفی کا حکم جاری کر دیا گیا اور اعلان ہوا کہ ایک ٹربیونل وزیر اعلیٰ کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرے گا۔
بعد میں وزیر اعلیٰ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایسے الزامات تھے جو اس وقت تک سامنے نہیں لائے گئے تھے۔

عقیل عباس جعفری نے ’پاکستان کرونیکل‘ میں مؤرخ زاہد چوہدری کے حوالے سے لکھا ہے کہ چار جون 1948 کو سندھ چیف کورٹ میں سابق وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی جس میں ان کے خلاف باسٹھ الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں ضابطے کے خلاف تقرریاں اور انتقامی کارروائیوں کے الزامات شامل تھے۔
زاہد چوہدری کے مطابق ان مقدمات کا واحد مقصد یہ تھا کہ انھیں طویل مقدمات میں الجھا کر رکھا جائے تاکہ وہ کراچی کی سندھ سے علیحدگی کے خلاف کوئی عوامی تحریک منظم نہ کر سکیں۔ایوب کھوڑو کی معزولی کے بعد پیر الٰہی بخش نے تین مئی 1948 کو وزیر اعلیٰ کی حیثت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور اس سے اگلے روز دستور ساز اسمبلی نے کراچی کو مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی قرارداد منظور کر لی۔
نصرت مرزا کہتے ہیں کہ ایوب کھوڑو سندھ میں انڈیا سے نقل مکانی کر کے کراچی آنے والوں کی آبادکاری کے خلاف تھے لیکن جب پیر الٰہی بخش وزیر اعلیٰ بن گئے تو سب سے پہلے انھوں نے شہر کے نواح میں ہجرت کر کے آنے والوں کے لیے ایک بستی قائم کی جسے ان ہی کے نام سے منسوب کر دیا گیا یعنی پیر الٰہی بخش کالونی۔
’ورنہ ایوب کھوڑو اور مسلم لیگ کے دیگر سندھی قائدین ہجرت کر کے آنے والوں کی آبادکاری میں رکاوٹیں پیدا کر رہے تھے اور یہ افراد جھونپڑیوں میں کافی عرصے تک قیام کرنے پر مجبور رہے۔‘
ڈاکٹر صفدر محمود نے ایک کتاب ’مارشل لا سے مارشل لا تک‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایوب کھوڑو پہلے سیاستدان تھے جنھوں نے محض سیاسی مفادات کے لیے صوبائیت کے جذبات کو اُبھارا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کھوڑو نے اپنی معزولی کے بعد کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک شروع کر دی۔
بانیِ پاکستان اس دوران علاج کے لیے زیارت جا چکے تھے۔ میر نور احمد لکھتے ہیں کہ جب یہ بحران سنگین ہوا تو مسلم لیگی رہنما ہاشم گزدر کی تجویز پر ایک مسلم لیگی وفد ان سے ملاقات کے لیے زیارت پہنچا جہاں بانیِ پاکستان نے وفد کو مشورہ دیا کہ اس سے پہلے کے حالات سنگین ہو جائیں، مرکزی حکومت کا فیصلہ قبول کر لیا جائے کیونکہ اس سے سندھ کو نقصان کے بجائے فائدہ ہو گا۔ کیوںکہ وفاقی حکومت کے ترقیاتی منصوبے یہیں بنیں گے اور یہیں کے عوام اس سے مستفید ہوں گے۔
(بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker