ڈاکٹر اسد اریبشاعری

بے قید وبند آدم۔۔۔اسد اریب

میں وہ آصف ہو ں اگراَذن سلیماں پاؤں
تخت بلقیس ابھی پل میں اٹھا کر لے آؤں

میں کبھی گوتم و کنفیوشس و لقمان بھی تھا
شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے پر اب کیا ہوں

قصر داؤد سلیماں مرے ہاتھوں سے بنے
یہ الگ بات کسی کو نظر آؤں کہ نہ آؤں

اس نے ظالم کہا ،جاہل کہا یہ اچھی رہی
اب مری توبہ ،کسی کا جوکبھی بوجھ اٹھاؤں

وہ تو تکمیل تمنائے تسلط کا تھا شوق
وہ مرا جہل نہ تھا میں اسے سچ سچ بتلاؤں

ختم شُد ۔ یادمکُن قصہ ِپارینہ را
حال پیشین بِنگرازدرِما ضی برآ

اس سے پہلے کہ بجھے خیمہ جاں میں لگی آگ
اس سے پہلے کہ میں مرنے سے بھی پہلے مرجاؤں

اس سے پہلے کہ اُتر جائے یہ دریائے فرات
اس سے پہلے کہ میں خود تشنہ بہ لب ہوجاؤں

رات کو برسرِ تدبیرِ تمنا کاٹوں
دن کو تکمیل تمنا کے لیے ، دل بہلاؤں

اس سے پہلے کہ کسی کفر کی پاداش میں مَیں
گرم بازاری ِدہشت میں شہادت پاؤں

جی یہ چاہے ہے ،مقابل ترے آکر اکدن
سربکف سینہ سپر ہو کے کھڑا ہوجاؤں

کتنے وعدے ہیںترے تشنہ تکمیل ہنوز
ایک اک کرکے ترے سامنے سب دوھرؤں

خستہ جاں ،تیشہ بدوش آؤں بہ نامِ فرہاد
خسر وِعہد شکن اور تجھے کچھ یاد دلاؤں

میری شہ رگ سے کٹے،خنجر بُراں تیرا
آہنِ گردنِ ہمت کے وہ جوھردکھلاؤں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker