کالملکھاری

منو بھائی کے گریبان کی کہانی ۔۔ مسعود اشعر

یہ تعزیتی کالم نہیں ہے۔ مجھے تعزیتی مضمون یا تعزیتی کالم لکھنا نہیں آتا۔ میں نے اپنے جگری دوست افضل خاں پر جو کالم لکھا تھا وہ بھی تعزیت نہیں تھی، بلکہ اس کی یاد تازہ رکھنے کا بہانہ تھا۔ یہ کالم بھی منو بھائی کی تعزیت نہیں ہے بلکہ چالیس پچاس سال پرانی یادیں تازہ رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔ یہ 1970کی دہائی ہے۔ جنرل یحییٰ خاں کی حکومت ہے۔ نظریۂ پاکستان کی اصطلاح کے خالق اور اپنے آ پ کو نپولین بونا پارٹ سمجھنے والے جنرل شیر علی وزیر اطلاعات ہیں۔ منو بھائی راولپنڈی، اسلام آباد میں روزنامہ امروز کے نمائندے ہیں۔ ایک تو امروز، دوسرے منو بھائی، ہمیشہ کے ترقی پسند، جمہوریت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے والے اور ذوالفقار علی بھٹو کے شیدائی۔ شیر علی جیسے جنرل کو وہ کہاں پسند آ سکتے تھے۔ وہ ناراض ہوئے اور منو بھائی کو اٹھا کر ملتان بھیج دیا۔ ان کے ساتھ شفقت تنویر مرزا بھی تھے۔ اب یہ جنرل صاحب کی بدقسمتی کہ انہوں نے تو اپنی دانست میں منو بھائی اور مرزا صاحب کو سزا دینے کے لئے ملتان بھیجا تھا، لیکن وہاں بھی ان کے چاہنے والے موجود تھے۔ ہم نے منو بھائی کو اہلاً و سہلاً کہا اور کھلی بانہوں سے ان کا استقبال کیا۔ اور کہہ دیا کہ یہاں چھٹیاں منائو۔ کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں، اگر جی چاہے تو ایک کالم لکھ دیا کرو۔ انہی دنوں روزنامہ مشرق کے نمائندے ایثار راعی نے ’’گریبان‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ نکالا تھا، جو چند شماروں کے بعد ہی بند ہو گیا تھا۔ اب منو بھائی کے کالم کا نام ’’گریبان‘‘ ہو گیا۔ اب آپ تاریخ درست کر لیجئے۔ منو بھائی نے اپنا کالم ’’گریبان‘‘ ملتان سے شروع کیا تھا۔ منو بھائی کا ہلکا پھلکا مزاحیہ اور طنزیہ انداز اور ان کے قلم کی کاٹ نے پہلے ہی کالم سے پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اسی زمانے میں کراچی کا ایک اخبار بڑے زور شور سے اس دعوے کے ساتھ ملتان آیا کہ اب امروز صرف خبروں کی تردید ہی چھاپا کرے گا، خبریں تو ہمارے اخبار میں ہی ہوں گی۔ لیکن وہ اخبار نکالنے والے منو بھائی کو نہیں جانتے تھے۔ منو بھائی نے اپنے کالم میں اس اخبار کی وہ خبر لی کہ چند مہینے بعد ہی اس نے اپنا بوریا بستر باندھا اور واپس کراچی چلا گیا۔ چند مہینے بعد ’’گریبان‘‘ منو بھائی کے ساتھ لاہور منتقل ہو گیا۔ اب گریبان اور منو بھائی ایک ہو گئے تھے۔ پھر یہ کالم امروز سے جنگ میں چلا گیا۔ اور لاکھوں کروڑوں پڑھنے والوں کے دل کی دھڑکن بن گیا۔ منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا چند مہینے ہی ملتان رہے۔ لیکن ملتان کے لئے وہ چند مہینے بھی یادگار بن گئے۔
لیکن منو بھائی نے شہرت تو برسوں پہلے اپنے تعزیتی کالم اور اپنی پنجابی شاعری سے حاصل کی تھی۔ اور ہمارا تعلق بھی اسی وقت قائم ہوا تھا۔ یہ گریبان سے پہلے کی بات ہے۔ عطیہ فیضی کے انتقال پر انہوں نے کالم لکھا اور پڑھنے والوں نے جانا کہ تعزیتی مضمون یا تعزیتی کالم ایسے لکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد تو تمام جاننے والے منو بھائی سے پوچھتے ’’ہمارے مرنے پر بھی ایسا ہی کالم لکھو گے؟‘‘ اور وہ کہتے ’’دیکھو پہلے کون جاتا ہے۔‘‘ احمد ندیم قاسمی بھی اسی مضمون سے ہی منو بھائی کے چاہنے والوں میں شامل ہوئے۔ لیکن قاسمی صاحب تو منو بھائی کی پنجابی شاعری کے بھی بہت دلدادہ تھے۔ روزنامہ امروز اردو کا واحد اخبار تھا جس میں ’’گل بات‘‘ کے نام سے پنجابی کا صفحہ شائع ہوتا تھا۔ ظہیر بابر اس صفحے کے نگران تھے۔ قاسمی صاحب اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ منو بھائی منیر احمد کے نام سے اپنی نظمیں بھیجتے تھے۔ قاسمی صاحب کو جب معلوم ہوا کہ منیر احمد کو گھر میں منو کہا جاتا ہے تو انہوں نے کہا اب تم منیر احمد نہیں ہو، منو بھائی ہو۔ اور وہ منو بھائی ہو گئے۔ منو بھائی، ہر محفل کی جان۔ جس محفل میں منو بھائی موجود ہوں وہاں اور کسی کی دال نہیں گلتی۔ کشور ناہید جب تک لاہور میں رہیں ان کے گھر کی محفلیں بھی منو بھائی کے نام ہی ہوتیں۔ جو چبھتے ہوئے فقرے اور جو بڑے بڑے منہ بسورنے والے سنجیدہ سے سنجیدہ لوگوں کے پیٹ میں بل ڈالنے والے جملے منو بھائی کی طرف سے آتے وہی محفل کی جان ہوتے۔ اور پھر ملنسار ایسے کہ جو بھی ان سے ملا اسے لگا کہ اس سے زیادہ ان کا دوست اور کوئی نہیں ہے۔ چند سال پہلے منو بھائی کئی بار بیمار ہوئے۔ کئی بار اسپتال گئے۔ واپس آئے تو ویسے ہی شگفتہ اور خوش باش۔ ابھی چند مہینے پہلے تک منو بھائی نیر علی دادا کی ماہانہ بیٹھک میں آتے تھے۔ اور اپنی پنجابی نظمیں سنایا کرتے تھے۔ یہ نظمیں آپ سب نے ہی پڑھی یا سنی ہوں گی۔ یہ مزاحمتی یا انقلابی نظمیں ہیں۔ لیکن ان نظموں میں بھی منو بھائی کی شگفتہ گوئی ہی نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ یہ نظمیں پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں تو واہ کے ساتھ بے ساختہ آپ کے منہ سے قہقہہ نکلتا ہے۔ لیکن یہ قہقہہ دراصل زہر خند ہوتا ہے۔ میٹھا زہر، جو ہنسی ہنسی میں آپ کے دل و دماغ پر وہ چوٹ لگاتا ہے جس سے آپ دہل جاتے ہیں۔ آپ نے کسی شاعر کی نظم کے بارے میں یہ نہیں دیکھا ہو گا کہ حالات کے ساتھ وہ نظم بھی بڑھتی چلی جاتی ہو۔ لیکن منو بھائی کی نظم ’’پر اجے قیامت نئیں آئی‘‘ ایسی ہی نظم ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی تھی۔ اور یہی منو بھائی کا کمال ہے۔
یہ جو منو بھائی نے تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی تھی، یہ تو دس پندرہ سال کی ہی بات ہے۔ انہیں بچوں سے جو پیار تھا اس کا نمونہ تو میں نے چالیس بیالیس سال پہلے دیکھ لیا تھا۔ 1975میں صحافیوں کا ایک وفد امریکہ گیا تھا۔ ان دنوں واشنگٹن میں پاکستان کے جو تعلیمی اتاشی تھے (میں ان کا نام بھول رہا ہوں) انہوں نے اپنے گھر ہماری دعوت کی۔ ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ چار پانچ سال کا ایک بچہ کیری کاٹ میں آدھا لیٹا آدھا بیٹھا ہے۔ وہ دماغی طور پر معذور بچہ تھا۔ اب آپ جانتے ہیں کہ ایسے بچوں بلکہ ایسے بڑوں کے ساتھ بھی بات کرنا یا گھل مل جانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ہم تو میزبان کے ساتھ باتیں کر رہے تھے اور منو بھائی اس بچے کے ساتھ بیٹھے ایسے باتیں کر رہے تھے جیسے وہ ان کا اپنا ہی بچہ ہو۔ اور جب تک کھانے پر نہیں بلا لیا گیا اس وقت تک وہ اس بچے کے ساتھ ہی بیٹھے اس سے ہنسی مذاق کرتے رہے۔ وہ بچوں کے ساتھ بچہ بن جانا جانتے تھے۔ انہوں نے اپنے اندر کا بچہ آخر عمر تک زندہ رکھا۔
منو بھائی کی ترقی پسندی انہیں ٹراٹسکی کے سوشلزم تک لے گئی تھی۔ ڈاکٹر لال خان اور جاوید شاہین ان کے ساتھی تھے۔ اب بابا ٹیڈ گرانٹ ان کے کالموں میں نظر آنا شروع ہو گیا تھا۔ ٹراٹسکی کے سوشلزم کے لئے انہوں نے اسپین کا دورہ بھی کیا۔ جاوید شاہین نے ٹراٹسکی کی کتاب کا ترجمہ بھی کیا۔ اس کے ساتھ ہی منو بھائی کے کالموں کا رنگ بھی بدل گیا۔ اب سرمایہ داری نظام کا معاشی اور معاشرتی استحصال ان کا موضوع بن گیا۔ ان کے قاری نے محسوس کیا کہ اب ان کے کالموں میں وہ بذلہ سنجی اور وہ شگفتگی کم ہو گئی ہے جو ان کے کاٹ دار قلم کے ساتھ وابستہ تھی۔ لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی ان کی نظریاتی زندگی کا ہی حصہ تھا۔ یہ نظریہ ہے پاکستان سے استحصالی نظام کا خاتمہ۔ اس کے لئے انہوں نے اپنا پرانا اسلوب تبدیل کر لیا تھا اور اسی نظریے کے تحت پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دوستی کا رشتہ برقرار رکھنے یا ٹوٹنے والا رشتہ قائم کرنے کے لیے انہوں نے سیفما کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ اب یہ تو سیفما والے ہی بتا سکتے ہیں کہ منو بھائی کی شخصیت ان کے لئے کتنی بڑی نعمت ثابت ہوئی۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ منو بھائی کی موجودگی ہر محفل کو زعفران زار بنادیتی ہو گی۔ اور پڑوسی ملکوں کے لوگ پاکستان کی بات سننے پر مجبور ہو جاتے ہوں گے۔ اب اسی سے اندازہ لگا لیجئے کہ منو بھائی کہاں کہاں اور کن کن محفلوں اور تنظیموں میں یاد رکھے جائیں گے۔ میں نے بھی آپ کو جو اپنی یادوں میں شریک کیا ہے اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ میں منو بھائی کی یاد ہمیشہ تازہ رکھنا چاہتا ہوں۔ زندہ اور شگفتہ منو بھائی کی یاد۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker