کالملکھاریمسعود اشعر

نیا پاکستان اور ہم: آئینہ / مسعود اشعر

شگون تو اچھا ہے۔ پاکستان کی اکہترویں سالگرہ کے ساتھ عمران خاں وزیر اعظم کا منصب سنبھال رہے ہیں۔ پورے پاکستان کی ہی نہیں، دنیا بھر کی نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے نیا پاکستان بنانے کا عہد کیا ہے اور یہ نیا پاکستان کیسا ہو گا؟ عمران خاں کے بقول وہ صرف ایک سو دن میں ہمیں نظر آ جائے گا۔ تین مہینے کے عرصے میں سب کچھ بدل جائے گا۔ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل جائے گا۔ بے گھر لوگوں کو گھر مل جائیں گے۔ اور پرانے سیاست دانوں نے اربوں کھربوں روپے جو پاکستان سے لوٹ کر باہر اکٹھے کر رکھے ہیں وہ پاکستان کو مل جائیں گے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کا وہ صوبہ مل جائے گا جس کے لیے ہمارے دوست تاج محمد لنگاہ نے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی اور جس صوبے کا خواب آنکھوں میں لئے وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کہتے ہیں، اگر سو دن میں یہ سارے کام پورے نہ بھی ہو ئے تب بھی ان کی جانب پیش قدمی تو نظر آ ہی جائے گی۔ اندھا کیا چاہے؟ دو آنکھیں۔ اسی سے عوام خوش ہو جائیں گے۔ یہ سب ہماری خام خیالی نہیں ہے بلکہ یہ وہ عہد ہے جو عمران خاں نے کیا ہے۔ اور عمران خاں کی سیاسی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں۔ اب اگر کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خاں کے پاس قومی اسمبلی میں اتنی بھاری اکثریت ہی نہیں ہے کہ وہ اپنا یہ عہد نبھا سکیں، تو یہ ان کی ازلی اور ابدی قنوطیت پسندی ہے۔ عمران خاں کو منتخب ارکان کی حمایت کے علاوہ روحانی طاقت بھی حاصل ہے۔
آنے والی حکومت کو یہ کہہ کر ڈرایا جا رہا ہے کہ پاکستان کا خزانہ تو خالی ہے تم یہ وعدے کیسے پورے کرو گے؟ اس کا جواب یہ دیا جا رہا ہے کہ چین اور سعودی عرب ہماری مدد کریں گے۔ اس کے علاوہ ملک سے باہر رہنے والے پاکستانی بھی اپنا سرمایہ پاکستان لائیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ بیرون ملک پاکستانی تو اس انتظار میں ہیں کہ پاکستان میں ان کی پسند کی حکومت اقتدار میں آئے اور وہ اپنے وطن کی مدد کے لیے جوق در جوق بھاگے چلے آئیں۔ چین کے سلسلے میں تو عمران خاں خود ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ معاشی ترقی کے لیے چینی ماڈل اپنائیں گے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنے معاشی ماہرین کی ٹیم چین بھیجیں گے۔ البتہ اس سلسلے میں انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ چین میں تو ایک پارٹی کی حکومت ہے جبکہ پاکستان میں یہ صورتحال نہیں ہے۔ اس کے علاوہ چین کی معیشت آج جس مقام پر پہنچی ہے اس کے لئے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی جانیں گئی ہیں۔ پاکستان میں جیسی تیسی بھی ہیں، سیاسی آزادیاں تو موجود ہیں اور حزب اختلاف کی جماعتوں میں بھی اتنی سکت ہے کہ وہ حکومت کو ان کاموں سے روک سکیں جنہیں وہ غلط سمجھتی ہیں۔ اس کا احساس خود عمران خاں کو بھی ہے۔ الیکشن سے پہلے تک ان کی آواز اور ان کے برتائو میں جو گھن گرج تھی اب وہ ختم ہو چکی ہے۔ اب ان میں اور ان کی جماعت میں نرمی آ چکی ہے۔ اب وہ مخالف جماعتوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کا ایک وفد قومی اسمبلی کے جانے والے اسپیکر سردار ایاز صادق سے ملا ہے اور ان کی جماعت سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ اسی طرح ایک وفد پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملا ہے اور درخواست کی ہے کہ اسپیکر کے الیکشن میں ان کا کوئی امیدوار کھڑا نہ ہو۔ تحریک انصاف کی طرف سے تو یہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ مگر کیا پیپلز پارٹی یا دوسری کوئی مخالف جماعت ان کی بات مان لے گی؟ اس میں شبہ ہے۔ عمران خاں پچھلے پانچ سال میں اپنی مخالف جماعتوں کو اتنا زچ کر چکے ہیں کہ اگر آج وہ جماعتیں پارلیمنٹ سے باہر کسی قسم کی تحریک چلانے سے گریز کر رہی ہیں تو یہ ان کی سیاسی پختگی اور فراخ دلی ہے۔ پھر بھی عمران خاں کی جانب سے یہ پیش قدمی اچھا اقدام ہے۔
بہرحال، پاکستان کی اکہترویں سالگرہ پر ہمیں ایک ایسی جماعت کی حکومت مل رہی ہے جو نیا پاکستان بنانے کا عزم رکھتی ہے۔ جو پرانی سیاسی روایات اور فرسودہ اقدار کا خاتمہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس لیے اسے ہر حالت میں اپنے پروگرام پر عمل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کون نہیں چاہتا کہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ملے، بے گھروں کو گھر ملیں اور پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس آئے۔ اور جنوبی پنجاب کا صوبہ بن جا ئے؟ مگریہاں یہ سوال بھی تو سامنے آتا ہے کہ آخر یہ صوبہ کیسے بنے گا؟ اور کہاں بنے گا؟ بہاولپور والے تو اپنی ریاست واپس لینا چاہتے ہیں۔ باقی سرائیکی وسیب کہاں تک پھیلا ہوا ہے؟ اس کے بارے میں مختلف رائے ہیں۔ یقیناً تحریک انصاف نے اس کے لیے تحقیق کر لی ہو گی اور جنوبی پنجاب کا نقشہ بھی تیار کر لیا ہو گا؟ ظاہر ہے اس کے بغیر تو شاہ محمود قریشی صوبہ جنوبی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے اور یہ ان کی آخری خواہش ہے۔ پرانی روایات اور فرسودہ اقدار پر یاد آیا کہ گلگت بلتستان اور بلوچستان میں ہر دوسرے دن جو دھماکے ہو رہے ہیں، اور جو بے گناہ انسانوں کی جانیں جا رہی ہیں، ان پر ابھی تک عمران خاں کا کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔ یہ کون کرا رہا ہے؟ اور کیوں کرا رہا ہے؟ کچھ تو معلوم ہونا چاہیے۔ ہم عمران خاں کے موقف کا انتظار کر رہے ہیں۔(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker