کالملکھاریمسعود اشعر

یہ ٹڈی دل اور یہ بچے۔۔آئینہ /مسعود اشعر

اور کچھ نہیں تو ہمارے اوپر ٹڈی دل نے بھی حملہ کر دیا۔ پہلے ہی ہم بے شمار حملوں کی زد میںہیں۔ ایک طرف ڈینگی ہے تو دوسری طرف کانگو وائرس، تیسری طرف عجیب و غریب ہیبت ناک قسم کی ایسی بیماریاں جن کا نام بھی ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔ اور پھرایک دم کتے بھی نمودار ہو گئے۔ جیسے ہمارے ہاں پہلے کتے نہیں ہوتے تھے۔ یہ کتے بھی اچانک ہی اخباروں کی خبر بنے ہیں۔ ان کتوں نے غریبوں کو کاٹنا شروع کیا ہے۔ جی ہاں، یہ کتے غریبوں کو ہی کا ٹتے ہیں۔ امیر لوگوں کو یہ کتے نہیں کاٹتے کہ امیر لوگ کتے پالتے ہیں اور ان کا ایسے ہی خیال رکھتے ہیں جیسے اپنے بال بچوں کا۔ اس لئے یہ کتے انہیں کچھ نہیں کہتے۔ اب یہ کتے غریبوں کو کاٹتے ہیں، اور ان کے کاٹنے سے غریب لوگ مر بھی جاتے ہیں۔ ہمیں جہاں تک یاد ہے پہلے تو اخباروں میںایسی خبریں نہیں آتی تھیں۔ کیا اس زمانے کے کتے بہت شریف ہوتے تھے کہ وہ انسانوں کو کاٹنا تو کجا، انہیں دیکھ کر خود ہی دم دبا کر بھاگ جاتے تھے؟ اب تو ایسا لگتا ہے کہ ان کتوں کو بھی جیسے ہم انسانوں کی عادتوں کی ہوا لگ گئی ہے اور وہ بھی ہماری طرح کٹ کھنے ہو گئے ہیں۔ آج کل ہم بھی تو ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جس جانب بھی آنکھ اٹھا کر دیکھو، ادھر سے یہی صدائیں آ رہی ہیں ”ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے“ ”ہم انہیں جہنم پہنچائے بغیر دم نہیں لیں گے“ اور ”ہم ان کے حلق سے وہ ساری روٹیاں نکلوالیں گے جو انہوں نے کرپشن کے ذریعے حاصل کر کے اپنے پیٹ میں اتاری ہیں“۔ ہم ادھر ادھر کان لگا کر سننے کی کوشش کرتے ہیںکہ شاید کہیں سے تو کوئی خیر کی خبر آ جائے مگر توبہ کیجئے، خیر کی خبر آنا تو دور کی بات ہے، ایسی بھی کوئی خبر نہیں آتی جس سے ہمیں اپنے الجھے اور پھولے ہوئے سانس ہی سنبھالنے کی سہولت مل جائے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ ایک بیمار آدمی کے مرض کے بارے میں جو پنگ پانگ کھیلی گئی ہے، اس نے ہماری پوری سیاست اور ہمارے سارے اخلاق و آداب کو ایک ”فارس“ یا مزاحیہ ڈرامہ بنا دیا ہے۔ ایک دن کچھ کہا گیا اور دوسرے دن کچھ اور۔ ایک دن امید اور دوسرے دن نا امیدی۔ ایک دن گیند ایک کورٹ میں تو دوسرے دن دوسرے کورٹ میں۔ پوری قوم سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔ فیصلہ تھا کہ ہونے میں ہی نہیں آتا تھا۔ اسی لئے تو ہوش مند لوگ موجودہ ڈھانچے کو ”لونڈھیار تماشہ“ کہتے ہیں۔ جیسے تمام فیصلوں کا اختیار بچوں کے ہاتھ میں آگیا ہو ( ہم لونڈے نہیں کہتے)۔ علم نفسیات کے باوا آدم فرائیڈ نے کہا تھا کہ تھوڑی دیر کیلئے یہ دنیا بچوں کے ہاتھ میں دے دو‘ پھر دیکھو، چند لمحوں میں وہ اسے توڑ تاڑ کر رکھ دیں گے۔ تو گویا ہم آج کل بچوں کا کھیل دیکھ رہے ہیں اور وہ بھی بگڑے ہوئے بچوں کا کھیل۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ضدی اور بگڑے ہوئے بچے کتنے خطرناک ہوتے ہیں۔ بہرحال سننے میں آیا ہے کہ نواز شریف کو باہر جانے دینے کی جو مشروط پیش کش کی گئی تھی‘ وہ نواز شریف نے مسترد کر دی ہے۔
اور اب ٹڈی دل بھی وارد ہو گیا ہے۔ کتنے زمانے بعد ہم نے ٹڈی دل کا نام سنا ہے؟ اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ پہلے یہ نام کب سنا تھا۔ پہلے ہم نے کہانیوں میں اس کا نام سنا تھا۔ اس موضوع پر انگریزی میں ایک ناول بھی لکھا گیاتھا۔ یہ پرل ایس بک کا ناول تھا اور کمیونسٹ انقلاب سے پہلے والے چین کے بارے میں تھا۔ بعد میں اس ناول پر فلم بھی بنی تھی۔ اتفاق سے وہ فلم ہم نے بھی دیکھی۔ آج بھی اس فلم میںپیش آنے والے ہولناک واقعات یاد آتے ہیں تو سارے جسم پر ٹڈی دل رینگتے ہوئے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ پاکستان میں اچانک یہ ٹڈی دل آیا اور کراچی کے آسمان پر چھا گیا۔ کراچی کے باشندوں کا خوف زدہ ہونا قدرتی بات تھی لیکن ہمارے زراعت کے ماہروں نے تسلی دی کہ یہ ٹڈے انسان کو کچھ نہیں کہتے بلکہ انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ نہایت اطمینان نے ان ٹڈیوں کو فرائی کرکے کھائیں اور اگر چاہیں تو ان کی بریانی بنا کر بھی کھا سکتے ہیں؛ چنانچہ ہم نے اس مشورے پر عمل کیا اور ہمارے ٹیلی وڑن چینلز نے لوگوں کو مزے مزے سے ان ٹڈیوں کے پکوڑے اور ان کی بریانی کھاتے ہوئے بھی دکھا دیا۔ ظاہر ہے اگر ایسے چٹ پٹے کھانے مفت میں مل جائیں تو ہمیں اور کیا چاہیے؟ یہ تو ہمارے لئے من وسلویٰ سے کم نہیں ہے۔ ہمارے زراعت کے ماہروں نے تو یقین دلایا تھا کہ یہ ٹڈی دل ہماری فصلوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا‘ لیکن آج کی خبر یہ ہے کہ یہ دل کے دل فصلوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں اور ابھی ابھی یاد آیا کہ ہمارے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بھرے بازار میں انکشاف کیا تھا کہ ٹماٹر سترہ روپے کلو مل رہے ہیں۔ اور جس وقت وہ یہ انکشاف فرما رہے تھے اسی وقت سبزی منڈی میںکھڑے لوگ رو رہے تھے کہ ٹماٹر ڈھائی سو اور تین سو روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہوا ناں کہ ہماری حکومت اور اس کے عمال بالکل نہیں جانتے کہ آٹے دال کا کیا بھاﺅ ہے۔ اسی سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ اس بد نصیب ملک کی معیشت کیسے چلائی جا رہی ہے۔ ہاں، تو ہم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اس کمر اور سر توڑ مہنگائی کو دیکھتے ہو ئے ہی ٹڈی دل کو ہمارے اوپر رحم آ گیا‘ اور وہ کراچی میں وارد ہو گیا۔ اور کچھ نہیں تو کراچی والوں کو مفت میں چٹ پٹے کھانے تو مل گئے۔
اس مہنگائی پر ہمیں موسم بھی یاد آ گیا۔ گرمیاں چلی گئی ہیں اور صبح شام کی خنکی شروع ہو گئی ہے۔ جاڑوں کا موسم آ تا ہے تو خشک میوہ کھانے کو جی چاہتا ہے بادام‘ اخروٹ، کشمش اور چلغوزے اسی موسم میں تو کھائے جاتے ہیں۔ چلئے، اس میں مونگ پھلی کو بھی شامل کر لیجئے حالانکہ مونگ پھلی کو پہلے کبھی خشک میوے میں شمار نہیں کیا جاتا تھا‘ لیکن اب مہنگائی نے غریب کے اس کھاجے کو بھی خشک میوے کی سی عزت بخش دی ہے۔ اور ہاں، چلغوزہ تو جیسے پاکستان سے غائب ہی ہو گیا ہے اور اگر ملتا بھی ہے تو اس قیمت پر کہ سن کر ہی نانی یاد آ جاتی ہے۔ کہتے ہیں‘ ہمارا سارا چلغوزہ ہمارا یارِ غار چین اٹھا کر لے جاتا ہے۔ معلوم نہیں یہ خبر صحیح ہے یا غلط‘ لیکن چلغوزہ ہماری دسترس سے باہر ہو گیا ہے۔ ایک خبر یہ بھی تھی کہ کئی من چلغوزے کی بوریاں پکڑی گئی ہیں۔ کسی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ چلغوزہ کہاں جا رہا تھا‘ اور کیوں جا رہا تھا۔
ابھی کل ہی کی بات ہے‘ ہمارے گھر میں سوچا جا رہا تھا کہ جاڑے آ گئے ہیں، اب بازار سے خشک میوہ لانا چاہیے۔ ہم نے سنا تو انہیں مشورہ دیا کہ میوہ خریدنے بازار جاﺅ تو ”لخلخہ“ ساتھ لے جانا نہ بھولنا کیونکہ ان چیزوں کے نرخ سن کر ہی تم بیہوش ہو جاﺅ گے‘ اور تمہیں ہوش میں لانے کے لئے ”لخلخہ“ سنگھانا پڑے گا۔ اب یہ لخلخہ کیا ہوتا ہے؟ ہم نے تو پرانی داستانوں میں ہی اس کا نام سنا تھا۔ داستان کا ہیرو راستے میں چلتے چلتے اوپر کسی غرفے پر نظر کرتا تھا تو وہاںکوئی چاند چہرہ اسے دکھائی دیتا تھا۔ جونہی وہ ہوش ربا چہرہ دیکھتا تھا فوراً بیہوش ہو جاتا تھا۔ اب اسے ہوش میں لانے کے لئے ”لخلخہ“ سنگھایا جاتا تھا۔ اب یہ لخلخہ کیا ہوتا تھا؟ یا کیا ہوتا ہے؟ کم سے کم ہم تو نہیں جانتے۔ اس کے لئے فارسی کے استاد معین نظامی یا عربی کے استاد خورشید رضوی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ آخر معلوم تو ہونا چاہیے کہ یہ لخلخہ ہوتا کیا تھا؟ یا ہوتا کیا ہے؟ آج کل ہم سب کو اس لخلخے کی ضرورت پیش آ گئی ہے۔ صرف اس لئے نہیں کہ کھانے پینے، اوڑھنے بچھونے اور پہننے کی چیزیں اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ ان کا نام سن کر ہی بیہوشی طاری ہونے لگتی ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ ہمارے ارد گرد جو مزاحیہ تماشہ لگا ہوا ہے وہ بھی ہمارے ہوش و حواس اڑانے کے لئے کافی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker