اختصارئےلکھاریمسعود قمر

بدبو سے خالی دن ۔۔ مسعود قمر

یہی تاریخ تھی میں سٹاک ہولم کے ایک محلہ فیسک سیترہ (fisk sätraٌ) میں رہتا تھا ۔ میں نے کچن کی کھڑکی کھول دی تاکہ کھانے کی سمیل باہر نکل سکے ، چائے بنانے کی کیتلی چولہے پہ رکھ کے برتن صاف کرنے لگ گیا ، آخری پلیٹ دھو رہا تھا کہ نیچے سے نرنجن کی آواز آئی ، مسعود ۔۔ میرے لیے یہ خلاف توقع تھا کہ سویڈن میں ایسے سڑک پہ کھڑے اتنی زور سے کسی کو کوئی نہیں پکارتا ، نیچے پُٹ ڈور کے ساتھ بلڈنگ میں رہنے والے مکینوں کے نام کے ساتھ بیل لگی ہوتی ہے ، ہر کوئی بیل دبا کر میزبان کو آنے کی اطلاع کرتا ہے
میں جب کھڑکی پہ گیا تو نرنجن نے بلبلی مارتے کہا
مسعود ضیا مردود کے پرخچے اُڑ گئے
۔۔ میں نے بھی جوابی بلبلی ماری اور اسے اوپر آنے کو کہا اور چائے کی کیتلی چولہے سے ہٹا دی کہ اب چائے پینے کا نہیں کچھ اور پینے کا وقت شروع ہو گیا ،
میں اور نرنجن بیئر کے ڈبے پکڑے بھنگڑے ڈال رہے تھے جس میں میرے بچے بھی شامل ہوگئے اور ساتھ ساتھ میں دوستوں کو فون کر کے مبارک باد دیتے ان کو سٹاک ہولم کے سینٹرل پب میں اکٹھا ہونے کو کہہ رہا تھا ، جب بہت سے دوستوں کو فون پہ بلبلیاں مارتے اطلاع دے چکا تو میں نرنجن اور اپنے بیٹے خرم مسعود کے ساتھ سٹاک ہولم کے پب کی جانب چل پڑا ۔۔
راستے میں ٹرین میں بھی ہم ضیا مردود ٹھاہ کے نعرے مارتے رہے سویڈش ہمیں دیکھ کر ہنس رہے تھے اور چند سویڈش نعرے مارنے میں ہمارے ساتھ شامل ہوگئے۔۔
جب سٹاک ہولم کے سینٹرل پب میں سب دوست اکٹھے ہوگئے تو ہر آنے والا دوست زور سے ضیا مردود ٹھاہ کا نعرہ لگاتا جس کے جواب میں پہلے سے بیٹھے دوست ضیا مردود ٹھاہ کا نعرہ مار کر جواب دیتے ۔۔
میں پب کے مینیجرکے پاس گیا جو میرا بہت اچھا دوست تھا اور اسے یہ خبر سنانے کے بعد اس سے ایک بات کی اجازت چاہی اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اتنی بڑی خبر کے پیش نظر اجازت دے دی ۔۔
ہم سب اپنی اپنی بیئر کے گلاس لے کے ایک دائرے میں کھڑے ہو گئے اور جیسے ہی سویڈش ٹی وی نے چھ بجے کے خبر نامہ میں ضیا مردود کے پرخچے اُڑنے کی خبر اناونس کی ہم سب نے بیئر کے گلاس بوٹم اپ کرکے ضیا مردود ٹھاہ کے نعرے کے ساتھ گلاسوں کو پب کے فرش پہ زور سے پٹخ دیا۔۔
یہ ضیا مردود ٹھاہ کا نعرہ ان لوگوں کی طرف سے تھا جن کو چوکوں میں ٹکٹکی پہ باندھ کر کوڑے مارے گئے تھے ،یہ ضیا مردود ٹھاہ کا نعرہ ان لوگوں کی طرف سے تھا جن کے صحنوں میں پڑے کچے گھڑوں کو توڑ کر ان کو بالوں سے گھسیٹ کر ٹارچر سیلوں میں لےجایا گیا تھا ۔ یہ ضیا مردود ٹھاہ کا نعرہ ان لوگوں کی طرف سے تھا جن کی چیخیں ٹارچر سیلوں سے رات رات بھر آتی تھیں اور صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی جاتی تھیں۔ یہ ضیا مردود ٹھا کا نعرہ بغیر دوپٹہ لیے پھرتی ان لڑکیوں کی طرف سے تھا جن کے بال ضیا مردود کے گماشتے جماعت اسلامی کے الشمس البدر کاٹ دیتے تھے ،یہ ضیا مردود ٹھاہ کا نعرہ سندھ کے ان گاوں میں بسنے والے باسیوں کی طرف سے تھا جن پر ہیلی کوپٹر سے گولیاں چلائی گئی تھیں
ضیا مردود ٹھاہ

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker