سرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہکالملکھاری

اُدھر تم ، اِدھر ہم : وسیب / ظہور دھریجہ

1970ء کے الیکشن کے بعد ’’ اُدھرتم ، اِدھر ہم ‘‘ کے نعرے کو بہت شہرت ملی ۔ یہ نعرہ ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بھٹو نے شیخ مجیب الرحمن کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ اُدھر یعنی مشرقی پاکستان تمہارا اور اِدھر یعنی مغربی پاکستان ہمارا ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اُدھر تم حکومت کرو ، اِدھر ہم حکومت کریں ۔ یہ اس وقت کی بات تھی ۔ تھوڑی دیر کیلئے ہم سوچیں کہ آج یہی نعرہ میاں شہباز شریف لگا دیں تو کیا صورت بنے گی ؟ جیسا کہ تحریک انصاف نے 100 دن میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ کیا ہے ‘ لیکن واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ سو دن تو کیا ،ایک سو ماہ میں بھی عمران خان صوبہ نہیں بنائیں گے کہ اگر وہ صوبہ بناتے ہیں تو سرائیکی صوبے کی وزارت اعلیٰ تو شاید تحریک انصاف کو مل جائے ، پنجاب کی وزارت اعلیٰ ن لیگ کے پاس چلی جائے گی کہ وہاں ان کی نشستیں زیادہ ہیں ۔ جو بات ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب ہے ‘ وہ غلط معنوں میں ہے کہ اس سے پاکستان دو لخت ہوا ،اگر یہ نعرہ میاں شہباز شریف لگائیں تو یہ غلط معنوں میں نہیں ہوگا کہ دو ملک نہیں دو صوبے بن رہے ہیں اور ویسے بھی میاں شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی سے دو صوبوں کی قرارداد پاس کرائی تھی اور منشور میں بھی لکھا تھا کہ صوبہ ہم بنائیں گے ۔ آج اگر میاں شہباز شریف ملک کے وسیع تر مفاد میں تحریک انصاف کو پابند کریں کہ وہ اپنے وعدے پر عمل کرے تو ایک لحاظ سے ن لیگ کی بلے بلے بھی ہو جائے گی اور ن لیگ کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی مل سکتی ہے ۔ ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ وسیب کے لوگ ہمیشہ ن لیگ کو دوش دیتے آ رہے ہیں کہ ن لیگ وسیب کی دشمن جماعت ہے کہ وہ سب کچھ لاہور کو دیتی ہے لیکن ن لیگ کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف نے بھی مخصوص نشستیں جنوبی پنجاب کو کم دی ہیں اب لاہور اراکین اسمبلی کا شہر بن کر رہ گیا ہے ۔ سوال اتنا ہے کہ ابھی تو اقتدار نہیں ملا مخصوص نشستوں کے معاملے پر سرائیکی وسیب کے ساتھ پہلے دن سے ظلم ، تحریک ’’ انصاف‘‘ بتائے کہ اس بے انصافی کو کیا نام دیا جائے ؟ مخصوص نشستوں کی حق تلفی کو معمولی نہ سمجھا جائے کہ سرائیکی وسیب سے صرف نشستیں نہیں چھینی گئیں بلکہ ارکان اسمبلی کو پانچ سالوں میں جو بجٹ ملے گا وہ بھی سرائیکی وسیب کی بجائے لاہور پر خرچ ہوگا۔ عمران خان سے بھی زیادہ قصور مخدوم شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین ، اسحاق خان خاکوانی ، نصر اللہ خان دریشک ، میر بلخ شیر مزاری ، ملک فاروق اعظم اور مخدوم خسرو بختیار وغیرہ کا ہے کہ وہ اس بے انصافی پر کیوں خاموش رہے ؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع دیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کو بھی نظر انداز کیا گیا اور وہاں بھی کوئی نشست نہیں ملی ۔ تحریک انصاف نے پنجاب سے خواتین کی 33 مخصوص نشستیں حاصل کیں ، ان میں سے سرائیکی وسیب کو صرف 3 ملیں اور قومی اسمبلی کی 16 نشستوں میں سے صرف ایک نشست شیریں مزاری کو سرائیکی علاقے کے نام پر دی گئی ، حالانکہ دیکھا جائے تو وہ عرصہ دراز سے اسلام آباد میں مقیم ہیں ۔ سرائیکی وسیب کے نوجوان بہت خوش ہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے ، ہمارا صوبہ بن رہا ہے ۔ جبکہ میں شروع سے کہتا آ رہا ہوں کہ گو کہ عمران خان اور ان کے آباؤ اجداد کا تعلق سرائیکی وسیب سے ہے لیکن عمران خان سے امید کم ہی ہے۔دو دن قبل جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے دیرہ اسماعیل خان کے شریف النفس قانون دان یاسر زکریا کو اس بناء پر قتل کر دیا گیا کہ وہ کانفرنس میں شرکت کیلئے جا رہے تھے ۔ آئے روز اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں مگر عمران خان کو صرف تعزیت کی توفیق بھی نہیں ہوئی ۔ جبکہ دہشت گردوں سے ہمدردی کیلئے وہ قافلہ لے کر وزیرستان تک چلے جاتے ہیں ۔ عمران خان نے ڈی جی خان میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والی زرتاج گل کو پارٹی ٹکٹ دیا ، وہ کامیاب ہو گئی ۔ کامیابی کے بعد محترمہ نے ایک سکیم کے تحت بیان دیا کہ سرائیکی صوبے کا دارالحکومت ڈی جی خان ہوگا۔ اس بیان کا مقصد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ سرائیکی صوبے کے ایشو کو متنازعہ بنایا جائے ۔ آج ڈی آئی خان اور ٹانک بھی یہ کہہ رہا ہے کہ ہم اس سرائیکی صوبے کا حصہ بنیں گے جس کا دارالحکومت ملتان ہوگا۔ مگر سرائیکی صوبے کے مسئلے کو خراب کرنے کیلئے کبھی محمد علی درانی کی صورت میں مداخلت کار آ جاتے ہیں کہ بہاولپور کو صوبہ بنایا جائے کبھی مطالبہ ہوتا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنایا جائے مگر دارالحکومت بہاولپور کو بنایاجائے ۔ ابھی کل کے ایک موقر اخبار میں اسلام آباد سے خبر شائع ہوئی ہے کہ ’’ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ کے مسئلے پر پی ٹی آئی میں اختلافات پیدا ہو گئے ، ملک فاروق اعظم بہاولپور صوبے کی بات کر رہے ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی جنوبی پنجاب صوبے پر اڑے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ یہ خبریں اور اس طرح کا ماحول جان بوجھ کر بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد صوبہ بنانا نہیں بلکہ صوبے کا کیس بگاڑنا ہے۔ زرتاج گل ہو ، مخدوم شاہ محمود قریشی یا ملک فاروق اعظم ، ہوش کے ناخن لیں۔ صوبے کا نام ، حدود اور دارالحکومت ، یہ کام صوبہ کمیشن کا ہے ۔ پہلے صوبہ کمیشن بنائیں ، وہ اپنا کام مکمل کرے اور اس کے مطابق بات کو آگے بڑھایا جائے ۔ وسیب کے لوگوں سے مذاق بند ہونا چاہئے کہ وہ پہلے ہی سے وہ پیپلز پارٹی ، ن لیگ کے زخم خوردہ ہیں ۔ اگر کسی کے پاس مرہم نہیں تو کم از کم زخموں پر نمک پاشی سے اسے پرہیز کرنا چاہئے ۔
( بشکریہ : روزنامہ 92 نیوز )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker