کالملکھاری

مظہر عباس کا کالم:گردشی سیاست

2015 میں عمران خان خاصے مایوس تھے۔ انہیں امید نہیں تھی کہ عدالتی کمیشن 2013کے الیکشن میں دھاندلی کے اُن کے الزامات مسترد کردے گا۔ اس سال ان کی جماعت پی ٹی آئی کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن بھی ہار جائے گی۔ 124؍دن کے دھرنے نے ان کو خاصی امید دلا دی تھی۔ مگر ایک اچھے کپتان کی طرح انہوں نے فیصلے کو قبول کیا اور ان کا ستارہ جو گردش میں تھا دوبارہ اوپر آنے لگا اور اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف جنہیں اب پوری امید تھی کہ وہ پہلی بار اپنی مدت پوری کریں گے مشکل میں آگئے جب 2016میں مشہور زمانہ ’’پانامہ لیکس‘‘ نے میاں صاحب سمیت دنیا کے کچھ حکمرانوں کو ہلا کر رکھ دیا اور ان کا ستارہ گردش میں آگیا اور اب تک صورت حال ان کیلئے بہتر نہیں ہوئی۔ یہ خود ان کے لئے اور ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) سمیت سب بڑی جماعتوں کے لئے سبق ہے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔
میاں صاحب کو اعلیٰ عدلیہ نے نااہل قرار دیا اور عدالت سے سزا بھی ہوئی اور حال ہی میں لندن کے محکمہ داخلہ نے ویزہ میں توسیع سے معذرت کرلی۔ان کی سیاسی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔ اقتدار اور جیل میں وہ آتے جاتے رہے ہیں۔ جلاوطنی بھی مرضی سے گزارتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس کو VVIP علاج کہتے ہیں۔ یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ پانامہ میں 450افراد میں ٹارگٹ ایک ہی کیوں ہوا؟ میاں صاحب کو ڈیل میں بھی کمال مہارت حاصل ہے۔ وہ جس طرح 2000 میں مشرف کی قید سے آزاد ہوکر پورے خاندان کے ساتھ سعودی عرب گئے وہ ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ سیاست میں کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر مجھے ذاتی طور پر انتخابی سیاست یا اقتدار میں ان کی واپسی نظر نہیں آرہی۔
سیاسی فیصلوں میں وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اگر 1977 میں الیکشن میں دھاندلی کے الزام کے بعد الیکشن کرا دیتے تو شاید 5؍جولائی نہ ہوتا اور جنرل ضیاکو کسی دوسرے وقت کا انتظار کرنا پڑتا۔ بے نظیر بھٹو 1988 میں ایک مشروط حکومت نہ لیتیں تو زیادہ طاقتور وزیر اعظم بن کر آتیں۔ اسی طرح اگر 2016میں ’’پانامہ لیکس‘‘ کے فوراً بعد جس میں نواز شریف صاحب کے بچوں کے بھی نام آئے تھے وہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر نئے انتخابات کرا دیتے تو آج وہ چوتھی بار وزیر اعظم ہوتے اور عمران خان کو کچھ برس انتظار کرنا پڑتا۔بدقسمتی سے سیاست میں جب آپ اقتدار میں ہوتے ہیں یا اقتدار کے قریب ہوتے ہیں تو صائب مشورے پسند نہیں آتے، تنقید ناگوار گزرتی ہے، درباری اچھے لگتے ہیں کیونکہ دربار میں رہنا اچھا لگتا ہے۔ اصول، نظریات، بیانیہ صرف اپوزیشن میں رہتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔ جماعت بھی یاد رہتی ہے اور کارکن بھی۔ یہ ہم بھول جاتے ہیں کہ آپ کا اصل دوست اور ساتھی وہی ہوتا ہے جو جیل میں آپ سے ملنے آتا ہے۔ سزا کے وقت ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ یہ بھی نہیں ہوتا کہ آپ کے ساتھی تو آپ کے ساتھ کھڑے رہیں اور آپ اچانک خود ہی غائب ہوجائیں اور جب پتا چلے تو آپ یا تو جدہ میں ہوں یا لندن میں۔
مسلم لیگ (ن) اور شریف برادران کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے فیصلہ کرنے کا۔ اب جو ’’مزاج یار‘‘ کا زمانہ نہیں اور اس بات کو حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی سمجھ گئی ہے لہٰذا سابق صدر آصف علی زرداری حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔ عوامی سیاست والے وہ آدمی کبھی نہیں رہے۔ اس وقت تو سندھ میں اپنا کلہ مضبوط کرنے کی فکر میں ہیں اور شہری سندھ میں موجود وسیع سیاسی خلا کو پر کرنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ جہاں وزیر اعظم عمران خان قدم جمانے کے موڈ میں نظر آتے ہیں۔اس وقت کے سیاسی منظرنامہ میں عمران خان کا پلڑا تمام تر حکومتی نااہلیوں کے باوجود بھاری نظر آتا ہے۔ آزاد کشمیر اور پھر سیالکوٹ میں انتخابی کامیابیوں کے بعد ان کی نظریں سندھ پر ہیں جہاں برسوں سے سیاسی بیانیہ دیہی اور شہری سندھ میں تقسیم ہے۔ 2013 تک تو یہ بحث ہی نہیں ہوتی کہ کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص کون جیتے گا بات صرف اتنی ہوتی تھی کہ متحدہ قومی موومنٹ کتنی نشستیں لے گی۔ پھر اچانک لندن والے بھائی نے ’’سیاسی خودکشی‘‘ کا فیصلہ کرلیا۔ پہلی غلطی 2013 میں ہوئی اور زیادہ سنگین 2016 میں۔
2018ء کے الیکشن میں یہ سیاسی خلا ’’تجاوزات‘‘ کے ساتھ PTIنے پر کیا اور صرف کراچی سے 14ایم این اے اور 23ایم پی اے جیتے۔ایسا لگتا ہے کہ شہری سندھ میں آئندہ مقابلہ پی ٹی آئی، پی پی پی اور دیگر کے درمیان ہوگا۔ تحریک لبیک پاکستان کو اگر لڑنے کی اجازت ملتی ہے تو وہ ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے خاص طور پر صوبائی الیکشن میں۔جہاں تک دیہی سندھ کا معاملہ ہے تو خان صاحب نے جس کو کپتان بنایا ہے اس کی جگہ تو ٹیم میں ہی نہیں بنتی۔ اگرکسی نئے کھلاڑی کو میدان میں تین سال پہلے اتار دیا ہوتا تو آج سیاست کے کھوٹے سکوں پر گزارہ نہ کرنا پڑتا۔ یہ تو اپنی نشستیں نہیں جیت پاتے آپ کو کہاں سے جتوائیں گے؟عمران خان 2022 کے شروع میں بڑا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ کچھ دوستوں کا خیال ہے الیکشن ستمبر یا اکتوبر، 2022 میں کروا سکتے ہیں۔ بس اتنا سوچ لیجئے گا کہ ایک سال پہلے الیکشن کروانے کی غلطی نہ کریں جو 1977 میں بھٹو نے کی تھی۔
اصل معرکہ بہرحال ’’پنجاب‘‘ میں ہی ہونا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہتی ہے تو وہ ایک بڑے حریف کے طور پر موجود رہے گی۔ اگر ’’سیاسی ٹارگٹ کلنگ‘‘ کا شکار ہوگئی تو بہت سے کھلاڑی مسلم لیگ (ق) کے پلڑے میں آگریں گے جن کا ہمیشہ سے ’’دسترخوان‘‘ وسیع اور کشادہ رہا ہے۔ نئے سیاسی منظرنامہ میں حکمران جماعت اس وقت پہلے نمبر پر ہی نظر آ رہی ہے گوکہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ایک بڑی غلطی آپ کو دوڑ میں پیچھے بھی کرسکتی ہے۔ ایسے میں لگتا نہیں کہ بلدیاتی الیکشن کا رسک لیا جائے گا۔رہ گئی بات کہ الیکشن کیسے ہوں گے، کون کروائے گا۔ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کیا کارنامہ انجام دے گی، بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملے گا یا ’’انتظار فرمائیے‘‘ رہے گا؟ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ ایک بات طے ہے کہ آئندہ الیکشن میں مقابلہ تینوں جماعتوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا خاص طور پر پی ٹی آئی کے چار یا پانچ سال۔ ایمپائر کا رول ہر میچ میں اہم ترین ہوتا ہے اس بار بھی ہوگا کیونکہ کوئی میچ بھی بنا ایمپائر نہیں ہوتا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker