اختصارئےلکھاریمحمود احمد چودھری

اقتدار کا نشہ اور تبدیل پاکستان میں تبدیلی کی دعائیں ۔۔ محمود احمد چوہدری

ویسے تو نشہ کی اصطلاح صرف منشیات کے استعمال پر لاگو ہوتی ہے مگر منشیات
کے علاوہ دیگر کئی نشے ہیں ۔ منشیات کا نشہ صرف اس کو استعمال کرنے والے کو
متاثر کرتا ہے جبکہ دیگر نشوں سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ ان
نشوں میں خود پرستی کا نشہ ،انا کا نشہ،دولت کا نشہ، جوانی کا نشہ، عقل و دانش کا نشہ، خوبصورتی کا نشہ وغیرہ شامل ہیں ۔ مگر ان میں اقتدار کا نشہ سب سے برا ہوتا ہے جو نہ صرف پورے معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے بلکہ قوموں کے نام و نشان تک مٹا دیتا ہے ۔یہ سر چڑھ کر بولتا ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ہمارے شریف برادران 30-35سال بلا شرکت غیر ے اقتدار کے نشہ میں مدہوش رہے اس سے پہلے زرداری صاحب اور ایک لمبی فہرست ہے جو اس لت میں مبتلا تھے ۔ آج کل سب عدالتوں کے چکر لگا لگا کر اور پیشیاں بھگت بھگت کر یہ نشہ اتار رہے ہیں ۔ ماضی کی طرح
موجودہ حکمران اور ان کے حواری بھی اقتدار کے نشہ کی لت میں مبتلا نظر
آتے ہیں ۔
سب سے پہلے زبانی احکامات پر ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ ،قبضہ مافیا کے مبینہ سرغنہ منشا بم کی سفارشیں ، آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے احکامات اس نشہ کی ہی علامات تھیں وڈیرا شاہی ،جاگیر داری کی ،زنجیریں توڑ کر وزیر مملکت کے عہدے پر فائز ہونے والی زرتاج گل کا بی ایم پی چیک پوسٹ جا کر ملازمین کو لائن میں کھڑا کرکے خود کرسی پر براجمان ہونا بھی اسی نشہ کی واضع علامت ہے اب سنا ہے کہ ہمارے شعبہ صحافت سے سیاست میں آنیوالی محترمہ شیریں مزاری کی بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں موصوفہ خود کرسی پر براجمان ہیں اور مرد حضرات ان کے ارد گرد کھڑے ہیں قبل ازیں لاہور میں رکن صوبائی اسمبلی محمود الرشید کے بیٹے کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں سے بد تمیزی اور پٹائی کا چرچا بھی زبان زد عام رہا۔ کہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پروٹوکول لینے 50-50لاکھ کا ناشتہ کرنے کی افواہیں سر گرم ہیں تو کہیں گورنر سندھ عمران اسماعیل کے دورہ تھل کے موقع پر ریڈ کارپٹ پروٹوکول لینے کا چرچہ ہے ۔چیئرمین ایم ڈی اے ملتان کی جانب سے اپنی تصاویر والے کیلنڈروں کا اجرا یہ سب اقتدار کے نشے ہیں جو ہمارے سادگی پسند اور کفایت شعار وزیراعظم کیلئے باعث بدنامی اور شرمندگی بن رہے ہیں اس طرح کچھ حکومتی ترجمانوں کی زبان بھی اقتدار کے نشہ میں مبتلا ہے وہ معاملات کو سدھارنے کی بجائے الجھا رہے ہیں وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر اپنے ارکان پارلیمنٹ کو صرف اور صرف ضابطہ اخلاق کا درس دیں کہ کس نے کیا کرنا ہے اور کیا بولنا ہے ورنہ اگر صورتحال یہی رہی تو پھر عوام تبدیلی میں بھی تبدیلی لانے کی دعا کریں گے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker