اختصارئےلکھاریمحمود احمد چودھری

بلاول پیر پگارا کا ہے ؟ ۔۔ محمود احمد چوہدری

مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی جاتی امراء (رائے ونڈ) میں ملاقات ہوگئی ۔ ملاقات میں حکومت کیخلاف احتجاج کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا گیا اور متحد ہو کر چلنے پر اتفاق ہوا یہ ان دونوں کی دوسری ملاقات تھی اس سے پہلے مریم نواز افطار ڈنر پر بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کر چکی ہیں ، یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب دونوں کے ابا جی جیل میں ہیں ایک پر منی لانڈرنگ اور دوسرے پر غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک اثاثے بنانے کا الزام ہے ۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کی سیاست ماضی میں ایک دوسرے کی مخالفت پر قائم رہی اور دونوں جماعتوں کو ووٹ بھی ایک دوسرے کے مخالف ملے ہمیشہ دونوں جماعتیں ہر سیاسی میدان میں ایک دوسرے کی حریف رہی ہیں مگر سیاست اور وقت دونوں بہت بے رحم ہوتے ہیں نجانے کب اور کس وقت حالات پلٹا کھا جائیں اور ایک دوسرے کے حریف ایک دوسرے کے حلیف بن جائیں۔
بظاہر یہ ملاقاتیں حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں نظر آتی ہیں مگر بادی النظر میں یہ دونوں اپنی اپنی بقاء کی سیاسی جنگ لڑ رہے ہیں تاکہ ملکی سیاست میں بھٹو اور نواز فیکٹر قائم رہے اور آگے جا کر کسی موقع پر دونوں میں سے ایک یا پھر باری باری اقتدار کا حصہ بن سکیں ۔ ان ملاقاتوں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا ۔ ہوسکتا ہے ماضی میں دونوں جماعتیں اپنا نام بھی تبدیل کر لیں اور دونوں لیڈر ”پاکستان پیپلز مسلم لیگ ”کے پلیٹ فارم سے سیاست کریں کیونکہ مجھے بڑے پیر صاحب آف پگارا کی وہ پیشن گوئی یاد آرہی ہے جو انہوں نے بلاول کی پیدائش پر کی تھی کہ بلاول ہمارا ہے اور ایک دن وہ ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker