رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم ۔۔پاک شر زمین پر تنہا عورت کو نوچتے آٹھ سو ہاتھ

بہت سے سوالات اٹھا دیے جاتے ہیں‌جب کوئی لڑکی یا عورت اس نامرد معاشرے کی مردانگی کا شکار ہوتی ہے ۔ ان حالات میں اصل معاملے تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اس بیمار ذہنیت والے سماج میں معاملات کو الجھا کر اصل جرم پر پردہ ڈال دینا بھی عام سی بات ہے ۔ کل سے ٹرینڈ چل رہے ہیں جن میں ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کے ساتھ بد سلوکی کو” سرعام“ کی ٹیم کی ملی بھگت قرار دے کر بھیڑ چال کا شکار بھیڑیوں کو کسی اور بحث میں الجھا دیا گیا بالکل اسی طرح جیسا نور مقدم کیس میں ہوا اور جیسا عثمان مرزا کیس اوردیگر بہت سے معاملات میں‌ ہوا ۔
اقرار الحسن جرائم کا پروگرام کرتے ہیں اور یقینی طور پر وہ داد رسی سے زیادہ اپنی ریٹنگ کے لیے عائشہ کے گھر گئے ہوں گے ۔ لیکن ان کے اپنے پروگرام چونکہ طے شدہ ہوتے ہیں اس لیے ان کی اشک شوئی نے اصل واقعے کو بھی مشکوک بنا دیا ۔۔ داتا کی نگری میں داتا دربار سے کچھ فاصلے پر مصور پاکستان سے منسوب گریٹر اقبال پارک میں محرم الحرام کے مہینے میں کیسا جشن آزادی منایا گیا یہ ہم سب دیکھ بھی چکے اور اس المیے میں چسکا بھی تلاش کر چکے ۔۔۔ اک ہجوم تھا جس نے عائشہ اکرام کو اسی طرح زندہ درگور کیا جیسا ایک ہجوم نے مشعال خان کے ساتھ کیا تھا ۔ اس دھماچوکڑی میں اس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مذہبی اجتماعات اور تقریبات میں بھی بے پناہ ہجوم ہوتا ہےآخر ”ہجوم“ کی نفسیات کیوں تبدیل نہیں ہو سکی ۔۔ ہجوم جو عورتوں کی جانب رال ٹپکاتے کتوں کی طرح لپکتا ہے اور پھر انہیں بھنبھوڑتا ہے ۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہاں علماء کے خطبے اور ذاکرین کی مجالس لوگوں کو اخلاقی پستی سے کیوں‌نہیں نکال پائیں ؟ شاید اس لیے کہ طارق جمیل جیسے مقبول مولوی اب خطبے بھی چسکے والے دیتے ہیں اور ہونٹوں پر زبان پھیر کر حوروں کے قصے سناتے ہیں ؟۔۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ہمارے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار صاحب کے دور میں مردہ دلان لاہور نے کئی گھنٹے تک ایک خاتون کی تذلیل کی تو وزیر اعلیٰ کی چوکس پولیس مدد کو کیوں نہ پہنچی ؟
خاتون ٹک ٹاکر نے بتایا کہ ہجوم دو ڈھائی گھنٹے تک انہیں ہراساں کرتا رہا، پولیس کو 2 سے 3 بار کال کی، تیسری بار کہا پلیز ہیلپ ،لیکن کوئی جواب نہیں ملا ۔اور اگر بزدار نگری میں صوبائی دارالحکومت کی پولیس ایسی مستعد ہے تو دور افتادہ علاقوں میں صورت حال کیسی خوفناک ہو گی ؟ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
ایک اور سوال سامنے کا ہے مگر کوئی نہیں پوچھ رہا کہ پولیس کو جب وقوعے کا 14 اگست کو ہی علم ہو گیا تھا تو پھر مقدمہ تین روز کی تاخیر سے کیوں درج کیا گیا ؟ کیا پولیس کو ویڈیو وائرل ہونے پر مجبوراً مقدمہ درج کرنا پڑا ؟ اور اگر مجبوری میں میڈیا کے دباؤ پر مقدمہ درج کیا گیا تو کیا سنجیدگی سے ملزمان پر گرفت بھی ممکن ہو گی ؟
وقوعے کی ایف آئی آر چارسو نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہے جن کے آٹھ سو ہاتھوں نے عائشہ کی تذلیل کی اور ہماری ڈیجیٹل پولیس سنا ہے ویڈیو کے ذریعے نادرا کی مدد سے پورے لاہور اور گردو نواح سے ”نادار ‘‘ ملزمان کی تلاش میں ہے اور اس نے کچھ لوگ تو حراست میں بھی لے لیے ہیں جس کے بعد اب ہمیں پولیس مقابلوں کا بھی منتظر رہنا چاہیے کہ مقدمے سے جان چھڑانے کے لیے فی زمانہ فوری انصاف کی یہی ایک صورت رہ گئی ہے ۔
ہمارے وسیب کی شان عثمان بزدار صاحب نے کپتان کی ہدایت پر آئی جی پولیس سے جو رپورٹ طلب کی تھی وہ انہیں پیش بھی کر دی گئی ۔ تاہم ابھی تک کسی کی کوتاہی پر کوئی کارروائی عمل میں‌آئی نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔ خواتین کے لباس کو ان کے خلاف جرائم کی وجہ قرار دینے والے بھی اس معاملے پر خاموش ہیں تاہم ہمیشہ کی طرح ان کی جانب سے اس واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور آپ جانتے ہیں‌وہ جس واقعے کا نوٹس لے لیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے ۔
ایف آئی آر میں کئی جھول دانستہ چھوڑ دیے گئے ہیں ۔ نہ یہ ذکر کہ معاملہ کیسے شروع ہوا اور پھر کیسے اس لڑکی کو بھیڑیوں سے نجات ملی ۔ نہ ویڈٍیو کا ذکر جو اس کیس کا بنیادی ثبوت ہے اور نہ ہی کسی میڈیکل رپورٹ کا حوالہ جو ایسے مقدمات میں ضروری ہوتی ہے ۔
بات تلخ ضرور ہے لیکن یقین جانیں کہ جس ملک میں عورت کفن میں بھی محفوظ نہیں جس ملک میں عورت موٹر وے پر ریپ ہوتی ہے ۔ جہاں سانحہ ساہیوال کے ملزمان ترقی پاتے ہیں اور جہاں قاتلوں اور ظالموں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا میرا تو جی چاہتا ہے اسے پاک سرزمین کی بجائے پاک شرزمین بنانے والوں کو ۔۔۔ کیا کہوں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔۔ وہ تو بہت طاقت ور ہیں ۔۔۔

رضی الدین رضی

انیس اگست دو ہزار اکیس

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker