یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کورونا کی وباء مقبوضہ کشمیر کے کسی مظلوم کی آہ ہو جو پوری دنیا پر تقسیم کردی گئی ہو۔ تمام تر تنازعات کے باوجود دنیا کورونا کی وباء سے عملی طور پر شدید پریشان ہے اور لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم لوگوں کو جبری لاک ڈاؤن پر مجبور کیا گیا۔ ان کی معاشی زندگی کا بد ترین استحصال کیا جا رہا ہے، جبر ، تشدد اور دہشت گردی کے نئے ریکارڈ بنائے جا رہے ہیں۔ مسلح فوجی اور RSS کے غنڈے گھروں میں گھس کر بےگناہ نوجوانوں کا قتل عام، عورتوں کی عصمت دری ، بزرگوں پر تشدد ، کر رہے ہیں۔ یہ مظلوم کشمیری زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں، یہاں تک کے علاج معالجہ کی سہولت تک میسر نہیں لوگ گھروں میں کسم پرسی کی حالت میں مر رہے ہیں، اور دنیا خاموش ہے، نہتے لوگوں پر کھلے عام گولیاں برسائی جا رہی ہیں، کاروبار کو آگ لگا ئی جا رہی ہے، یہ سب کچھ معمول کی بات ہے ، کشمیری بدترین حالات کا شکار دنیا کی طرف مدد کی آس میں دیکھ رہے ہیں مگر کوئی نہیں جو ان کی داد رسی کو آئے۔
بڑے بڑے انسانی حقوق کے چیمپئن خاموش ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ بھارت کشمیر میں بد ترین جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے مگر جانے کونسی مصلحت آڑے آ رہی ہے کہ عالمی برادری کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے بھارت کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنی مسلح افواج اور RSS کے غنڈوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں نہتے لوگوں کے ساتھ درندگی کا وہ کھیل کھیل رہا ہے جو تاتاریوں کے وحشی پن کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
یوں تو بھارت اپنی اقلیت دشمن پالیسی کی وجہ سے اب دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے۔ اور موجودہ بی جے پی حکومت نے تو پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم اور ان کی کابینہ خاص اقلیت دشمن روش پر کار فرما ہیں، اور جو بھی اس راہ پر چلتا ہے اس کی پوری مدد بھی کرتے ہیں، پولیس، فوج اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خاص طور پر RSS کے غنڈے اقلیت دشمنی اور خاص کر مسلم دشمنی میں تمام حدیں پار کرچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے بھارت غیر ہندو لوگوں کیلئے ایک عقوبت خانے کی شکل اختیار کر گیا ہے ، جہاں ان کی جان ، مال، عزت آبرو کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔
چند بین القوامی جریدے اب اس بات کا کھلے عام اظہار کرنے لگے ہیں کہ بھارت میں مذہبی آزادی گذشتہ سال کی بہ نسبت اس سال بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور اس کی وجہ نریندرا مودی کی وہ اقلیت دشمن حکمت عملی ہیں جن کے ذریعے انہوں نے خاص طور پر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف مہم چلانے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔
اسی جریدے نے ایک کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا ہے اور تجویز کیا ہے کہ ان وجوہات کی بنیاد پر بھارت کو اقلیتوں کے لئے ملک برائے خاص تشویشناک صورتحال قرار دیا جائے۔ جریدے نے یہ بھی آشکار کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اور ان کی نائب بدترین قانونی بے قاعدگیوں میں ملوث ہیں جس کے ذریعے اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کا بدترین معاشی و سماجی استحصال کیا جا رہا ہے، اس کی مثال حال ہی میں متعارف کرایا گیا شہریت کا قانون ہے ، جو نہایت ہی پریشان کن اور چونکا دینے والا ہے جس کی رو سے چھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اگر بھارتی شہریت کے حصول لئے درخواست دیں تو فوری بھارتی شہریت کے حقدار ہوں گے مگر مسلمان نہیں۔ یہاں تک کے جو مسلمان صدیوں سے بھارت میں رہ رہے ہیں وہ بھی اب یا تو نکالے جائیں گے یا پھر مہاجر کیمپ منتقل کئے جائیں گے۔
حد تو یہ ہے کہ کسی بھی حکومتی اہلکار اور ذمہ دار میں اتنی سی بھی بردباری اور تمیز نہیں کہ وہ کچھ تکلف سے ہی کام لے لیں ، وہ اسلام دشمنی اور مسلمان دشمنی میں اس حد تک گر چکے ہیں کہ اب وہ کسی بھی گھٹیا سے گھٹیا حرکت کرنے سے نہیں چوکتے۔ جس کی زندہ مثال حکومتی وزیروں کے وہ بیانات ہیں جس میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ مسلمان سبزی فروشوں اور دودھ فروشوں سے سامان نہ خریدا جائے، کہ یہ کرونا پھیلانے کا سبب ہیں۔ اس طرح کی زبردست مہم سازی کی جارہی ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کا سماجی اور معاشی استحصال کیا جا رہا ہے، جبر اور جسمانی تشدد اس کے علاوہ ہے۔
اس کے باوجود کہ مسلمان بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیں مگر پھر بھی وہ عموماً دائیں بازو ہندو قوم پرستوں کے پرتشدد حملوں کا شکار رہتے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد یہ پر تشدد حملے اور زیادہ منظم اور خطرناک ہوگئے ہیں کیونکہ اب نہیں حکومتی اجازت اور سرپرستی بھی حاصل ہے۔
بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک اور حادثات کی شنوائی کرنے والا کوئی نہیں ان کی جان، مال سب داؤ پر لگے ہوئے ہیں، ان کو زندہ جلادیا جاتا ہے، اگر مسلمان ہے تو معاملہ اور سنگین ہو جاتا ہے رات رات بھر سرعام باندھ کر بدترین تشدد کیا جا تا ہے ویڈیوز بنائی جاتی ہیں ان کو فخریہ اپلوڈ کیا جاتا ہے، انصاری نام کے نوجوان کو صرف شبہ کی بنیاد پر پورے گاؤں نے مل کر رات بھر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ اسی طرح صرف شبہ کی بنیاد پر دو مسلمان نوجوانو ں کو گائے کا گوبر کھانے اور پیشاب پینے پر سرعام مجبور کیا گیا۔ بھارتی مسلمان اس انسانیت سوز سلوک کا مسلسل شکار ہیں، مگر نہ انصاف ہے نہ حالات میں سدھار کی کوئی امید۔
موجودہ حکومت پاکستان مختلف پلیٹ فارمز پر کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کے حق کی بات کر رہی ہے مگر اکیلا پاکستان کچھ بھی نہیں کر سکتا، جب تک سارے اسلامی ممالک مل کر اس مہم کو نہیں چلائیں گے۔ مسلمان ممالک خاص کر عرب ممالک صرف اتنا کریں کہ بھارتی ہندو کام کرنے والوں کو واپس بھارت بھیج دیں اور آئندہ تب تک نہ آنے دیں جب تک بھارت میں مسلمانو ں اور دوسری اقلیتوں کے حالات ٹھیک نہیں ہوجاتے۔ ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مل کر ایسی مہم سازی کی جائے جو بھارت مین اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے دگرگوں حالات کو اجاگر کر سکے ، ان اقدامات کے ذریعے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا جائے، ہمین یقین ہے کہ باقی دنیا ان تمام حالات سے بخوبی واقف ہے مگر مصلحتاً یا بھارتی دباؤ کی وجہ سے خاموش ہیں، اگر تمام مسلم ممالک مل کر حکمت عملی طے کریں اور دنیا بھر کے ممالک کو اس مہم میں شامل کریں ، تو ممکن ہے کہ بھارتی حکومت پر کچھ دباؤ بنے اور وہ اپنی اوچھی حرکتوں سے باز آجائے اور بھارت میں اقلیت چین کا سانس لے سکیں۔
فیس بک کمینٹ

