لاہور: پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرتے ہوئے شاپنگ مالز کھولنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق ٹرانسپورٹ کی بندش سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور مجبوری کے باعث عوام مہنگے داموں کی پرائیویٹ گاڑیاں استمعال کر رہے ہیں لہٰذا ٹرانسپورٹ شعبہ کو ریلیف کے لیے اجازت ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں ٹرانسپورٹ اور شاپنگ مالز کھولنے کی منظوری دے دی۔عثمان بزدار نے ٹرانسپورٹ کے لیے ایس او پیز بھی طلب کرلیے ہیں جنہیں حتمی شکل دینے کے لیے آج ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اجلاس طلب کیا گیا ہے، اجلاس کے بعد پنجاب حکومت ایس او پیز اور اپنے اقدامات سے وفاقی حکومت کو آگاہ کرے گی۔
ذرائع کے مطابق شہر کے اندر اور ایک سے دوسرے شہر کے لیے ٹرانسپورٹ کی اجازت دی جائےگی۔
وزیر تجارت پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پیر سے شاپنگ مالز اور آٹو موبائل انڈسٹری کو اجازت دےدی جائے گی، حکومت نے آٹو موبائل انڈسٹری کے پیداواری یونٹس کو بھی کام کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، متعلقہ شعبوں کے ساتھ ایس او پیز کو حتمی شکل دےدی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ شاپنگ مالزکے اوقات کار کا بھی تعین کردیا گیا ہے، مالز میں ایس او پیز کا سختی سے نفاذ ہوگا، مالز میں تھرمل گن سے چیکنگ، ہینڈ سینٹی ٹائز اور ماسک کا استعمال یقینی بنایاجائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ آٹو موبائل انڈسٹر ی پیداواری یونٹس کو ہفتے میں 7 دن کام کی اجازت کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ آٹو انڈسٹری شو رومز کو ہفتے میں 4 دن کام کی اجازت ہوگی۔واضح رہےکہ ملک بھر میں 9 مئی سے لاک ڈاؤن مرحلہ وار نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد چھوٹی مارکیٹوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی جب کہ اس دوران جمعہ، ہفتہ اور اتوار مکمل لاک ڈاؤن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت ہفتے کے تین روز کاروبار مکمل بند رہیں گے۔
ادھر پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق صوبے میں 356 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 13914 ہو گئی۔ان میں سب سے زیادہ 168 متاثرین لاہور میں سامنے آئے ہیں۔کورونا وائرس سے اب تک صوبے میں کل 234 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 4720 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

