اس میں شک نہیں کہ پاک فوج ہر کڑے اور برے وقت میں وطنِ عزیز کی جغرافیائی سرحدوں ہی کی نہیں ،نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی نبھاتی رہی ہے ۔اندرونی ،بیرونی خطرات سے نبرد آزما ہوتی رہی ہے ،فوج کے نوجوان آئے روز ایثارو قربانی کی نت نئی تاریخ رقم کرتے رہے ہیں اور تادم تحریر اس سلسلے میں کوئی کمی نہیں آئی۔
انڈیا جس نے ستر سال سے زائد عرصہ بیت جانے کے باوجود بھی پاکستان کے وجود کو صمیم قلب سے تسلیم نہیں کیا ،اِس پر دو بڑی جنگیں مسلط کرنے کے ساتھ اسے ہمیشہ جنگی صورت حال میں مبتلا رکھا ،آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ سرحدوں پر تشدد کے واقعات رونما نہ ہوئے ہوں ،ہمارے فوجی جوان تو کیا شہری آبادیاں اور مضافات ہمیشہ خطرے کی زد میں رہے رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں روا رکھی جانے والی سفاکیت اور بہیمیت ایک طرف ،پاک سرحدوں سے متصل کوئی بھی شہر یا گاؤں ایسا نہیں جس کے باسی سکون کی نیند سوتے ہوں ،اس ساری صورت حال کا مقابلہ اکیلی فوج کر رہی ہے اور کسی بھی موقع پر فوج نے قومی ہزیمت کا سامان پیدا نہیں ہونے دیا بلکہ ہر قدم پر عزیمت کی داستان رقم کرتی رہی ہے۔
ان تمام قربانیوں اور جاں فروشیوں کے باوجود بعض حوالوں سے پاک فوج پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے ،خصوصاََ دفاعی بجٹ پر ہر سال بہت ہوہکار مچائی جاتی ہے اور بعض حلقے تو بہت ہی تندو تیز لہجے میں فوج کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ،ان میں کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے حصول کی خاطر ایسا کرتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو ملکی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر حب الوطنی کے احساس کی نیت سے غم و غصے یا برہمی کا اظہار کرتے ہیں ۔
دراصل معاملہ تنقید و توبیخ کا نہیں بلکہ بے اعتدالی اور غیر متوازن فیصلوں کا ہے ،جن کی وجہ سے سے چھوٹے منہ بھی بڑی باتیں کرنے پر تُل جاتے ہیں اور ان پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔
تحریک انصاف کی حکومت کا المیہ یہ ہے کہ دوسال کے لگ بھگ عرصہ میں ملکی معیشت کا پہیہ چلانا تو کجا اسے خاص جنبش دینے میں بھی بظاہربے نیل ومرام رہی ہے،یہ مہنگائی و بے روزگاری پر قابو پانے کی بجائے اسے بدحالی کی راہ پر گامزن کئے ہوئے لگتی ہے ۔
گزشتہ سال پاک فوج نے ملکی معیشت کے استحکام کے لئے خاطر خواہ دفاعی بجٹ لینے سے احتراز کیا ،مقصد یہ تھا کہ نئی نویلی حکومت کو اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا موقع فراہم کیا جائے ،مگر پاک فوج کی یہ قربانی اور عمران حکومت کے ساتھ ہم آہنگی سراسر کام نہ آئی اور ملکی معیشت کا پہیہ ترقیءمعکوس کی حالت میں گھومتا رہا ۔اسد عمر کی ساری کاوشیں بےسود ٹھہریں اور وہ اپنی ناکامی کے اعتراف میں اپنی وزارت سے الگ ہوگئے ۔
نئے آنے والے معاون ِخصوصی برائے معاشی ترقی ایک انتہائی تجربہ کار اور کئی حکومتوں کی کامیاب معاشی پالیسیز کا سہراباندھے بڑی سج دھج سے فروکش تو ہوئے ،مگر کارکردگی دکھانا ابھی باقی ہے ،جو صفر بھی رہی تو ارمان نہ ہو گا کہ کرونا کی ناگہانی آفت کا حوالہ کافی ہے ۔تاہم یہ امر قابل حیرت ہے کہ ان نا گفتہ بہ حالات میں فوج کی تنخواہوں کی مد میں 64 بلین کے لگ بھگ بجٹ دینے کی منظوری کا فیصلہ زیرِ غور ہے ۔بریگیڈیئر سطح تک کے افسران کی تنخواہ میں پانچ فیصد اضافہ کیا جانے کا امکان ہے ،جبکہ ان سے نیچے کے افسران کی تنخوہوں میں 10فیصد اور فوجی جوانوں کی تنخواہ میں 20فیصد اضافے کی سُنائی ہے ۔
اس طرح غیر ذمہ دارانہ نکتہ چینی کرنے والے حلقوں کو آسمان سر پر اٹھانے کا موقع مل جائے گا ،( دیگر سرکاری محکموں اور پینشن یافتہ ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کی خبرکے حوالے سے ان میں پائی جانے والی مایوسی کے ازالے کی امید پیدا ہوئی ہے )فوج کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے پھر انگلیاں اٹھیں گی،بھد اڑے گی،بھانت بھانت کی بولیاں بولی جائیں گی ،حرف و صوت کی منڈی میں ہمارے یہاں کھوٹا کھرا کوئی نہیں دیکھتا ،بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون زیادہ دیر تک چِلّا سکتا ہے ۔
فیس بک کمینٹ

