Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, اپریل 28, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
  • اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
  • ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی
  • ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس میں قاتلانہ حملہ : بال بال بچ گئے
  • امن معاہدہ کس کی مجبوری ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • اندھیر نگری چوپٹ راج : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی : وجاہت مسعود کا کالم
  • ایران امریکہ مذاکرات ۔۔ برف ابھی پگھلی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی
  • عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»زاہد حسین گردیزی»سید زاہد حسین گردیزی کی یادیں :جاگیرداروں کاکھیل اور سرخے مولوی کی مزاحمت ( مکمل کالم )
زاہد حسین گردیزی

سید زاہد حسین گردیزی کی یادیں :جاگیرداروں کاکھیل اور سرخے مولوی کی مزاحمت ( مکمل کالم )

ایڈیٹرجون 4, 202332 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
bhashani
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

پاکستان کو برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد( جسے ”عظیم تقسیم“ کا نام بھی دیا گیا مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو دوبارہ آباد کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ لیکن پاکستان کی جاگیردار قیادت نے پہلے دن سےہی اپنا کھیل شروع کر دیا ۔ انہیں ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی اور اقتدار پر قابض ہونے کی جلدی تھی کیونکہ آزادی کے ایک سال کے اندر ہی بابائے قوم کا انتقال ہوگیا تھا۔ پاکستان میں مفاد پرست قوتیں اپنے استعماری آقاؤں کے کہنے پر ایک ایسی سوچ پیدا کرنے کے لیے صف آراء ہوئیں جو آج تک موجود ہے۔
حکمران جماعت کی دائیں بازو کی سازشوں کی بدولت جلد ہی آزاد خودمختار پاکستان امریکہ کی سرپرستی میں تشکیل پانے والے بغداد معاہدہ یا سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (CENTO) اور جنوب مشرقی ایشیائی ٹریٹی آرگنائزیشن (SEATO) میں شامل ہو کر سامراجی طاقتوں کا آلہ کار بن گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کی پاکستان کی غیروابستہ حیثیت مجروح ہوئی اور ملک کو مغربی سامراج کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس سارے عمل کو ایلیٹ کلاس اور سول، ملٹری بیوروکریسی کی پشت پناہی حاصل تھی جو اس کے ذریعے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی تکمیل چاہتے تھے ۔
سینٹو اور سیٹو میں شمولیت کا فیصلہ عوامی لیگ کی حکومت نے کیا تھا، جس کی قیادت حسین شہید سہروردی کر رہے تھے ، عوامی لیگ کے منشور کو مسترد کرتے ہوئے مولانا بھاشانی نے جو ، عوامی لیگ کے شریک بانی اور بانی صدر تھے اس فیصلے کی مخالفت کرنے اور NAP کی تشکیل کے لیے اپنی جماعت سے الگ ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
پاکستان کے سچے محب وطن ایک ایسے شخص کی قیادت میں جدوجہد کے لیے متحد ہو گئے جسے ”سرخا مولوی “ (سرخ مولانا) کہا جاتا ہے اور جس نے اپنے سیاسی دوروں کے لیے مغربی پاکستان میں آتے ہی اکثر جلاؤ گھیراؤ کا نعرہ بلند کیا۔
عوامی فیصلے کو مسترد کرنے کی سازش نے ایک سیاسی بحران کو جنم دیا جس کے نتیجے میں ہمارے بنگالی بھائیوں، سابقہ ​​مشرقی پاکستانیوں کا نقصان ہوا۔ ایک ایسا نقصان جس کی ہم عام پاکستانی ابھی تک تلافی نہیں کر سکے۔ ہمارے دل بنگلہ دیش اور پاکستان کے مظلوموں کے دکھوں کے لیے ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور اس بات سے قطع نظر کہ ہم کہاں ہیں اور سیاسی طور پر کیسے بھی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ انسانیت آگے بڑھتی رہے گی اور ان سے متاثر ہو کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتی رہے گی۔ مولانا بھاشانی خاص طور پر ان لوگوں کی آواز تھے جنہوں نے ایک منصفانہ معاشرے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور کرتے رہیں گے۔
مولانا بھاشانی وہ واحد سیاسی رہنما ہیں جنہیں پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کے جدوجہد کرنے والے عوام کی طرف سے یادکیا جاتا ہے اور احترام دیا جاتا ہے – مولانا، ان دونوں ممالک کے عام لوگوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے مظلوموں کے لیے ایک تحریک اور ظالموں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حکمران اشرافیہ آج بھی ان کے نام سے لرزتی ہے ۔
1965ءکے صدارتی انتخابات میں مولانا بھاشانی نے ایوب خان کے مقابلے کے لیے محترمہ فاطمہ جناح کا صدارتی امیدوار کی حیثیت سے انتخاب کیا۔ جب انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں بحال ہوئیں تو اپوزیشن جماعتوں نے کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیزکے نام سے بحالی جمہوریت کے لیے اتحاد قائم کرلیا۔ نواب آف کالا باغ اس وقت مغربی پاکستان کے گورنرتھے۔ ان کاجاگیردار طبقے سے تعلق تھا اوروہ جانتے تھے کہ کس طرح طاقت کے زور پر مخالفوں کو ایوب خان کے حق میں لایاجاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے قابل اعتماد ڈپٹی کمشنروں اور پولیس سربراہان کے ذریعے فاطمہ جناح کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کو ایوب خان کی حمایت میں تبدیل کروادیا۔ مولانا بھاشانی قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت اور فوجی ڈکیٹیر کے خلاف مہم چلاتے رہے۔ سندھ اور پنجاب کی جاگیردار سیاسی قیادت نے سیاسی دباﺅ کے آگے ہتھیار ڈال دیئے لیکن مولانا بھاشانی اور ان کے ساتھی جنوبی پنجاب میں بھرپور طریقے سے اپنے موقف پر ڈٹے رہے اورانہوں نے اس کی قیمت بھی ادا کی۔ بھاشانی صاحب نے نہ صرف یہ کہ محترمہ فاطمہ جناح کو امیدوار نامزد کیا بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ نیپ اپوزیشن کے صدارتی امیدوار کے لیے کسی اور نام پر رضا مند نہیں ہوگی۔ اگرچہ بہت سے لوگوں نے صدارت امیدوار کے طورپرلیفٹیننٹ جنرل اعظم خان کی بھی حمایت کی جو عوام میں اچھی نظر سے دیکھے جاتے تھے خاص طورپر مشرقی پاکستان کے گورنر کی حیثیت سے ان کا عوام دوست رویہ قابل تحسین تھا۔بالآخر اپوزیشن جماعتوں کااتحاد محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت پرآمادہ ہوگیا اور ان کی کامیابی کے لیے انتھک کوششیں شروع کردیں۔ فاطمہ جناح اور ایوب خان کی اس انتخابی مہم کے دوران نیپ مغربی پاکستان میں ایک مقبول عوامی جماعت کی حیثیت سے ابھری۔ اس وقت کامیڈیا یہ پیشگوئی کررہا تھا کہ فاطمہ جناح کوفوجی ڈکٹیٹر کے مقابلے میں واضح کامیابی حاصل ہوگی تاہم انتخابات کا یہ نتیجہ نہ نکلا ۔پس پردہ طاقتوں نے ایسا کھیل کھیلا کہ محترمہ فاطمہ جناح کو ”شکست “ ہوگئی۔اس موقع پر مولانا بھاشانی کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کردیاگیا۔ انہیں اوران کے ساتھیوں کو غدارقراردیاگیا۔بالآخر جاگیر دارطبقے کی طرف سے ایک حکمت عملی کے تحت نہ صرف یہ کہ مولانا بھاشانی اور ان کی جماعت کو ملک دشمن اورپاکستان مخالف قراردیاگیا بلکہ نیپ کی طرف سے جاری ترقی پسند سیاست اور اسلامی سوشلزم کے سیاسی وژن سے چھٹکارہ پانے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے گئے۔
اسی دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دی گئی جو اب بھی خود کو حقیقی ترقی پسند پارٹی کے طورپر پیش کرتی ہے لیکن درحقیقت پاکستانی عوام کی آزادی کے لیے حقیقی جدوجہد کو تقسیم کرتی ہے۔ایک ایسا مشن جس کی قیادت مولانا اوران کے پیروکاروں نے پاکستان میں بہت سچائی کے ساتھ کی تھی ۔اس پروپیگنڈے کے ذریعے اسے نقصان پہنچایاگیا۔
میرے والد سید قسور گردیزی کو ذوالفقارعلی بھٹو کے دورحکومت میں نام نہاد حیدرآباد سازش کیس کے تحت دوسرے سیاسی رہنماﺅں کے ہمراہ حراست میں لیاگیا اور من گھڑت لندن پلان کے تحت نیپ پر پابندی عائد کردی گئی۔پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اوراس کے سرمایہ داروں اورجاگیرداروں کی یہ ذہنیت ہے کہ ہم پیدائشی حکمران ہیں۔اس ذہنیت نے نفرت کوجنم دیا ۔اس طبقے نے خود کوملکی خودمختاری کے محافظ کے طورپر پیش کیا اور بالآٰخر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔اسٹیبلشمنٹ ،سرمایہ دار اور جاگیردار ترقی پسند قوتوں کے خلاف متحد ہوگئے اورنیپ اور بھاشانی صاحب کے پیروکاروںکے خلاف جارحانہ اقدامات شروع کردیئے گئے ۔ یہ وہ لوگ تھے جو ٹریڈ یونین سرگرمیوں کی حمایت کرتے تھے۔پوسٹل ورکرز یونین،ٹانگہ ایسوسی ایشن، مزدور انصاف یونین سمیت ہرشعبے میں ایسی ہی تنظیمیں قائم کرکے کارکنوں کو متحد کیاگیا۔ماضی میں نظرانداز کیے گئے کسانوں کو ان کے حقوق کے حصول کے لیے ایک پلیٹ فارم دیاگیا۔کسان کمیٹی قائم کی گئی جس میں سرخ پگڑیوں والے کاشتکاربے زمین کسانوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوگئے۔ اس سلسلے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عظیم الشان کسان کانفرنس منعقد ہوئی جہاں مولانا بھاشانی کی کوششوں سے ملک بھر سے کسانوں کاایک بہت بڑاہجوم جمع ہوگیا۔اس کانفرنس میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف ان کی تاریخی تقریر کو بہت اہمیت ملی اوروہ ایک کسان رہنماءکے طورپر بھی سامنے آگئے۔آج کے پاکستان میں مولانا بھاشانی کی اہمیت اس لیے زیادہ ہوگئی ہے کہ مجموعی طورپر یہاں غریب کو مختلف چینلجوں کا سامنا ہے۔ اس کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہوگئی ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 39.3فیصد ہے جو 2020ءمیں مزید پانچ فیصد بڑھ گئی۔ افراط زر میں اضافہ ہورہا ہے جو عام آدمی کوغربت اور غریبوں کو انتہائی غربت اورمفلسی کی طرف دھکیل رہی ہے۔غربت کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حکمران غریبوں کے مسائل اور مصائب کو جنم دینے والے عوامل یعنی ادارہ جاتی مسائل سے کسی حد تک لاتعلق ہیں۔یہ کہنابھی غلط نہ ہوگا کہ حکومتی پالیسیاں بیوروکریسی کے تسلط ،امریکہ پر انحصار ،علاقائی عدم توازن اور حد سے زیادہ مرکزیت کو فروغ دے رہی ہیں۔ عوام احتجاج کررہے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے ایک طویل جدوجہد کی تیاری میں ہیں۔ عزم اور امید کے ساتھ ساتھ ان کے حوصلے مضبوط ہیں لیکن انہیں ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی قیادت جو عوام کی طاقت کوصحیح سمت دے سکے لیکن افسوس کہ ہمارے قومی منظرنامے میں ایسی قیادت کا فقدان ہے۔مہنگائی اب اس سطح پر جاچکی ہے کہ تبدیلی کے لیے عوامی حمایت یافتہ قیادت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں 63فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے صرف 37فیصد لوگ نیم شہری اور شہری علاقوں میں رہتے ہیں جن میں دکاندار ،تاجر ،سرکاری ملازمین اور مزدور شامل ہیں۔ محنت کش طبقے کامسئلہ سرمایہ دار اور جاگیردار ہیں۔ جاگیرداری کی لعنت نے کسانوں کی زندگیوں میں انتہائی پریشان کن صورت حال پیدا کردی ہے۔ 70فیصد کاشتکار یا تو غریب ہیں یا اراضی سے محروم ہیں۔ 27فیصد کسانوں کاتعلق متوسط طبقے سے ہے۔ باقی تین فیصد کاشتکار کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔ حکومت کی زرعی پالیسی کی ناکامی کے باعث ہمیں خوراک کے شدید بحران کاسامنا ہے۔ زرعی نظام تباہ ہورہا ہے۔اس کے باوجود حکومت کے پاس بہتر کھاد ،بہتر بیج کے ساتھ ”زیادہ اناج اگاﺅ“ کے دلفریب نعرے ہیں۔ ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جو ملٹی نیشنل اداروں کے لیے سود مند ہوتی ہیں۔
کھاد اوربیج تیارکرنے والی کمپنیوں کے اقدامات درخت کوجڑ سے کاٹ کر اس کی شاخوں کو پانی دینے کے مترادف ہے۔ کسان زمین کے مالک نہیں ہیں ۔ان کے پاس ہل بھی نہیں اور اسی لیے حکومتی اقدامات پرعمل نہیں کرسکتے۔ حکومت خواہ کتنی ہی کوشش کرلے خوراک کی قلت بڑھتی جارہی ہے۔ بڑی مقدار میں اشیاءدرآمد ہورہی ہیں۔ہمارے ملک کو جو غیرملکی امداد ملتی ہے اس کا بڑاحصہ قرضوں کی ادائیگی کی صورت میں امریکی سامراج کے حوالے کردیاجاتا ہے۔ سامراج اورسرمایہ دار پاکستان کے غریب کسانوں کو لوٹ رہے ہیں ۔امریکی حکومت آج حملوں اورجنگوں کے بڑھتے اخراجات کی وجہ سے مالی مشکلات کاشکار ہے۔ امریکی سامراج دیگر ممالک کے کندھوں پر بم رکھ کر اپنے مالی مسائل حل کرنا چاہتاہے۔ پاکستان کی فوجی آمریت نے اسے اپنا کندھا پیش کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ نے کئی ممالک کی کرنسیوں کی قدر میں کمی کروادی۔پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث عوام بالخصوص کاشتکار پیداوار کی صحیح قیمت حاصل کرنے سے محروم ہیں۔آج زرعی شعبے میں قومی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عوامی راج کے لیے عوامی انقلاب اور قومی مسائل کاحل زرعی مسائل کے حل پر منحصر ہے۔ لوٹ مار کرنے والے مالکان سے مکمل طورپر جان چھڑانا ضروری ہوگیا ہے۔ یہ ایک ایسے پروگرام کے ذریعے ممکن ہے جس میں کاشتکارشامل ہوں ۔ضروری ہے کہ کاشتکاروں کو زمینیں دی جائیں ۔زرعی پیداوار پر ٹیکس کاخاتمہ کیاجائے اورزرعی پیداوار کی مناسب قیمت ادا کی جائے۔صنعتی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بھی ضروری ہے۔ پاکستان زرعی پیداوار برآمد کرتا ہے اور اشیائے ضروری اور ویلیو ایڈڈ زرعی پیداوار درآمد کرتا ہے۔ہم معاشی اور سیاسی طورپر بہت کمزور ہیں اور ہماری ترقی سامراجی مغرب کی امداد اور قرضوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے ہم امریکی سامراج کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ امریکہ امن ،آزادی ،جمہوریت اور ترقی کادشمن ہے اوردنیا کا سب سے ظالم سامراج ہے۔
پاکستان میں عوامی حکومت کے قیام کی جدوجہد دراصل سامراج سے آزادی اور جاگیرداری کے مکمل خاتمے کی جدوجہد ہے اور یہ جدوجہد متحدہ محاذ کی صورت میں ہی ہوسکتی ہے۔ متحدہ محاذ ان محنت کشوں ،کسانوں ،دانشور ،متوسط طبقے ،چھوٹے سرمایہ داروں اورقومی صنعتوں پرمشتمل ہوگا جو جاگیردارانہ زرعی نظام اورسامراجی استحصال کے خلاف ہیں۔ جدوجہد کی کامیابی کے لیے دوسری شرط محنت کش طبقے کی قیادت ہے کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جو اس جدوجہد کواستقامت کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے۔ تیسری لازمی شرط یہ ہے کہ کسان باشعور اورمنظم ہوں کیونکہ وہ اس جدوجہد کا محرک ہیں۔ انہیں آگاہ کرنا اور منظم کرنا طویل اورمشکل کام ہے لیکن یہ جدوجہد انہیں بیدار کیے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔جمہوریت پسندوں کے پاس دو ہی راستے ہیں یا سامراجیوں کی خاموش حمایت کریں یا سامراج مخالف طاقت میں شامل ہو کر حقیقی عوامی جمہوریت کی ترقی میں اپناتاریخی کردار ادا کریں۔ ہمیں ان میں سے ایک کاانتخاب کرناہوگا کیونکہ عوام کی سماجی اوراقتصادی ترقی کے لیے عوامی جمہوریہ کی تعمیر کے لیے کوئی تیسرا آپشن موجودنہیں۔ تاریخ کے تجربے نے ثابت کیا کہ ثقافتی انقلاب کے بغیر سماجی انقلاب ممکن نہیں۔ لہذا ہمارے دانشوروں اورسیاسی کارکنوں کافرض ہے کہ وہ سامراج کے ظلم اورجبر کوبے نقاب کریں ۔امریکی سامراج کی اصل نوعیت اور اس کی امداد کو واضح کریں۔ معاشی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی ممکن نہیں۔ یو ایس ایڈ کے ذریعے امریکی سامراج کی پاکستانی سیاست میں مداخلت کی بے شمارمثالیں موجودہیں۔ مثال کے طورپر 1963ءمیں جب پاکستان میں امریکی امداد کے خلاف ایک مضبوط متحدہ محاذ کھڑا ہوا تو امریکی سفیر نے مشرقی پاکستان جاکر اعلان کیا کہ امریکہ صرف مشرقی پاکستان کو امداد دینے کے لیے تیار ہے۔اس کا مقصد پاکستان میں تقسیم پیداکرناتھا۔
کشمیر کامسئلہ برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانوی سامراج نے اس لیے پیداکیاتھا تاکہ وہ خطے میں سازشیں جاری رکھ سکے اوراپنے سامراجی مفادات کو آگے بڑھا سکے۔ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے وقت متفقہ موقف یہ تھا کہ کشمیر کی حیثیت کا فیصلہ کشمیری عوام کے آزادانہ استصواب رائے کے بعد کیا جائے گا۔1949ءمیں اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا لیکن سامراجیوں کے اکسانے پر ہندوستانی قیادت نے ریفرنڈم کو ملتوی کردیا۔1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران عالمی مغربی میڈیا اورریڈیو دنیا کو تاثر دیتے رہے کہ پاکستانی افواج ہاررہی ہیں لیکن جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پاکستانی فوج نے عوام کی مدد اور چین اور انڈونیشیا کی کھلی امداد سے پانسہ پلٹ دیا ہے تو انہوں نے فوری جنگ بندی کی قرارداد منظور کرلی تاکہ بھارتی فوج مزید تباہی سے بچ جائے۔پاکستانی عوام اس وقت خطے میں چین کی حمایت کے ہمیشہ سے شکرگزار ہیں۔ یہ وضاحت غیر ضروری ہے کہ پاک چین تعلقات کی بنیاد مولانا بھاشانی نے رکھی اوراسی لیے وہ عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔اس وقت حکومت کاباگ ڈور صنعتی سرمایہ داروں، تاجروں ،جاگیرداروں اور افسر شاہی کے ہاتھ میں ہے۔ شہری آزادیوں کافقدان ہے اورتحریر وتقریر کی اجازت نہیں۔ ہمیں پاکستان میں نیپ اور اس کے بانی مولانا بھاشانی کے وژن کوزندہ رکھنا ہے ۔مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا احیاءکرنا ہے اوران کی معاشی ،سیاسی و سماجی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ ہم پہلے بھی عوامی جمہوریت کی تحریکوں میں شامل سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر متحدہ محاذ بناچکے ہیں ۔ایک محب وطن سیاسی جماعت کافرض ہے کہ وہ عوام کی معاشی و سیاسی آزادی کے لیے جدوجہد کرے ۔لوگوں کوتعلیم دینے اورذہنی غلامی سے مکمل نجات کے لیے قابل عمل طریقہ سوچنا انتہائی ضروری ہے۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

اے این پی بھاشانی
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleخالد مسعود خان کا کالم:بوڈاپسٹ میں کراچی کی گلیوں کی یاد
Next Article وسعت اللہ خان کا کالم :حضور بیٹھیں گے کہ لیٹیں گے؟
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اے این پی رہنما اور سابق سینیٹر الیاس احمد بلور انتقال کر گئے

نومبر 16, 2024

اے این پی کی باجوڑ سے صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں کامیابی

جولائی 11, 2024

مادر فروش بھاشانی نے چالیس لاکھ روپے لے کر محترمہ فاطمہ جناح کو ہروا دیا : حامد میر کا بلاگ

جولائی 11, 2024

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون اپریل 27, 2026
  • اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری اپریل 26, 2026
  • ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی اپریل 26, 2026
  • ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس میں قاتلانہ حملہ : بال بال بچ گئے اپریل 26, 2026
  • امن معاہدہ کس کی مجبوری ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 26, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.