کالملکھاریمبشر علی زیدی

ایک کراچی والا واشنگٹن میں / مبشر علی زیدی

کراچی میں رہنے والے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو زندگی میں کبھی کراچی سے باہر نہیں گئے۔ بلکہ انچولی میں رہنے والے ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ زندگی میں کبھی صدر بھی نہیں گئے۔ وہ ایک پلمبر تھے۔ ایک بلاک میں انھیں اتنا کام مل جاتا تھا کہ باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ کبھی بہت زیادہ کام نکل آیا تو واٹرپمپ تک چلے گئے جو ایک میل دور تھا۔
ایک تو کراچی بہت بڑا ہے، پھر یہ کہ دوسرے شہر اس سے کافی فاصلے پر ہیں۔ ابن انشا کے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ کراچی کے چاروں طرف بھی کراچی آباد ہے۔ کراچی کا ایریا اور میٹرو ایریا ایک ہی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کا رقبہ اڑسٹھ مربع میل اور آبادی سات لاکھ سے کچھ کم ہے۔ لیکن میٹرو ایریا کی آبادی ملاکر اکسٹھ لاکھ سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ واشنگٹن کے ایک طرف ریاست میری لینڈ ہے اور دوسری طرف ورجینیا۔ چنانچہ واشنگٹن کے میٹرو ایریا کی آبادی میں ان دونوں ریاستوں کے قریبی شہر اور کاؤنٹیز شامل ہیں۔
شہر کے لفظ سے دھوکا نہ کھائیں۔ ایک شہر کراچی ہے جس کے متعلق سرکاری اعدادوشمار مان لیے جائیں تو بھی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے۔ میں واشنگٹن کے جس مضافاتی شہر میں رہتا ہوں اس کی آبادی فقط چالیس ہزار ہے۔ اس میں نیشنل، سٹیزن، امیگرنٹس، پناہ گزیں اور ہمارے جیسے ورک ویزا والے غیر ملکی، سب شامل ہیں۔
لاکھوں لوگ قرب و جوار سے واشنگٹن میں کام کرنے آتے ہیں۔ واشنگٹن کی انتظامیہ ان سب کو سفر کی سہولتیں فراہم کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ چنانچہ واشنگٹن کی ٹرینیں صرف شہر میں نہیں چلتیں بلکہ میری لینڈ اور ورجینیا میں کافی دور تک جاتی ہیں۔
واشنگٹن میٹرو کے تحت چھ ٹرینیں چلتی ہیں۔ صرف ایک یعنی ریڈ لائن میری لینڈ سے واشنگٹن آتی ہے۔ باقی پانچ یعنی بلو، گرین، یلو، اورنج اور سلور ورجینیا سے واشنگٹن آتی ہیں۔
واشنگٹن شہر میں ٹرینیں زیر زمین چلتی ہیں لیکن ورجینیا میں زمین پر بلکہ بعض مقامات پر اونچے پلوں پر بھی گزرتی ہیں۔ یلو لائن کا پہلا اسٹیشن پانچ منزلیں بلند ہے۔
کام کے دنوں میں ٹرینیں صبح پانچ بجے چل پڑتی ہیں اور رات ساڑھے گیارہ بجے تک دوڑتی بھاگتی ہیں۔ رش کے اوقات میں ہر آٹھ منٹ، ورنہ ہر بارہ منٹ بعد نئی ٹرین مل جاتی ہے۔ ہفتے اتوار کو ٹرین سروس دیر سے شروع ہوتی ہے اور بعض اوقات دو ٹرینں کے درمیان بیس منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔
ٹرین اسٹیشن میں داخلے کے لیے ایک کارڈ خریدنا پڑتا ہے جس کا نام اسمارٹ ٹرپ ہے۔ آپ ایک بار خرید لیں اور اس میں ضرورت کے مطابق رقم ڈالتے رہیں۔ ہر اسٹیشن پر کرایہ وصول کرنے والی مشینیں لگی ہیں۔ جی چاہے تو انٹرنیٹ سے پیسے ٹرانسفر کریں۔ یہی کارڈ میٹرو بس میں بھی چلتا ہے کیونکہ ٹرینوں اور بسوں کی انتظامیہ ایک ہے۔ آپ بس سے اتر کے ٹرین اور ٹرین سے اتر کے بس میں سفر کریں گے تو کرایہ ایڈجسٹ ہوکر خودبخود کم ہوجائے گا۔
ورجینیا میں کئی ٹرین اسٹیشنوں پر پارکنگ کے بڑے مراکز ہیں جہاں ڈھائی تین ہزار گاڑیاں کھڑی کرنے کا انتظام ہے۔ میرے گھر سے قریب ترین اسٹیشن تک پیدل نہیں پہنچا جاسکتا۔ پہلے میں بس میں وہاں تک جاتا تھا۔ اب اپنی کار جاتا ہوں اور وہاں پارک کرکے ٹرین میں بیٹھ جاتا ہوں۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہر شاپنگ مال، ہر دفتر اور ہر تفریحی مقام کی طرح ہر ٹرین اسٹیشن پر مفت انٹرنیٹ دستیاب ہے۔ انٹرنیٹ ضرورت ہے، یہ عیاشی نہیں۔
بعض ٹرین اسٹیشنوں کے داخلے پر کئی ڈبے نصب ہیں۔ ان میں ہر صبح انگریزی اور ہسپانوی زبان کے اخبارات رکھے جاتے ہیں۔ آپ آتے جاتے مفت اخبار اٹھائیں اور سفر کے دوران پڑھتے جائیں۔ خارجی راستے پر ڈسٹ بن کی طرح ڈرم رکھے ہوتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے، صرف اخبار۔ داخلے دروازے کے ڈبے خالی ہوتے جاتے ہیں، خارجی راستے کے ڈبے بھرتے جاتے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker