رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (31 ) ۔۔ رضی الدین رضی

ملتانیوں کا دھرتی کے ساتھ تعلق

ملتان دریاراوی کنارے آباد کیاگیا تھا اور راوی جب رخ بدل کر شہر سے دور چلاگیا تو دریائے چناب نے شہر کے گرد اپنی گزرگاہ بنالی۔دریاکنارے آباد ہونے کی وجہ سے ملتان کی معیشت ہمیشہ زراعت کے ساتھ وابستہ رہی اور زرخیز زمین ہونے کے ناتے یہاں کے لوگ ہر دور میں مالی طورپر آسودہ بھی رہے۔زراعت نے شہر والوں کاتعلق دھرتی کے ساتھ جوڑ دیا۔شہر کی قدیم تہذیب اورتمدن کو جانچنے کےلئے یہ بھی ضروری ہے کہ دریا کے ساتھ اس شہر کی وابستگی کو مدنظر رکھا جائے۔

زراعت تہذیب پر کیسے اثر انداز ہوئی ؟

زرعی بود و باش نے شہر کے تمدن پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔ شاید یہی زراعت شہر کے ابتدائی مکانات کی تعمیر کا سبب بھی بنی ہوگی۔یہیں سے حاصل کی گئی لکڑیاں شہر کے قدیم مکانوں پر چھتیں ڈالنے کے کام آئی ہونگی۔خس وخاشاک کے ذریعے ان چھتوں کو مضبوط بھی بنایاگیاہوگا۔یہی لکڑی ایندھن کے طورپر استعمال ہوئی ہوگی اور پھرزراعت کے نتیجے میں حاصل کی گئی اجناس ،پھل اورسبزیاں یہاں کے باسیوں کی غذائی عادات کا حصہ بنی ہونگی۔بھیڑ بکریاں اوردیگر مویشی پالنے والے ان کاشتکاروں کا طرز زندگی بھی زرعی معیشت کے ساتھ جڑ گیا۔

ملتانیوں کے قدیم پہناوے

شہر کے قدیم مردانہ پہناووں میں چولا،کرتا،کڑھائی والا کرتا،چوغہ ،لاچا،تہہ بند،صدری،پگڑی ،کلاہ،صافہ،تلے دار جوتا،کھسہ قابل ذکرہیں۔اسی طرح زنانہ لباس میں دوپٹہ ،چنری،چولی،کرتی،گھاگھرا،شلوارقیمص،بر قعہ،چادر وغیرہ شامل ہیں۔زیورات بھی ملتان کی قدیم تہذیب کا حصہ ہیں۔ملتان کے قدیم مندر اور دیگر عبادات گاہوں میں سونا جس وافرمقدار میں موجودتھا وہ اس بات کی علامت ہے کہ یہاں بہت خوشحالی تھی اور ضعیف الاعتقاد لوگ دیوتاﺅں کو خوش کرنے کےلئے یا آفات سے محفوظ رہنے کےلئے عبادت گاہوں میں سونے کاچڑھاوا پیش کرتے تھے۔اس سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ سونے اور چاندی کے زیورات قدیم ملتان میں بھی یہاں کی خواتین کی زیبائش کاحصہ رہے۔

پیپل کا پتا اور حفظان صحت کے اصول

قدیم ملتانیوں کی غذائی عادات پر نظرڈالیں تواس سے بھی ہمیں یہاں کی معاشرت اور طرززندگی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔اس زرعی علاقے میں گندم ،جوار،باجرہ اورچنے کی روٹی (مسی روٹی)ہمیشہ سے پسند کی جاتی ہے۔دودھ مکھن،لسی ،گڑ ،شکر ،کھجور ،آم،دال،ساگ اوراچارکے ساتھ روٹی کھانا آج بھی بیشتر علاقوں میں معمول ہے۔یہ اس خطے کے لوگوں کی سادہ طرز زندگی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔موسمی اثرات سے بچنے کےلئے لیموں اورشکروالا شربت یہاں صدیوں سے استعمال کیاجارہاہے۔اسی طرح ملتان کا فالودہ بھی گرمی کی حدت سے نمٹنے کاایک ذریعہ ہے۔اندرون شہر آج بھی ڈولی روٹی اور روایتی دال مونگ بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔لیکن قدیم ملتان میں یہ دال اروی یا پیپل کے پتے پر ڈال کر کھائی جاتی تھی۔قیام پاکستان کے بعد بھی یہ دال انہی پتوں کی بنی ہوئی کٹوریوں میں فروخت ہوتی رہی۔یہ پتے نہ صرف یہ کہ اس دال کو ذائقے کو بہتر بناتے تھے بلکہ ملتانیوں کاخیال تھا کہ ان پتوں میں موجود کیمیائی اجزاءحفظان صحت کےلئے بھی بہت مفید ہیں۔قدیم شہر کا نکاسی آب کا نظام اور شہر میں فراہمی آب کا نظام بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملتانیوں کو صدیوں پہلے بھی حفظان صحت کے اصولوں کا ادراک تھا۔

حملہ آور تہذیب پر بھی اثر انداز ہوئے

شہر کے تہذیب و تمدن پر مختلف ادوار میں مختلف اثرات مرتب ہوئے۔ہرحملہ آور اپنی تہذیب وتمدن کے اثرات چھوڑ کر ملتان سے رخصت ہوا اور بعد میں آنے والوں کو اس کے نقوش ختم کرنے میں ایک عرصہ لگا۔یوں ہر عہد ایک نئی تہذیب اور نئی طرز معاشرت لیکر آیا۔یہاں کے رہن سہن اورتہذیب و معاشرت پر کبھی ہندوﺅں کاغلبہ رہا تو کبھی قرامطیوں کا ۔کبھی مصر کے حکمران اس پر اثرات انداز ہوئے تو کبھی مغل بادشاہوں نے اپنارہن سہن اور طرز زندگی ملتانیوں پر مسلط کیا۔ایران کے حکمران اپنا انداز تعمیر اور تمدن لیکریہاں آٰئے تو محمد بن قاسم کے دور میں عرب تہذیب و تمدن اور طرز زندگی اہل ملتان کے روزمرہ کا حصہ بنا۔رنجیت سنگھ نے ملتانیوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔ہردور کی طرح اس دور میں بھی محکوم ملتانیوں پر زندگی تنگ کردی گئی۔

برطانوی قبضہ ، نئی تہذیب اور نیا طرز معاشرت

19ویں صدی کے وسط میں جب برطانوی فوج نے ملتان پر قبضہ کیا تو اس کے نتیجے میں ایک نئی تہذیب اور نئے طرزمعاشرت نے جنم لیا۔اسی صدی کے اواخر میں ریل کی پٹری بچھائی گئی اورٹرین ملتان پہنچی۔ اسی عرصے میں دیئے کی جگہ بجلی نے لے لی۔پورے خطے کی طرح ملتان بھی نئی ایجادات سے متعارف ہوا۔دفاتر قائم ہوئے ۔نیا نظامِ تعلیم رائج ہوا۔نقل وحمل کے نئے ذرائع نے دریاﺅں کے ذریعے ہونے والی تجارت کو وسعت دی ۔ملتانیوں کی غذائی عادات میں تبدیلی آئی ۔بیکریاں قائم ہوئیں ،انگریزی تہذیب و تمدن کے اثرات ملتانیوں کے پہناووں میں بھی دکھائی دینے لگے۔شہر میں مساجد اور مندروں کے ساتھ ساتھ گرجا گھربھی تعمیر ہوئے۔گھنٹہ گھرسمیت بہت سی نئی عمارتیں تعمیر ہوئیں تو شہر کے فن تعمیر میں بھی ایک نئی جھلک دکھائی دینے لگی۔تجارت اور زراعت سے وابستہ اہل ملتان سرکاری ملازمت سے روشناس ہوئے۔مختلف دفاتر نے ایک نئی کلاس کو جنم دیا۔نئے محلے آباد ہوئے کالونیاں بنیں اور شہر نے فصیل سے باہر منتقل ہونا شروع کردیا۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker