پنجابلکھاریمحمدعلی ایاز

اترتی بہار اور آوارہ گرد ۔۔ محمد علی ایاز

اب تو شمالی علاقہ جات دیکھنے کا ایسا چسکا پڑ چکا ہے کہ ہر ایک دو ماہ بعد دل کرتا ہے کہ کاروبار زندگی چھوڑ چھاڑ کر آوارہ گردی پر نکل لیا جائے۔ فطرت کے مناظر آنکھوں کو ایسے بھائے ہیں کہ ہر بار پہلے سے بڑھ کر اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ایک مزدور کی زندگی اس معصوم سی عیاشی کی کس قدر متحمل ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہم کو خوب معلوم ہے مگر کیا کریں اس دل کے ہاتھوں مجبور ہیں اور بالآخر رخت سفر باندھ لیتے ہیں۔ ہمارے میر ِ کارواں تجمل احمد بھی کمال شخصیت کے مالک ہیں جو خود ہی آوارہ گردی کا روٹ فائنل کرتے ہیں اور آرڈر جاری کردیتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت پر فلاں علاقہ کی طرف نکلنا ہے تم لوگ تیاری پکڑ لو، فی کس اتنا خرچہ آئے گا جس کے پاس ہے وہ جمع کروا دے اور جس کے پاس نہیں ہے وہ جب چاہے بعد میں دے دے گااور یوں ہم لوگ بڑی آسانی سے اس کے دام میں آجاتے ہیں ۔ تجمل احمد کی تجویز پر بہت آسانی سے ہفتہ کے دن چھٹی کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ انٹرنیٹ کی دنیا نے ہم جیسے سفری شہزادوں کے لیے بھی بہت سی مشکلات حل کردی ہیں اور ہم گھر بیٹھے اپنے من پسند مقام کی لوکیشن، فیول خرچہ، راستہ تک معلوم کرلیتے ہیں۔ میرِ کارواں نے اس بار ایک دن کے لیے وادی ءسون سکیسر جسے چھوٹا کشمیر بھی کہا جاتا ہے ، کا انتخاب کیا اور یوں پانچ لوگ چینی بوائے محمد وسیم، استاد طارق زمان، محمد عمران اور راقم الحروف میر ِ کاروان تجمل احمد کی معیت میں دس مارچ کی صبح پانچ بجے کبیروالا سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے ۔ شور کوٹ سے نکلے تو ٹرکوں کی ایک لمبی لائن کراس کرنے کی کوشش کرتے گنا گاڑیوں کے درمیان پھنستے پھنساتے استاد ڈرائیور طارق زمان کی مشاورت اور تجمل احمد کی حاضر دماغی کی بدولت روڈ کے ساتھ خشک راجباہ کی پگڈنڈی پر گاڑی ڈال کر آگے نکل گئے ۔ جھنگ تک اپنی آنکھوں سے شوگر ملوں کے قرب و جوار میں گنا کی لدی گاڑیوں کی میلوں لمبی لائنوں دیکھ کر کاشتکاروں کی حالت پر دلی افسوس ہوا کہ پورا سال محنت کرکے جب خون پسینہ کی قیمت وصول کرنے کی باری آئی تو ان بے چاروں کے ساتھ کیا سلوک برتا جارہا ہے ۔ راستے میں مویشیوں سے لدے ڈالے اور ٹرک بھی بڑی تعداد میں ہمارے آگے پیچھے رہے ۔ استاد طارق زمان سے معلوم ہوا کہ ہر ہفتہ کو ملہوآنہ موڑ ، جھنگ مویشیوں کی منڈی لگتی ہے اور یہ سب جانور وہیں لے جائے جارہے ہیں۔ ملہوآنہ موڑ سے گزرے تو چینی بوائے وسیم کے ایک فی البدیہہ غیر پارلیمانی ماہیے نے بزم یاراں کشت زعفران بنا دی اور سب دوست تادیر قہقہے لگاتے رہے۔ اٹھارہ ہزاری سے آگے ایک پوائنٹ پر رکے اور چاولوں کی ایک ریڑھی پر مختصر سا ناشتہ کیا گیا جس کے بعد آگے کا سفر شروع ہوا ۔ ہیڈ تریموں کا پل وسیع ہورہا ہے جس کے تعمیراتی کام کی وجہ سے بھاری ٹریفک کا اس روڈ پر داخلہ بند تھا اور دریائے چناب کا پانی بھی بند کیا ہوا تھا جس وجہ سے پل کے غربی سائیڈ پر ریت اڑ رہی تھی۔ چناب روڈ پر گاڑی مڑی تو پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے سڑک کے دونوں طرف چنے کی لہلاتی فصل کا آغاز ہوا جس کا سلسلہ خوشاب تک جاری رہا۔ تجمل احمد نے بتا یا کہ یہ علاقہ برصغیرپاک و ہند میں صحرائے اعظم کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہاں صرف چنا اور مونگ پھلی جیسی فصلیں صرف بارش کے پانی سے اگائی جاتی ہیں اور یہ فصل تقسیم سے پہلے پورے برصغیر میں جاتی ہے جس کے لیے یہاں ریلوے اسٹیشن بھی بنائے گئے جہاں سے مال برداری بوگیوں کے ذریعے اس فصل کی نقل و حمل ہوتی تھی ۔ خوشاب روڈ کی بھی اپنی ایک خوبصورتی ہے جس کے کنارے سر سبز درخت آپس میں سرگوشیاں کرتے ایک کمال منظر پیش کرتے ہیں۔ خوشاب کے شہر کی پتلی گلی سے ہوتے ہوئے کٹھہ کی بل کھاتی خوبصورت پہاڑی کے پار اترے تو پائل موڑ پر وادی ءسون شاہراہ پر لاہور سے آنے والا قافلہ ہمارا منتظر تھا جس میں تجمل احمد کے یونیورسٹی فیلوز راحیل، شبیح، انجم، قربان، طوبیٰ اورماریہ پر مشتمل چھ رکنی قافلہ نے ہمارا پرجوش استقبال کیا اور پھر دونوں گاڑیاں فراٹے بھرتے ہوئے وادیءسون کے آنگن میں اترنے لگیں۔کھبیکی جھیل کے قریب پہنچ کر ہمارے ساتھ کے دوسرے قافلے کے ایک مقامی دوست کا انتظار کیا گیا تو دو تین دوست سامنے نظر آتی کھبیکی جھیل کی طرف جا نکلے جہاں مرغابیاں بلا خوف و خطر جھیل میں مٹر گشت کرتی نظر آئیں اور دس پندرہ منٹس بعد تجمل احمد کی کال پر واپس آئے تو ایک لنک روڈ پر ہو لیے۔ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ہم نے پہلا پڑاؤ وادی سون کے خوبصورت و وسیع وعریض باغیچہ جسے کنہٹی باغ کہتے ہیں ، میں ڈالا۔ کنہٹی باغ کے استقبالیہ پر قد آور خوبصورت ایستادہ درختوں نے ہمارا استقبال کیا اور یوں لگا کہ جیسے ہم جیتے جاگتے جنت میں داخل ہورہے ہیں۔ ہر طرف جاذ ب نظر نظارے تھے ۔ درختوں کی ٹہنیاں پھلوں ، پھولوں اور کونپلوں سے سجنے کے ابتدائی مراحل طے کررہی تھیں۔ ان ادھ کھلے پھولوں اور پھوٹتی کونپلوں کی مسحور کن خوشبو نے باغ کی فضا معطر کررکھی تھی جبکہ ہمارے پاؤ ں کے نیچے آتے خشک و ز رد پتے اپنی چرمراہٹ سے اپنی آخری داستاں سنانے میں لگے ہوئے تھے۔ باغ کے وسط میں شاندار و جدید طرز کی تعمیر شدہ مسجد اور مختصر سی کنٹین موجود تھی جس پر چائے، پانی اور بسکٹ وغیر ہ دستیاب تھے۔چھٹی کا دن نہ ہونے کی وجہ سے بہت کم تعداد میں سیاح وہاں موجود تھے اور ہم لوگوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور دو تین گھنٹے تک خوب گھومتے پھرتے رہے اور دوستوں کے موبائل سے جی بھر کے فوٹو گرافی کی گئی ۔ دو بجے تو بھوک کے مارے برا حال ہونا شروع ہوگیا اور ہم لوگ کھانا کے امید لگا کر بیٹھ گئے تو میر کارواں کا حکم ہوا کہ ہم لوگ اب کھبیکی جھیل جارہے اور کھانا وہیں ہوگا تو چار و ناچار پھر گاڑی میں جابیٹھے اور کھبیکی جھیل کی طرف نکل گئے ۔ راستے میں ایک وی آئی پی شخصیت پولیس سکواڈ میں ہمارے آگے آگے جارہی تھی اور ان کی منزل بھی کھبیکی جھیل ہی ٹھہری ،ہم نے خود بھی اسی قافلے کا حصہ سمجھا اور یوں پولیس اسکواڈ کے پروٹوکول میں کھبیکی جھیل پر جا پہنچنے ۔ بارشوں کا سیزن نہ ہونے کی وجہ سے جھیل میں پانی کی سطح کافی نیچے ہوچکی تھی مگر کشی ملاح کے مطابق اب بھی پانی کی گہرائی اٹھارہ فٹ کے قریب تھی۔ ہم نے دو بار کشتی رانی کا لطف اٹھایا اور اس دوران وسیم کے موبائل کا کیمرہ مسلسل حرکت میں رہا اور فوٹو سیشن کے ساتھ ساتھ ویڈیو بھی بناتا رہا ۔ جھیل کے کنارے تکے کباب اور گرم گرم روٹیاں سامنے دیکھ کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے اور ہم بھوک زدہ لوگ کھانے پر بری طرح ٹوٹ پڑے۔ جھیل پر لاہورسے ایک اور قافلہ بھی آیا ہوا تھا میں ایک نوجوان گٹار پر اپنی سریلی آواز میں بہت خوبصورت گیت سنا رہا تھا جس سے ہم لوگ بھی لطف اندوز ہوئے اور جی بھر کے داد دی۔ مغرب سے کچھ دیر پہلے وہاں سے نکلے تو کھبیکی گاؤ ں کا رخ کیا گیا ۔ گاؤ ں کے وسط میں قبرستان کے قریب گاڑیاں روکی گئیں اور ساتھ کی ایک پہاڑی پر ہائیکنگ کا فیصلہ کیا گیا ۔ ہم لوگ گپیں لگاتے ہوئے پہاڑ کے اوپر پہنچے تو مغرب کی اذانیں ہونے لگیں۔ پہاڑ کی چوٹی، بلا کی خاموشی، خالی آسماں اور ڈوبتے سورج کا ایک یادگار سین تھا جسے دیکھتے ہی خوبصورت شاعر سید فیصل ہاشمی کا ایک شعر یاد آگیا
پربتوں کی چوٹی پر شام ہونے والی ہے
آسماں پرندوں اور بادلوں سے خالی ہے
یہاں ایک بار پھر فوٹو گرافی اور سیلفیوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اسی دوران دوستوں کے اصرار پر گروپ فوٹو بھی بنایا گیا اور یوں ہمارے بزرگ ساتھی استاد طارق زمان کے چہرے پر بھی خوشگوار مسکراہٹ دیکھنے کو ملی ۔ تھکاوٹ سے چور جب ہم لوگ پہاڑ سے نیچے اترے تو ٹووور آرگنائزر محمد عامر کے ایک عزیز کے گھر بہترین سی چائے ہماری منتظر تھی جس کے ذائقے نے سب کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ۔ چائے پینے کے بعد تجمل احمد نے اپنے دوستوں کو الوداع کیا اور ہم لوگ واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے۔ ایک دن کی ان خوبصورت یادوں کو کتاب زیست میں رقم کیے ہم لوگ ڈیڑھ بجے کے قریب کبیروالا پہنچے اور سب دوستوں نے اپنے اپنے گھر کی راہ لی ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker