زعیم ارشدکھیللکھاری

زعیم ارشد کا کالم : محمدعلی سدپارہ ، کوہ پیمائی کا تابندہ ستارہ

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے اللہ نے ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے، یہاں کے لوگ نہایت باصلاحیت و باکمال، یہاں کی مٹی ذرخیز و بے مثال، یہاں کے موسم خوشگوار، غرض یہ کہ پاکستانی جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ ان ہی نہایت باصلاحیت لوگوں میں سے ایک محمد علی سدپارہ ہیں جنہوں نے کوہ پیمائی میں بارہا پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا، اور اپنے ملک کیلئے بہت سارے اعزاز سمیٹے۔
محمدعلی سدپارہ نے اسکردو کے قریب ایک گاؤں جس کا نام سدپارہ ہے میں جنم لیا، وہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور لاڈلے ہونے کے باوجود نہایت محنتی، باہمت و با صلاحیت انسان تھے۔ انہوں نے کئی عالمی ریکارڈ قائم کئے جو آج سے پہلے کوئی نہیں بنا سکا تھا، جس میں نانگا پربت کو سردیوں میں سر کرنا، اور نانگا پربت کو ایک سال میں دو بار سر کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ چائنا اور نیپال میں بھی کوہ پیمائی کی اور خوب نام کمایا۔
محمدعلی سدپارہ نے دوسرے مقامی لوگوں کی طرح اپنے پیشے کی ابتداء اونچائی پر وزن ڈھونے والے عام مزدور کی حیثیت سے کی مگر جلد ہی ان کے اندر چھپا ہوا زبردست کوہ پیما اجاگر ہونے لگا، وہ بہت جلد ملکی اور غیر ملکی کوہ پیماؤں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے، کیونکہ سدپارہ ان کی مہمات میں بڑی مہارت اور چابکدستی سے معاونت فراہم کیا کرتے تھے۔ جو قابل قدر بھی تھی اور سودمند بھی، اس طرح 2006 سے انہوں نے خود کو باقاعدہ کوہ پیماء کی حیثیت سے منوانا شروع کردیا۔ وہ بہت سخت جان اور جفاکش تھے کہ جن اونچائیوں پر عام کوہ پیما بغیر اضافی آکسیجن کی معاونت کے نہیں رہ سکتے سدپارہ ہشاش بشاش رہتے تھے۔ وہ بڑے ماہر کوہ پیما تھے ان کی مہارت اور محنت کی تعریف بین الا قوامی کوہ پیما ہمیشہ ہی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ وہ ایک بین الاقوامی ٹیم کے ممبر تھے جس نے تاریخ میں پہلی بار سنہ 2016 میں سردیوں میں نانگا پربت سر کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ علی سدپارہ کیلئے ان کے توصیفی کلمات اپنی ذات میں صنعت کا درجہ رکھتے ہیں، یہاں ہم مسٹر ایلکس ٹکسکون اور سائمن مورو کے سدپارہ کیلئے کہے گئے کلمات درج کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے سدپارہ کے بغیر انتہائی خراب موسم میں نانگا پربت سرکر نا ممکن ہی نہ تھا۔ یہ تو سدپارہ کی کمال ہنرمندی تھی کہ ہم یہ مہم کامیابی سے مکمل کر پائے۔ پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں سدپارہ اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا چکے ہیں۔ جون 2018 میں انہیں تیز رفتار کوہ پیماء نامزد کیا گیا جس کے تحت وہ ایک پانچ سالہ کوہ پیمائی کی مہم کا حصہ بنائے گئے جس کا عنوان ہے “Beyond Mount Everest” اس پروگرام کے تحت انہوں نے پانچ سال میں تین بڑی چوٹیوں کو سر کرنا تھا، جن میں کے ٹو، نانگا پربت اور ماؤنٹ ایورست شامل ہیں، جو انہوں نے بالترتیب 2019 سے 2022 تک مکمل کرنا ہے۔
سدپارہ نے ایک سال میں آٹھ میں سے چار آٹھ ہزار فٹ کی چوٹیوں کو سر کرنے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔ کہتے ہیں بڑے کام کرنے والوں کے چیلنجز بھی بڑے ہوتے ہیں۔ لہذا ایک مشترکہ کوہ پیمائی کی مہم کیلئے جس میں انہیں سردیوں میں K2 کی چوٹی کو سر کرنا تھا۔ انہوں نے چار فروری 2021 کو اپنا اونچائی پر موجود کیمپ چھوڑا، ساجد سدپارہ جو ان کا بیٹا ہے اور اس مہم میں ان کے ساتھ تھا، تکنیکی خرابی کی وجہ سے باقی لوگوں کو Bottleneck کے مقام پر جو پہاڑ کی چوٹی کے قریب ہی ہے چھوڑ کر واپس آگیا۔ جبکہ اسکے والد علی سدپارہ، سنوری John Snorri اور مہر Juan Pablo Mohr بدستور اوپر چڑھتے رہے، انہیں پلان کے مطابق رات تک واپس آجانا چاہئے تھا، مگر وہ واپس نہیں آئے۔
فوری طور پر امدادی ٹیم تشکیل دی گئی جو انہیں تلاش کرتی رہی مگر وہ مل نہ سکے۔ ساتھ ساتھ پاک آرمی نے بھی امدادی مشن تشکیل دیا اور ان کے ہیلی کاپٹرز گمشدہ کوہ پیماؤں کو تلاش کرتے رہے، آخر موسم زیادہ خراب ہونے پر انہیں اپنا سرچ آپریشن موخر کرنا پڑا، امید یہ کی جارہی ہے کہ جیسے ہی K2 کی چوٹی پر موسم کچھ بہتر ہوتا ہے دوبارہ انہیں تلاش کرنے کا عمل شروع کردیا جائے گا۔ جس میں اس بار جدید آلات جیسے انفرا ریڈ (FLIR) کیمرے اور خاص کھوجی طیارہ استعمال کیا جانا ہے۔ ساتھ ساتھ high altitude climbers کی خدمات بھی لی جائیں گی جن کی تلاش میں مدد (FLIR) کے ذریعے کی جائے گی۔ غرض یہ کہ سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے کہ ان کو تلاش کر لیا جائے۔
ساتھ ساتھ کسی معجزے کی امید بھی کی جارہی ہے، لوگ اپنے ہیرو کی سلامتی کے لئے دعائیں کر رہے ہیں، کہ علی سدپارہ ہر حلقے میں بے حد مقبول ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ K2 کے بدترین موسم کے پیش نظر ، جس میں شدید برفیلی ہوائیں اور منفی 60 ڈگری درجہ حرارت شامل ہے امید کی لو مدھم سے مدھم ہوتی جارہی ہے۔ لیکن علی سدپارہ کے پیار کی لو دلوں میں بڑھتی ہی جارہی ہے، جو تاقیامت برفانی پہاڑوں میں زندہ رہے گی۔
علی سدپارہ ایک بہادر انسان تھے، اور تین بچوں کے باپ تھے، وہ صرف 45 سال کے تھے انہوں نے اپنی 45 سالگرہ اسی مشن کے بیس کیمپ میں منائی تھی۔ دل آج بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ اب نہیں رہے مگر حالات کے تناظر میں کسی کا بھی اب زندہ ملنا بعید از قیاس ہے۔ ان کے چاہنے والے اللہ سے معجزے کی دعائیں کر رہے ہیں۔ اللہ ان کیلئے آسانی پیدا فرمائیں۔ ہماری حکومت وقت سے التماس ہے کہ انہیں قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے اور ان کے اہل و عیال کو بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے، کہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker