فوجی جب اپنی ڈیوٹی کے لیے گھر سے نکلتا ہے، چاہے کسی سرحدی چوکی پر ہو یا ملک کے اندر کسی شورش زدہ علاقے میں، اس کی تربیت اسے یہ سکھاتی ہے کہ چوکس رہو، دشمن کسی وقت بھی وار کر سکتا ہے۔ نالائق اور سست پولیس والا بھی جب گشت پر نکلتا ہے تو آنکھیں کُھلی رکھتا ہے کہ کسی گلی کی نکڑ پر، کسی چور اچکے سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے لیکن جب کوئی مزدور اپنا گھر چھوڑتا ہے تو اسے صرف یہی فکر ہوتی ہے کہ مزدوری ملے گی یا نہیں اور اگر ملی تو کتنی ملے گی۔
اگر مزدوری کے لیے اپنا گاؤں، اپنا صوبہ، اپنا ملک چھوڑ کر جا رہا ہو تو یہ سوچتا ہے کہ مزدوری میں سے کتنا بچا کر پیچھے گھر والوں کو بھیجے گا اور واپس آ کر اپنے پیاروں کی شکل دیکھنا کب نصیب ہو گی۔
منڈی بہاؤ الدین سے مزدوریوں کے خواب دیکھتے، رمضان کے آخری دنوں میں بسوں میں سوتے جاگتے، نوشکی کے پاس پہنچتے ہیں تو مبینہ طور پر بلوچ باغی ان کے شناختی کارڈوں سے ان کی پنجابیت ثابت کر کے انھیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔
جن مزدور خاندانوں نے مزدوری سے پیسے بچا کر نوجوانوں کو دور دیس مزدوری کے لیے بھیجا تھا انھیں اپنے بچوں کی لاشیں عید پر ملتی ہیں۔
نوشکی میں بربریت کا نشانہ بننے والے منڈی بہاؤ الدین کے نوجوانوں نے شاید نوشکی اور بلوچستان زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا۔ نہ بلوچستان میں بغاوت کی خبریں منڈی بہاؤ الدین پہنچی ہوں گی۔ ان کی آخری سانسوں کی معصوم حیرت، دردناک ہے کیونکہ انھوں نے سوچا ہو گا کہ آخر پنجابی ہونا کب ایک قابلِ قتل جرم بن گیا؟
اگر بلوچستان میں مسئلہ پنجابی مزدوروں کو قتل کر کے حل ہو سکتا تو ابھی تک کچھ بہتری آ چکی ہوتی کیونکہ اس سے پہلے استاد بھی مارے گئے ہیں، حجام بھی، زائرین بھی، نانبائی بھی اور مزدور اور پھر مزدور اور مزدوری کے خواب دیکھنے والے بس میں اونگھتے نوجوان۔
اگر بلوچستان کا مسئلہ ہزارہ برادری کا قتلِ عام کر کے حل ہو سکتا ہے تو وہ اتنے ہو گئے کہ اپنا ہنستا بستا کوئٹہ چھوڑ کر ہزاروں کی نسل دنیا میں دربدر ہو گئی۔
پرانے فیشن کے محب الوطن یاد دلاتے رہتے تھے کہ اگر شیعہ قتلِ ہو تو یہ کہو کہ مسلمان قتل ہوا، اگر بلوچ بچہ اٹھایا جائے تو کہو کہ دہشت گرد اٹھایا گیا، مسیحی بستی جلا دی جائے تو یہ کہو کہ پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں، احمدی مارا جائے تو کچھ بھی نہ کہو اور کم از کم یہ مت کہو کہ جان بحق ہوئے ہیں۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

