تجزیےلکھاریمحمد شاہنواز خان

خواتین کا عالمی دن !۔۔ محمدشاہنوازخان

8 مارچ دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد ہے کہ خواتین سماجی،معاشی ،سیاسی،ثقافتی سطح پر کامیابیوں کا جشن منایا جائے اور ان کی ترقی اور برابری کی راہ حائل مشکلات کا حل تلاش کیا جائے ۔اس کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جائے۔خواتین کی 1911سے شروع ہونے والی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔اس سال اس دن کا موضوع ہے) (Each for Equal ہر ایک برابر ی کے لئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بحیثیت انسان عورت کی حیثیت کو برابر تسلیم کیاجائے۔اور فیصلہ سازی ،معاشی فوائد،سماجی رتبہ ،غرض اس کا مقام ایک برابر فرد اور ساتھی کا ہو۔معا شر ے کے متعین ر ویو ں نے عو ر تو ں کے کر دا ر اس کی تر قی کے را ہ میں بہت ر کا و ٹیں بھی حا ئل کی ہیں اگر انسانوں کو صنفی ترقی کی بنیا د پر مختلف کر دا ر سو نپ کر ایک حصا ر میں بند کر دیا جائے اورانہیں وسائل اور موا قع بھی یکسا ں نہ د ئے جا ئیں تو ان کا ا ثر نہ صر ف ان کی اپنی ز ندگی پر پڑتا ہے بلکہ اس کے منفی ا ثرا ت پو ر ے معا شر ے پر پڑ تے ہیں۔کیو نکہ و ہ معا شر ے کی تر قی میں بر ا بر کا حصہ نہیں لے سکتے،مثلایہ سمجھ لینا کہ عو ر تو ں کا بنیا د ی کا م چو نکہ گھر اور خا ندا ن کی د یکھ بھا ل کر ناہے اس کی وجہ سے بچی کی تعلیم پر کو ئی تو جہ نہیں د ی جا تی ۔ جنسی کردار تمام معاشروں میں ایک سا ہوتا ہے۔جیسے چاہے وہ عورت افریقہ کی ہو یا ایشیاء کی ، مسلمان ہو یا ہندو، شیعہ ہو یا سُنی، راجپوت ہو یا سید۔جبکہ ہو سکتاہے کہ ایشیاء کی عورت کو افریقہ کی عورت کے مقابلے میں گھر سے باہر کام کرنے کی زیادہ آزادی ہو نیز یہ فرق مختلف معاشروں میں ان معاشروں کے معاشی ، سماجی اور سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے مختلف ہو سکتے ہیں اور تاریخ کے ساتھ بدلتے ہیں جیسے کسی زمانے میں کہا جاسکتاتھا کہ عورتیں جہاز نہیں اُڑا سکتیں یا مرد گھر کا محافظ ہوتا ہے ، یہ بات اس صنفی اور جدیدٹیکنالوجی کے دور نے غلط ثابت کر دی ہے کیونکہ اب ثابت ہو گیا ہے کہ پستول لے کر گھر میں گھسنے والے کے سامنے مرد بھی اتناہی بے بس ہے جتنی کہ عورت۔صنفی کردار معاشرہ دیتا ہے اور پیدا ہوتے ہی یہ کردار مضبوط کئے جاتے ہیں۔ان کے پروان چڑھنے اور مضبوط کرنے میں خاندان ، تعلیمی نظام ، ذرائع ابلاغ، قوانین اور مذہبی تشریحات اپناکردار ادا کرتے ہیں۔مردوں اور عورتوں کو سماج کی جانب سے دیئے گئے فرائض اور ذمہ داریاں پیدائش ہی سے معاشرہ طے کر دیتا ہے ا ن کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔یہ مخصوص کردار مرد اور عورت کے درمیان رشتے/ تعلق کا تعین کرتے ہیں۔اس رشتے کے اثرات ہمیں مختلف شکلوں میں اور مختلف سطحوں پر نظر آتے ہیں۔
ترقی کے عمل میں د و نو ں صنفیں تبھی حصہ لے سکتی ہیں جب ہر طرح کی تعصبا نہ سو چ کو ختم کیا جا ئے۔ہر سطح پر برا بر ی کے یکساں موا قع فرا م کئے جا ئیں۔لو گو ں میں یہ شعو ر پیدا ہو کہ انہیں معا شر ے کے ر وا ئیتی صنفی کر دا ر وں کے حصا ر سے با ہر نکلنا چا ہیے تا کہ نہ صر ف اپنے خا ندا ن میں بلکہ معا شر ے میں ہر سطح پر تمام کا مو ں اور ذ مہ دا ر یو ں کو مرد اور عو ر تیں مل کر انجا م د ے سکیں تا ر یخ کے حوا لے سے ا ن وا قعا ت کا ذ کر کر یں جن کا تعلق جنو بی ایشیا ء میں عو رتو ں کی بیدا ر ی کی تحر یک اور ان کار ہا ئے نما یا ں سے ہو جو عور تیں سر انجا م دے چکی ہیں اس سے شر کا کو مز ید سمجھنے میں آ سا نی ہو گی کہ امو ر زند گی میں صنفی امتیا ز کو ئی قد ر تی با ت نہیں ہے ہیں بلکہ ہما را رویہ ہے جس کے ذ مے دا ر ہم خو د ہیں۔اس کا تعلق عو ر تو ں کے حقو ق ،ان کی حیثیت عز ت اور و قا ر سے ہے ۔صنف کے تصو ر کامقصد ہی یہی ہے کہ اس با ت کا جا ئز ہ لیا جا ئے کہ صنفی بنیا د و ں پر تفر یق کیسے اور کیو نکر پیدا ہو گئی ہے۔اس کے کیا نتا ئج ہیں اور اس کو کیسے بد لا جا سکتا ہے۔ عو ر تیں کسی طر ح بھی مر دو ں سے کم کا م نہیں کر تیں بلکہ زیا د ہ کا م کر تیں ہیں لیکن ان کے کا م کی شناخت اور قدر نہیں ہو پاتی کیو نکہ ان کے کا م کی شنا خت اور قد ر نہیں ہو تی ان کے کا م زیا د ہ تر گھر وں تک محدو د ہو تے ہیں۔
گزشتہ 72سالوں میں پاکستان میں خواتین نے ایک طویل جدوجہد کے بعد اپنا مقام تسلیم کرایا ہے ۔اس جاگیردرانہ سماج میں آج پاکستانی عورت سیاست، تجارت،دفاع،سائنس وٹیکنالوجی،تعلیم، میڈیکل ،سیاحت ،کھیل،عدلیہ،فن وثقافت، شعرو ادب ہر شعبہ زندگی میں اپنا لوہا منوا رہی ہے۔آج کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں پاکستانی عورت نے اپنا مقام نہ منوایا ہو،آئی ٹی کی دنیا میں ارفہ کریم کی صورت میں آرٹ کے شعبہ میں شرمین عباد چنائے،ہمارے لئے روشن مثالیں موجود ہیں۔ میوزک کی دنیا میں عابدہ پروین،نور جہاں ،نیرہ نور، ناہید اختر،ثریا خانم،موجودہ دور میں قرتعین بلوچ،آیمہ بیگ،صنم ماروی،شازیہ خشک،اور یگر نے دنیا میں اپنا نام بنایا۔اور آج کا دن ان کی انہی کامیابیوں کو منانے کا دن ہے۔قیام پاکستان کی جدوجہد سے لیکر آج تک پاکستانی عورت نے جس انداز میں اس ملک کی ترقی اور اپنے وجود کو منوانے کا کام کیا ہے اس کو دنیا نہ صر ف تسلیم کرتی ہے بلکہ اس کو ایک کامیاب جدوجہد کی مثال سمجھتی ہے۔
قیام پاکستان کی جدوجہدسے آج تک کی تاریخ میں پاکستانی خواتین کا کردار نا قابل فراموش ہے۔تحریک پاکستان میں وہ قائد اعظمؒ کے ساتھ ہراول دستہ تھیں انہی بہادر خواتین کی بدولت ہم آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔جنہوں قابض انگریز حکمرانوں کے خلاف گھر گھر جاکر قوم کو جگایا جلسے اورجلوسوں اور ریلیوں کی قیادت کی یونین جیک اتار کر عمارتوں پر پاکستانی جھنڈے لہرائے۔قیام پاکستان کے بعدبھی پاکستانی خواتین کا کردار اسی طرح جاری رہا۔ قائداعظمؒ کی وفات کے بعدآپؒ کے نظریات کے برعکس ملک پر جاگیردارانہ سوچ اورآمریت نے پنجے گارڈ دیے ۔پاکستانی عورت کو ترقی کے عمل سے پیچھے رکھنے لئے۔ ثقافت، کلچرل،خاندانی روایات کی دیواریں کھڑی کی گئیں۔لیکن پاکستانی خواتین نے اپنا کام جاری رکھا۔ رعنا لیاقت علی خان آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن(اپواء) جیسی تنطیموں کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں کی جدوجہد کرنے والی خواتین نے ہر آمریت کے خلاف آواز بلند کی۔ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔اور آمریت کو چیلنج کیا۔آمرانہ ہتھکنذوں سے انہیں شکست دینے کی کوشش کی لیکن پاکستان میں جمہوریت اور خواتین کی جوجہد کو نہیں روکا جاسکا۔
ضیاء الحق کے طویل مارشل لاء کے دوران خواتین کی جدوجہد تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ خواتین کے خلاف بننے والے قوانین خلاف عورتیں میدان عمل میں آئیں وومن ایکشن فورم کی خواتین کو آنسو گیس، ڈنڈے اور جیلیں بھی جدوجہد سے نہ روک سکیں۔انیس ہاورن،شہلا ضیاء، فریدہ شہید،نگار احمد، خاور ممتاز،عاصمہ جہانگیر،طاہرہ عبداللہ، مہناز رفیع ،نگہت سعد خان،لالہ رخ،حنا جیلانی،اور ان جیسی سیکڑوں خواتین نے عورتوں کے خلاف بننے والے قوانین کی بھرپور مخالفت کی۔اور ان کی حکومت کوچیلنج کیا۔اور ہر محاذ پر عورتوں کے حقوق کا دفاع کیا۔ جمہوریت کے لئے بے نظیر بھٹو کی جدوجہد قربانی کو نہ صرف پاکستان کی تاریخ بلکہ دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔اسی طرح افراد باہم معذوری کے حقوق خصوصی طور معذور خواتین کے حقوق کے حوالے زاہدہ حمید کا نام نمایاں ہے ۔جنہیں گزشتہ سال پنجاب کی بہترین خاتون کا ایواڈ بھی دیا گیا۔ وائس سے امتیاز فاطمہ ، اور منیبہ مزاری رول ماڈل کا درجہ رکھتی ہیں۔
کھیلوں کی دنیا میں وومن ہاکی،کرکٹ ٹیموں کی ممبران ،اور100 میٹر دوڑ نسیم حمیدنے نام کمایا،ادبی میدان میں سیلمہ ہاشمی،عمیرا احمد، فاطمہ ثریا بجیا،بانو قدسیہ، سلطانہ صدیقی ،بشری رحمان،فہمیدہ ریاض،حسینہ معین، شاعری میں پروین شاکر، جیسے نام قابل فخر ہیں،شو بزنس کے شعبہ میں ماہرہ خان ،مہوش حیات،عائزہ خان،صبا قمر،بشری انصاری، قابل ذکر ہیں تعلیم کے شعبہ میں سعد راشد،مذہبی سکالر ڈاکٹر فرحت ہاشمی،امینہ سید،ٖفرح دیبا ڈاکٹر خدیجہ مشتاق، سمیت سیکڑوں خواتین موجود ہیں۔سماجی تحریکوں میں بے شمار خواتین سرگرم رہیں اور ہیں جن میں نگار احمد، خاور ممتاز،عاصمہ جہانگیر، طاہرہ عبداللہ، مہناز رفیع،حنا جیلانی،بلقیس ایدھی، شاہین عتیق الرحمان،نگہت سعید،فریدہ شیر،زہرہ سجادزیدی،زوبیدہ جلال، سلالہ یوسف زئی،صادقہ صلاح الدین،سسٹر نسیم جارج،فوزیہ وقار، کشور ناہید، فوزیہ سعید سمیت سیکڑوں نام نمایاں ہیں،اسی طرح پاکستان کی تاریخ کبھی بھی فوزیہ سعید کو کی خدمات کو نظر انداز نہیں کر سکتیں جنہوں نے اپنی بہن ملہیا حسین اور دیگرساتھیوں کی مدد سے آشا کے پلیٹ فارم سے کئی سال کی جدوجہد کے بعد کام کر نے کی جگہ خواتین کے تحفظ کا بل 2010 میں منظور کرانے میں بھر پور کرادار ادا کیا بلکہ اب اس قوانین پر عمل کے سرگرم ہیں۔اس قانون کی وجہ سے پاکستانی خواتین نے کام کی جگہ پر اپنے آپ کو محفوظ تصور کیا۔اس وقت اس طرح کا قانون جنوبی ایشاء میں کسی اور ملک کے پاس نہیں۔قانون کے شعبہ میں عاصمہ جہانگیر، جسٹس ریٹارئر ناصرہ جاوید اقبال اور دیگر خواتین قابل ذکر ہیں۔جن کی پیروری میں اس وقت ماتحت عدلیہ بے شمار خواتین ججز اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
رخشندہ ناز خواتین کی جدوجہد کانمایاں نام ہیں۔وہ خیبر پختوں خواہ کی پہلی خاتون نامز ہوئیں ہیں۔اسی طرح فوزیہ وقار پنجاب میں وومن کمیشن کی سربراہی کرتے ہوئے کئی سال تک خواتین کے تحفظ کے کوشاںر ہیں۔خواتین کے لئے ہیلپ لائن قائم کی۔محترمہ خاور ممتاز قومی کمیشن کی سربراہ کی حیثیت سے خواتین کی ترقی اور بہتری کے لئے گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
صحافت کے میدان میں بھی پاکستانی خواتین نے اپنا صلاحتوں کا لوہا منوایالیاہے اور آج دنیا میں ان کا اپنا صحافتی مقام ہے۔سیاست میں بھی آج پاکستانی خواتین کسی سے پیچھے نہیں فاطمہ جناح کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے جس طرح دنیا کو اپنی سیاسی بصیرت سے قائل کیا وہ مثالی ہے اس وقت بھی سیکڑوں پاکستانی سیاست دان خواتین اسمبلیوں میں اور باہر اپنا کردار ادا کرتی رہی تھی اور ہیں جن میں حنا ربانی کھر،فہمیدہ مرزا،کشمالہ طارق،عطیہ عنایت اللہ،شیرین رحمان،شمیلہ فاروقی،فردوس عاشق اعوان،شمیلہ اسلم،شازیہ مری،ماروی میمن،تحمینہ دولتانہ،شیری مزاری،راحیلہ قاضی،خولہ امجد،ذکیہ شاہنواز،فخرالنساء کھوکھر،نسرین جلیل،حمیدہ کھوڑو،جمیلہ رزاق، فریالتالپور،فوزیہ وہاب،کلثوم نواز،غنوی بھٹو،مہناز رفیع، بشری رحمان،فریال گوہر،ماجدہ رضوی، خوش بخت شجاعت ، شہلا رضا شازیہ مری ، سسی پلیجو ،سمیرا ملک ،ماروی میمن ،مریم نواز، اور ڈاکٹر یاسمین راشد ،ڈاکٹر نوشین حامد،زر تاج گل وزیر سمیت دیگر خواتین نمایاں ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں اس وقت 66خواتین خصوصی نشتوں پر موجود ہیں جن بہت سی خواتین مختلف کمیٹیوں کی سربراہی کر رہی ہیں اور اپنا بھر پور آئینی کردار ادا کر رہی ہیں۔ صوبائی وزیر آشفہ ریاض خواتین کے حقوق کے متحرک ہیں، ان کے علاوہ تحریک انصاف کی عظمی کاردار وومن ڈوپلمنٹ اور جینڈر کمیٹی کی سربراہ کی حیثیت اپنا شاندار کردار ادا کر رہی ہیں۔سعدیہ سہیل رانا نے گزشتہ اسمبلی میں بطور اپوزیشن اور موجودہ اسمبلی حکومتی رکن کے طور پر اپنی سیاسی حیثیت کو منوایا ہے۔تحریک انصاف سے مسرت جمشید چیمہ،ساجدہ بیگم، نیلم حیات،مہوش سلطانہ ،ملتان سے سبین گل خان عوامی مسائل کے حوالے سے اپنے علاقے کی بھر پور نمائیدگی کر رہی ہیں۔مسلم لیگ ن سے حنا بٹ گزشتہ اسمبلی میں سب سے زیادہ قانون سازی میں حصہ لینے والی خاتون تھیں ان کے علاہ راحیلہ خادم حسین نے اپنی جماعت اور اسمبلی میں ایک سیاسی رہنما کا مقام بنایا ہے۔اسی طرح کنول لیاقت علی، بشریٰ انجم بٹ، ثانیہ عاشق ،عظمی بخاری،ذکیہ شاہنواز بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں اور اسمبلی بھر پور کردار ادا کررہی ہیں۔پیلز پارٹی کی واحد رکن پنجاب اسمبلی شازیہ عابد راجن پور کے پسماند علاقے سے ہونے کے باوجود جس انداز میں علاقائی مسائل کو اجاگر کر رہی ہیں وہ کسی مرد رکن اسمبلی نے پہلے نہیں کیے۔راجن پور کی پسماندگی کے حوالے اسمبلی میں ان کی تقاریر تاریخی ہیں اور اس بات کی دلیل ہیں کہ خواتین کو اگر مواقع دے جائیں تو وہ کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں۔اور ملکی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر سکتی ہیں۔پاکستان میں خواتین کی ان کامیابیوں کے باوجود ابھی بھی سفر طویل ہے ۔
آج بھی پاکستان کا شمار دنیا کے چند اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورتوں کی صورتحال نامناسب ہے کچھ علاقوں میں عورتیں نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں بلکہ مختلف طرح کے تشدد کا بھی شکار ہیں ۔ زچگی کے دوران سب سے زیادہ اموات میں ہم پہلے نمبر پر ہیں اسی طرح آج بھی لاکھوں خواتین کے ووٹ درج نہیں ابھی تک جاگیرارانہ نظام کے زیر اثر علاقوں میں تعلیم،صحت،روزگار کے مواقع کم ہیں اور تشدد کے واقعات ہماری کامیابیوں کو دھندلادیتے ہیں۔ہماری موجودہ جمہوری حکومت کو قوانین پر عمل کرانے حوالے اقدامات اٹھانے ہونے 25-Aتعلیم کے حق کو تسلیم کرانے کیلئے ہر بچی کو برابری کی بنیاد پر سکول تک لانا ہوگا۔زچگی کے دوران شرع اموات کو کم کرنے کے لئے ہنگامی اقدمات کر نے ہونگے۔خواتین کو کام کی جگہ پر حراسیت سے محفوظ رکھنے کے قانون پر ہر محکمہ میں سختی سے عمل کرانا ہوگا۔ خواتین کو یہ حقوق دلانے کے لیے ایک منظم جدوجہد شروع کی جائے لیکن ضروری امر یہ ہے کہ صرف یہ دن نہ منایا جائے بلکہ خواتین کو ترقی کے عمل کا بھی حصہ بنایا جائے انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنے کے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ خواتین کی حالت میں بہتری لائی جاسکے کیونکہ ہمیں ہمارا مذہب ہمارے ملکی قوانین اس چیز کا پابند کرتے ہیں کہ ہم خواتین کو برابری کے مواقع دیں ۔اس وقت ہمارے ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن انہیں صحت ، تعلیم ،روزگار، اور آگے بڑھنے کے وہ مواقع نہیں دیے جاتے جو مردوں کو حاصل ہیں اس وقت بھی 70 فیصد بالغ خواتین تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں جبکہ ہمارے مذہب نے تعلیم حاصل کرنا ہر عورت اور مرد پر فر ض قرار دیا ہے ۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارے ملک کی صرف 17 فیصد خواتین پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں ۔ مواقع نہ ہوناانکی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ہمیں ملکر ان مسائل حل کے مشترکہ کوشش کو مزید تیز کرنا ہوگا تاکہ برابری اور انصاف کی منزل کو حاصل کیا جاسکے اور 2030میں ہم دنیا کے سامنے سرخرو ہوں کے ہم SDGsکے اہداف حاصل کیے ہیں ۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker