آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: وہ صبح کبھی تو آئے گی!

سنتے آئے ہیں کہ قدیم زمانے میں جادوگر، منتر پڑھ کے انسان کو جانور بنا دیا کرتے تھے، کوئی اسم پھونک کے پورے شہر کو پتھر بنادیتے تھے، ’کھل جا سم سم‘ کے چار لفظ پہاڑ میں دراڑ ڈال دیا کرتے تھے ۔ تشکیک پسند فطرت کو لگتا تھا یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ہر کہانی فکشن نہیں ہوتی کچھ کہانیاں حقیقت بھی ہو تی ہیں۔
’میرا جسم، میری مرضی‘ وہ منتر ہے کہ جس نے پل بھر میں کیسے کیسے لوگوں کے چہروں سے نقاب نوچ کر اصل چہروں کو برہنہ کر دیا۔ ادہان چر کے بھاڑ سے کھل گئے اور زبانیں کترنی کی طرح چلنے لگیں۔ مغلظات کے طوفان ابل پڑے اور صدیوں سے عورت کا حق مارے، اس کی طاقت سلب کیے اس کے سر پہ پدر شاہی نظام کی بساط بچھائے عفریت نما لوگوں کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔
یہ نعرہ کہاں سے آیا؟ اس کا پس منظر کیا تھا؟ پاکستان میں یہ نعرہ کس نے لگایا؟ کھوجنے والے اب تک کھوج چکے ہیں ۔اس نعرے کی اتنی تشریحیں ہو چکی ہیں کہ اگر کوئی سیانا پبلشر چاہے تو کتابیں چھاپ چھاپ کے نوٹوں کے بورے بھر سکتا ہے۔
میرا وہی پیارا ملک، جہاں ماں بہن کی گالی، تکیہ کلام ہے، جہاں لوگ آتے جاتے، ہر جاندار اور بے جان شے کی ماں بہن کے ساتھ مجرمانہ جنسی عزائم کا اظہار کرتے نہیں تھکتے، جہاں سر عام موتنے اور تھوکنے پہ کسی کو اعتراض نہیں ہوتا وہاں ان چار الفاظ نے جیسے ارنے بھینسے کو لال کپڑا دکھا دیا۔
کسی کو لگا یہ بے حیائی کی دعوت ہے، کسی کو لگا یہ اسقاط حمل کے لیے کہا جا رہا ہے، کسی کو لگا یہ عورتوں کا شادی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنے کے عزم کا اظہار ہے، کسی کو لگا یہ چھوٹے چھوٹے کپڑے پہننے سے پہلے کا نعرہ ہے۔
اس نعرے نے ملک بھر میں کھجلیوں، کھانسیوں، کھنکھاروں، گالیوں اور دھمکیوں کے ساتھ ساتھ منی منی حیا ریلیوں اور جلسیوں کا غیر مختتم سلسلہ شروع کر دیا۔
لفظ ’جسم‘ جس کا تذکرہ اتنا لذیذ سمجھا جا رہا ہے در حقیقت عورت کے لیے یہ لفظ اتنا لذیذ نہیں۔ یہ ’جسم‘ جسے وہ اپنا کہہ رہی ہے ویسا ہی گوشت پوست کا بنا ہوا ہے جیسا کہ باقی مخلوقات ہیں۔
یہ جسم، تھک بھی جاتا ہے، یہ جسم آرام بھی مانگتا ہے، اچھی خوراک، اچھا ماحول، اچھا علاج مانگتا ہے۔ موسم کے لحاظ سے ٹھنڈے گرم کپڑے مانگتا ہے۔ بھر پیٹ روٹی چاہتا ہے۔ اپنی رضا سے پاوں پسار کے سونا چاہتا ہے ۔ تحفظ چاہتا ہے، عزت چاہتا ہے، اپنی مرضی کے خواب دیکھنا اور ان خوابوں کو سچ کرنا چاہتا ہے۔ اس میں برائی ہی کیا ہے؟
اور معلوم ہے باقی دنیا میں یہ نعرہ کسی کا بھی ہو ہمارے ہاں یہ اس عورت کی لاش کا نعرہ ہے، جسے اوکاڑہ کے قبرستان سے نکال کے گورکن نے اس کی بے حرمتی کی۔ وہ لاش تو بول نہیں سکتی، کسی کو تو کہنا ہی ہے،’میرا جسم ،میری مرضی۔‘
اگر یہ بے حیائی ہے تو یہ بے حیائی اس معاشرے کی ہے جو قبر میں پڑی لاش کو بھی اس لیے نہیں چھوڑتا کہ وہ ایک عورت کا مردہ ’جسم‘ ہے۔
اسی نعرے کا اثر ہے کہ آج عورتوں کے ان حقوق کی بات ہو رہی ہے جو مقدس کتابوں میں درج تو تھے لیکن حقیقت میں کبھی دیے نہ گئے تھے۔ وراثت کا حق، نان نفقے کا حق، مہر کا حق، مرضی سے شادی کا حق، بیوگی کی صورت میں دوسری شادی کا حق۔ ان سب حقوق پہ پہلے زبان ہی کون کھولتا تھا؟ دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کتنوں نے اپنی بیویوں کو نکاح کے فورا بعد حق مہر ادا کیا؟
ابھی تو ان حقوق کی مزید تشریحات ہوں گی ۔قبروں میں بے کفن دفنائی عورتیں سوال کریں گے، ابھی تو تیزاب سے جھلسی زندہ لاشیں بولیں گی، ابھی تو وہ ہاتھ جنہیں کاری کر کے کاٹ دیا گیا تمہارا گریبان تھامیں گے، ابھی تو وہ زبانیں جنہیں تم نے اپنی بد زبانی کے خنجر سے کاٹ دیا تھا پکاریں گی۔
ہر برس یہ پکار بلند سے بلند ہوتی جا ئے گی۔ کب تک حق غصب کرو گے؟ کب تک دشنام طرازی کرو گے؟ کب تک ہماری راہ روکو گے؟ ایک دن خود ہی تھک جاو گے، اپنے کیے پہ خود ہی شرمسار ہوں گے۔ اس دن تک ہمارا سفر جاری رہے گا، اس دن تک عورت مارچ جاری رہے گا ۔ وہ صبح کبھی تو آئے گی !
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker