اختصارئےلکھاریمحمد یوسف خان

محمد یوسف خان کا اختصاریہ :بکرا عید کا ایڈوانس کالم اور ایک خدشہ

پچھلے ہفتے میں گاؤں میں اپنے گھر بیٹھاہوا تھا کہ اس دوران خضر خان جس کاجانوروں کا بیوپاربھی ہے وہ آئے اور ایک درمیانے سے قد کا دنبہ بھی اپنے ساتھ لائے ۔ میں نے ویسے ہی پوچھ لیا کہ یہ کتنے میں خریدا ہے۔ تو انہوں نے بتایا کہ چالیس ہزار روپے کا خرید لایا ہوں ۔ یہ سنتے ہی میرا پارہ چڑھ گیا اور میں ان کو کوسنے لگا کہ یہ تو بہت مہنگا خرید لیا ہے اور اس سے نقصان ہی ہو گا فائدہ نہیں ۔وہ اپنی صفائیاں پیش کر نے لگے بلکہ مجھے سمجھانے لگے کہ یہ ابھی بچہ ہے اور یہ قربانی کے موقع پر ڈبل قیمت پر یعنی 75سے 80ہزار روپے میں فروخت ہو گا اور ویسے بھی ابھی قربانی میں 6ماہ سے زائد عرصہ پڑا ہے۔ لیکن میں اس کی قیمت سن کر بہت پریشان تھا بلکہ مجھے رات کو سہی طرح سے نیند بھی نہ آئی ۔
بہرحال صبح کو جب میں ناشتہ کر رہا تھا تو اسی دوران انہوں نے مجھے آواز دے کر باہر بلایا ۔جب میں باہر گیا تو وہاں پر ایک اور بیوپاری بھی موجود تھا جس کو میں پہلے سے جانتا تھا اور وہ رات والادرمیانی عمر کا دنبہ بھی کھڑا تھا ۔ انہوں نے میرے سامنے اس بیوپاری کو کہا کہ یہ دنبہ بیچنا ہے اور مجھے حیرت کا جھٹکا اس وقت لگا جب انہوں نے اس کی قیمت 50ہزار روپے مانگ لی اور کافی دیر بحث و مباحثہ کے بعد دوسرا بیوپاری 42ہزار روپے میں وہ دنبہ خرید کر لے گیا ۔ اس کے جانے کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ اب بتاؤ کہ کل آپ خوامخواہ میرے ساتھ غصہ ہو رہے تھے حالانکہ اب بھی مجھے اس سودے میں نقصان ہو ا ہے۔ میری حیرت اس وقت بڑھ گئی جب انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں ایک اور طریقہ چل نکلا ہے کہ جس کسی چرواہے کی بھیڑ حاملہ ہو اور آخری مہینہ چل رہا ہو تو بیوپاری اس چرواہے کو تھوڑی سی رقم ایڈوانس دے کر پابند کر لیتے ہیں کہ اگر چرواہے کی بھیڑ نے نر بچہ دیا تو 15ہزار روپے میں اور اگر مادہ بچہ دیا تو8سے 10ہزار روپے میں بیوپاری بقیہ رقم دے کر وہ بھیڑکا نومولود بچہ خرید جائے گا۔ جب میں واپس شہر اپنے گھر پہنچا تو وہاں میرا بھانجا احسن خان بھی آیا ہو اتھا سلام دعا وحال احوال کے بعد باتوں ہی باتوں میں جب میں نے اس دنبے کے بچے کا ذکر کیاتو احسن نے بتایا کہ ماموں جانوروں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے ہماری ایک گائے کہ جو عیب دار ہو گئی تھی اس کو ہم نے مبلغ 2لاکھ 70ہزار روپے میں فروخت کردیا ہے۔ احسن تو بھانے واپس چلا گیا مگر میں ابھی تک الجھن کا شکار ہو ں کہ ایک دیہاڑی دار یا تنخواہ دار بندہ کہ جس کی ماہانہ آمدنی ہی 30ہزار روپے تک ہو تو وہ اس مہنگائی کے دور میں کہ جب گھر کے اخراجات بھی پورے نہیں ہو تے ایسے حالات میں سنت ابراہیمی ؑ یعنی قربانی کا تصور بھی کیسے کر سکتا ہے۔ لگتا تو یہ ہے کہ بہت سے غریب مسلمان اس سال قربانی کے ثواب سے محروم رہیں گے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker