اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس دنیا میں بھیجا۔علم، سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے بے پناہ ترقی کی ہے۔ اقوام متحدہ کاقیام عمل میں آنے کے بعد دنیا بھر کے بیشتر ممالک نے اس ادارے کی رکنیت اختیار کرلی تواقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا ایک عالمی منشور مرتب کیا۔ اس منشور میں سرفہرست یہ تھا کہ سب انسان برابر ہیں۔ کسی انسان کو اس کے خاندان، قوم، ملک، رنگ، مذہب، جنس یا سیاسی مسلک کی بناء پر اس کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ہر انسان کو زندہ رہنے اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ نے چودہ صدیاں پہلے ہی اپنے خطبہ جحۃ الوداع میں انسانی حقوق اور دنیا میں امن کے عالمی منشور کا اعلان فرمایا۔ خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا ”اے لوگو بے شک تمہارا رب ایک ہے اورتم سب آدم ؑ کی اولا د ہو۔ یا د رکھو کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور اگر کسی کو فضیلت ہے تو صرف نیکی اور پرہیز گاری کی وجہ سے ہے۔ غلاموں کا خیال رکھو جو خود کھاؤ انہیں بھی کھلاؤ اور جو خود پہنو انہیں بھی پہناؤ“
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ترقی کی اعلی منازل طے کر نے کے بعد اقوام عالم انسانی حقوق کے جس مقام پر آج پہنچا ہے اسلام نے اس کی بنیاد چودہ صدیاں پہلے ہی رکھ دی تھی۔افسوس کہ ہمارے ملک میں لوگ اسلام کا نام تو لیتے ہیں مگر اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کر تے بلکہ ہم لوگ صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں لوگوں کی جان، مال اور عزت تک محفوظ نہیں ہیں۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارے ہاں بیٹی کو با پ کی وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے اور اس کا حق نہیں دیا جاتا۔ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے مگر آلودگی ہے کہ ختم ہو نے کا نا م ہی نہیں لیتی شہروں میں سیوریج کے مسائل بہت بڑھ گئے ہیں۔پینے کا صاف پانی نایاب ہو گیا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اسلام میں حرام ہے مگر تاجر ذخیرہ اندوزی سے بازی نہیں آتے۔ حال ہی میں گندم کی بوائی کا سیزن چل رہا تھا تو ڈی اے پی کھا د کی بوری جس طرح اصل قیمت کی بجائے بلیک میں فروخت کی گئی وہ سب کے سامنے ہے۔ علامہ اقبال کا شہر سیالکوٹ جوپہلے دنیا بھر میں عالمی معیار کا کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات اور چمڑے کی مصنوعات بنانے کے حوالے سے مشہور تھا۔
03دسمبر 2021ء بروز جمعۃ المبارک کے روز اس شہر میں گارمنٹس فیکٹر ی کے سری لنکن منیجر پریانتھا کماریا کی مشتعل ہجوم کے ہاتھوں موت اور اس کی نعش کو جلائے جانے کے واقعہ نے دنیا بھر میں نہ صرف پاکستان کی مثبت شناخت کو دھندلا دیا ہے بلکہ انسانیت بھی شرما گئی ہے اور سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ کیسے مسلمان ہیں جو کسی کی جان لینے میں ذرہ بھی دیر نہیں کر تے۔
فیس بک کمینٹ

