ملک میں جاری سیاسی بحران حل کرنے کے کئی راستے ہوسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ملک کے سیاسی قائدین نے تصادم، دشنام طرازی، دھمکیوں اور جوڑ توڑ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ طاقت کا محور اور منتخب وزیر اعظم کے ناتے عمران خان پر تحمل، بردباری اور تدبر کا مظاہرہ کرنے کی جو بھاری ذمہ داری عائد ہوتی تھی، وہ اسے پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔
ان سطور میں اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کے طریقہ کار کو مسترد کیا جا چکا ہے۔ ہم عرض کرتے رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے میں سال ڈیڑھ سال کی مدت باقی ہے۔ اس مدت کو سیاسی پنجہ آزمائی میں ضائع کرنے کی بجائے اپوزیشن پارٹیوں کی کوشش ہونی چاہیے تھی کہ وہ آئندہ برس منعقد ہونے والے انتخابات کے دوران اپنے سیاسی پروگرام میں ملکی مسائل حل کرنے کا ٹھوس اور واضح منصوبہ پیش کرتیں۔ تاکہ موجودہ حکومت اپنی مدت کے دوران جو کام کرنے میں ناکام رہی ہے اور جن کے بارے میں اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ بہتر سیاسی و معاشی حکمت عملی سے ان سے بہتر طور سے نمٹا جاسکتا تھا، ان کے بارے میں عوام کو تفصیلی آگاہی فراہم ہوتی۔ اور وہ مستقبل میں ’بہتر لیڈر‘ منتخب کرنے کی کوشش کرتے۔ اپوزیشن نے اس پہلو پر توجہ نہیں دی۔
اب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا چکی ہے۔ سیاسی مباحث میں اس طریقہ کار کے خلاف اور حمایت میں دلائل دیے جا سکتے ہیں لیکن اس طریقہ کار کی مسلمہ آئینی و قانونی یا پارلیمانی روایت کے حوالے سے حیثیت اور شاید ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پارلیمانی نظام حکومت کسی ایک پارٹی اور اس کے لیڈر پر ایوان کی اکثریت کے اعتماد پر استوار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے بعد خواہ کوئی پارٹی قومی اسمبلی میں واضح اکثریت ہی حاصل کیوں نہ کرچکی ہو، جب تک کوئی شخص اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرتا تو وہ قائد ایوان اور اس حیثیت میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا ۔یوں بھی پارلیمانی نظام میں کسی ایک فرد کو تمام اختیارات تفویض نہیں ہوتے بلکہ اسمبلی کے تمام ارکان عوامی رائے کے نمائندے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ حکمران جماعت اپنے منشور اور صوابدید کے مطابق ملکی معاملات چلانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے باوجود پارلیمنٹ کی اکثریت کو اعتماد میں لینے کے علاوہ عام طور سے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ بھی مناسب اور احترام کی بنیاد پر ’ورکنگ ریلیشن‘ استوار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پاکستان میں پارلیمانی طریقہ کار کے تحت معاملات چلانے کی کوئی کوشش مکمل طور سے کامیاب نہیں ہوئی۔ کیوں کہ ہر وزیر اعظم نے خود کو مطلق العنان حکمران کے منصب پر فائز سمجھنے کی غلطی کی اور حزب اختلاف کو ہر قیمت پر نیچا دکھانے یا عاجز کرنے کے طریقے اختیار کیے گئے۔ دیگر وجوہات کے علاوہ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ پاکستان میں کبھی پارلیمانی جمہوری نظام مکمل طور سے فعال اور کامیاب نہیں ہوسکا اور وقتاً فوقتاً مختلف عناصر کی طرف سے صدارتی نظام نافذ کرنے کی بات دہرائی جاتی رہی ہے۔
البتہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک پر فوجی حکومتوں کی صورتوں میں صدارتی نظام کا تجربہ کرنے کی مدت پارلیمانی نظام حکومت کے تحت کام کرنے کے عرصے سے زیادہ ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں آباد مختلف طبقوں اور مختلف علاقوں کے جائز مفادات کے تحفظ کے نقطہ نظر سے صدارتی نظام عوامی خواہشات کی تکمیل میں پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ صدارتی طریقہ کار کو خواہ کیسا ہی جمہوری بنا لیا جائے لیکن اس میں ایک شخص کو کامل اختیار حاصل ہو جاتے ہیں۔ اور پارلیمنٹ کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے صوبے ہمیشہ محرومی کا شکار رہتے ہیں۔
یہ علیحدہ بحث ہے کہ پاکستان میں کبھی کسی جمہوری صدارتی نظام کا تجربہ نہیں ہوا بلکہ ملک کو ہمیشہ فوجی حکمران کی صورت میں صدر نصیب ہوا جس نے خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے معاملات طے کیے اور اس سے بہتری کی بجائے خرابی کی صورت پیدا ہوئی۔ تاہم یہ دلیل قبول نہیں کی جا سکتی کہ ملک میں چونکہ کبھی کسی منظور شدہ آئینی انتظام کے تحت صدارتی نظام نافذ نہیں ہوا، اس لئے قوم اس کی خوبیاں نہیں سمیٹ سکی۔ اول تو ملک میں متفقہ طور سے منظور شدہ آئین کے تحت نظام حکومت چلایا جا رہا ہے جسے غیر پارلیمانی ہتھکنڈوں یا غیر جمہوری طریقوں سے ناکام بنانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔
یا وزارت عظمی کے عہدے ہر فائز ہونے والے کسی بھی شخص کی کامل اختیارات کی شدید ہوس نے صورت حال کو خراب کیا۔ موجودہ سیاسی منظر نامہ میں یہ دونوں صورتیں مکمل بد نمائی کے ساتھ عیاں ہو رہی ہیں۔ اس لئے بہتر ہوتا کہ تمام پارٹیاں اور سیاست دان مل کر ایک تو ملکی سیاست کو اسٹبلشمنٹ کے اثر و نفوذ سے نجات دلانے کی کوشش کرتے اور شدید ترین اختلافات کے باوجود اس ایک نکتہ پر اتفاق رائے پیدا کرتے تاکہ غیر منتخب ادارے سیاسی منظر نامہ میں بادشاہ گر کے طور پر نہ پہنچانے جاتے اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نظریہ کو عملی طور سے نافذ کرنے کا امکان پیدا ہوتا۔ دوسرے یہ کوشش کی جاتی کہ وزیر اعظم بننے والا شخص آزادی رائے اور جمہوری حقوق پامال کر کے اختیارات پر تصرف کی ناجائز صورت پیدا نہ کرے اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے ملک میں ہیجان پیدا نہ کیا جائے۔ اس وقت یہ دونوں خرابیاں بدرجہ اتم مشاہدہ کی جا سکتی ہیں۔
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ صورت حال شخصی اختیار کو مکمل طور سے حاصل کرنے کی ہوس اور اس عمل میں اسٹبلشمنٹ کو شریک بنانے کے طریقہ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ یعنی ملک کی سیاسی قوتیں مل کر غیر سیاسی یا غیر منتخب اداروں کو سیاست سے علیحدہ رکھنے کے اصول کو منوانے کی بجائے خود یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ ان غیر منتخب اداروں کی حمایت کو مخالف سیاسی قوتوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے ان کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا جائے۔موجودہ سیاسی ہیجان میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن پارٹیاں یکساں طور سے عسکری اداروں اور شخصیات کو اس کھینچا تانی کا حصہ بنانا چاہتی ہیں۔ فوجی ترجمان کے اس اعلان کے بعد بھی کہ فوج ملکی سیاست میں غیر جانبدار ہے، وزیر اعظم کی طرف سے غیر جانبداری کو ’غیر انسانی‘ صفت قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ اپوزیشن کا سارا زور اس نکتہ پر ہے کہ اگر اسٹبلشمنٹ ’نیوٹرل‘ رہی تو میدان اس کے ہاتھ رہے گا۔
ہر دو طرح کے موقف میں درحقیقت اسٹبلشمنٹ یا فوج کو فریق بنانے کی دبی ہوئی یا نمایاں خواہش کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس کا اظہار کبھی فواد چوہدری کے اس بیان سے ہوتا ہے کہ فوج ملک کی آئینی حکومت کی فریق ہوتی ہے اور کبھی اپوزیشن لیڈروں کے ان بیانات میں یہ خواہش محسوس کی جا سکتی ہے کہ اگر فوج نے مداخلت نہ کی تو عدم اعتماد کا نتیجہ ہمارے حق میں ہو گا۔آخر کیا وجہ ہے کہ حکمران اور حزب اختلاف کی جماعتیں مل بیٹھ کر یہ طے نہیں کرسکیں کہ اگر ملک کے سیاسی انتظام کے بارے میں پارلیمنٹ کو با اختیار بنا لیا جائے تو فوج کا سیاسی اثر از خود زائل ہو جائے گا۔ فوجی ادارے صرف اسی وقت سیاسی رسوخ استعمال کرتے ہیں جب فریقین باہمی تنازعہ میں انہیں استعمال کرنے کی خواہش پالتے ہیں۔ یہ خواہش ملکی سیاسی منظر نامہ میں ہر لحاظ سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعظم اپوزیشن کو چور اچکے قرار دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر چلنے پر آمادہ نہیں ہیں اور اپوزیشن ہر قیمت پر موجودہ حکومت کو اقتدار سے محروم کرنا چاہتی ہے۔
ایسے میں اس سوال سے انحراف ممکن نہیں ہے کہ کیا یہ واقعی ملکی مسائل حل کرنے کے بارے میں سیاسی طریقہ کار اور پالیسی کے اختلاف کی لڑائی ہے یا یہ بعض اداروں اور ان کے با اثر افراد کے اختیار کی خواہش کو سیاسی تصادم کے ذریعے طے کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں یہ ملک ایسی سیاسی ’پراکسی لڑائی‘ کا تجربہ کرچکا ہے اور اس کے منفی اثرات کی بھاری قیمت بھی ادا کی جا چکی ہے۔ ایسے میں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ اس پہلو سے ملک کے تمام سیاست دانوں نے یکساں طور سے عوامی مفادات، جمہوری حرمت اور آئینی تقاضوں کو نظر انداز کیا ہے۔
اس پیچیدہ اور مشکل بحث سے قطع نظر یہ جاننا اور تسلیم کرنا اہم ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی آئینی بنیاد اور جمہوری و پارلیمانی جواز موجود ہے۔ محض یہ تحریک پیش کرنے کی بنیاد پر عمران خان کا برافروختہ ہونا اور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف ہتک آمیز اور اشتعال انگیز عوامی مہم چلانا غیر ضروری اور بلاجواز ہے۔ ایک طرف اپوزیشن پر سازشوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ ملانے کے لئے عمران خان کسی بھی حد تک جانے کے لئے آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔اس کی ایک مثال ایک ایسے وقت میں پیٹرول کی قیمت کم کرنا تھا جب دنیا بھر میں یوکرائن پر روسی حملے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔ وزیر اعظم نے اپنی مقبولیت کے لئے یہ قدم اٹھاتے ہوئے اس کے دوررس معاشی، سیاسی اور سفارتی عواقب پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم یا بی اے پی اگر حکومت کا ساتھ دیں تو ان کے ’سات خون‘ معاف کرنے والا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور اگر اس حمایت سے محرومی کا امکان پیدا ہو تو دھمکیوں اور خطرناک نتائج کی وارننگ سنائی دیتی ہے۔ یہ جمہوریت یا ملکی مفاد کی لڑائی نہیں بلکہ ہوس اقتدار کا اظہار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے طرز عمل اور انداز گفتگو سے پاکستانی عوام کے مفادات کا کسٹوڈین بننے کی بجائے اپنے اختیار و اقتدار کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
ملک کے سب سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کا احترام لازم ہے۔ اختلاف کے اظہار کے لئے الزام تراشی اور غیر اخلاقی بیانات سے ملکی وقار کو نقصان پہنچتا ہے اور جمہوری عمل کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور سے جب خارجہ تعلقات کو عوامی جلسوں میں بیان کر کے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جائے گی تو کسی کو بھی اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ بعد میں اس نقصان کا آسانی سے ازالہ کر لیا جائے گا۔ پاکستانی عوام تو اپنے لیڈروں سے یہی گزارش کر سکتے ہیں کہ آپ سب قابل احترام ہیں۔ بس ملک اور اس کے عوام پر رحم کریں۔
(بشکریہ کاروان ناروے)

